Posts Tagged ‘نظم’

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا


میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
(اپنے خدا کے نام )
پروفیسر محمد عقیل

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
تیری دنیا میں کیا کیا ہے رنگیں سماں
یاں پہ چندا بھی ہے یاں پہ سورج بھی ہے
یاں پہ جھلمل ستاروں کا جھرمٹ بھی ہے
یہ تو دیکھا ہی تھا یہ تو پرکھا ہی تھا

کو پڑھنا جاری رکھیں

ممی پاپا کے لیے نظم

پروفیسر محمد عقیل کی دس سالہ بیٹی کی اپنے ممی پاپا کے لیے دعائیہ نظم

اریبہ نظم

بس ایک دفعہ بس ایک دفعہ۔۔۔۔


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یہ کوئی ۱۹۹۶ کی بات ہوگی جب میں نے آخری مرتبہ شاعری کی تھی۔ تقی امروہی صاحب خود ایک بڑے آدمی اور رئیس امروہی اور جون ایلیا جیسے بڑے شعرا کے بھائی تھے ۔ انہوں نے مجھے شاعری کرنے سے منع کردیا تھا کیونکہ میری شاعری تکنیکی اصولوں کے خلاف تھی۔چنانچہ میں نے شاعری چھوڑ دی۔ آج اٹھارہ سال بعد چند اشعار ملےجو کسی نامعلوم شاعر کے تھے۔ ان اشعار نے د ل کے تاروں کو اس طرح چھیڑا کہ میں رک نہ سکا ۔
یہ اٹھارہ سال بعد میں نے ایک نثریہ نظم کہنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اگر کوئی زبانی بیانی غلطی ہو تو معذرت کو پڑھنا جاری رکھیں