Posts Tagged ‘ڈیل کارنیگی’

پریشا ن ہونا چھوڑئیے -اصول نمبر 11۔ہماری سوچیں اور ہم


کیس اسٹڈی
وہ جب ہسپتال میں داخل ہوا تو بون میرو کے ذریعے پتا چلا کہ اسے آئی ٹی پی (Idiopathic thrombocytopenic purpura) کا مرض ہے۔ اس مرض میں دفاعی نظام خون میں موجود پلٹ لیٹس کو دشمن سیل سمجھ کر ختم کرنا شروع کردیتا ہےاور یوں جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد مناسب لیول سے کم رہتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جسم کے اندر اور باہر کہیں بھی خون بہنے کا امکان ہوتا ہے اور اگر چوٹ لگ جائے تو کو پڑھنا جاری رکھیں

پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔اصول نمبر8اٹل حقیقت کو تسلیم کرلیں


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۔8اٹل حقیقت کو تسلیم کرلیں
کیس اسٹڈی:
وہ آج بہت خوش تھا اور خوش کیوں نہ ہوتا۔ آج اسے برسوں پرانے سپنے کی تعبیر مل گئی تھی۔ وہ خوشی سے سرشار اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنی ماں سے لپٹ گیا۔
” امی! میں کامیاب ہوگیا۔ مجھے ائیر فورس میں پائلٹ کے طور پر منتخب کرلیا گیا ہے”۔
ماں اس کی بلائیں لینے لگی اور دعا دینے لگی۔ وہ ماں کو یہ خوشخبری دینے کے بعد بے چینی سے صبح کا انتظار کرنے لگا تاکہ جلد از جلد رپورٹ کرکے اپنی ڈیوٹی جوائین کرسکے۔ ابھی مغرب ہی ہوئی تھی اور اسے پوری رات کاٹنی تھی۔ اس نے سوچا کہ کل دفتر جانے کے لئے کچھ اچھے کپڑے خرید لے۔ چنانچہ وہ ایک دوست کے ساتھ بازار گیا کو پڑھنا جاری رکھیں

پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر6:۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیجئے۔


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۶۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیجئے
کیس اسٹڈی:
وہ جب آفس میں داخل ہوا تو بہت خوش تھا کیونکہ ترقی ہونے کے بعد یہ پہلا دن تھا۔ نیا کمرہ، گھومنے والی کرسی، گھنٹی پر حاضر ہونے والاچپراسی، ٹھنڈک والی مشین ، انٹرکام اور بہت کچھ اس کا منتظر تھا۔ وہ انہی خیالات میں کھویا دفتر میں داخل ہوا۔ وہ توقع کررہا تھا کہ اس کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ لیکن یہ کیا ؟ یہاں تو کچھ بھی نہ ہوا۔ سب لوگ اپنی سیٹ پر بیٹھے تھے اور کسی نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔ وہ کچھ دیر تو شش و پنج کے عالم میں کھڑا رہا لیکن جب کوئی رسپانس نہ ملا تو اپنے کمرے میں داخل ہوگیا۔ یہ وہی کمرہ تھا کو پڑھنا جاری رکھیں

۔پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔اصول نمبر۵:خود کو مصروف رکھیں


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۵۔خود کو مصروف رکھیں
کیس اسٹڈی:
"وہ بڑی افسردگی سے اپنی داستان الم دوست کو سنا رہا تھا۔اس نے ایک لمحے کے لئے توقف کیا اور پھر اپنی بات جاری رکھی۔” میرا ایک سات سالہ بیٹا اور پانچ سالہ بیٹی تھی ۔ ان سے میں بے حد محبت کرتا تھا۔ اچانک میری بیٹی کو ڈنگی بخار نے آلیا اور کچھ ہی عرصے وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ اس کی موت کے بعد اللہ نے ہمیں ایک اور بچی سے نوازا لیکن پانچ دنوں کے اندر وہ بھی چٹ پٹ ہوگئی۔یہ دونوں نقصان میرے لئے ناقابل تلافی اور ناقابل برداشت تھے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

پریشا ن ہونا چھوڑئے۔۔اصول نمبر 4 :مسئلہ حل کرنے کے اقدام کریں

پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۴۔مسئلہ حل کرنے کے اقدام کریں
کیس اسٹڈی:
” مرگی ایک ایسا مرض ہے جس میں مریض پر جب دورہ پڑتا ہے تو اس کے ہاتھ اور پاؤں مڑنے لگتے ہیں اور وہ زمین پر گر جاتا ہے۔ یہ کیفیت کچھ دیر تک برقرار رہتی ہے پھر اعضاء معمول کی پوزیشن پر آجاتے ہیں۔ آج سے سیکڑوں سال قبل اس مرض کے بارے میں ایک تھیوری پیش کی جاتی تھی۔وہ یہ تھی کہ اس مرض کی وجہ مریض کےاندر ایک بدروح کا داخل ہوجانا ہے۔ یہ بدروح مریض کے دماغ میں گھس کر اس کے ہاتھ پاؤں موڑ دیتی ہے۔ اس علاج یہ تھا کہ مریض کے سر میں ایک کیل ٹھونکی جاتی تھی تاکہ اس بدروح کو باہر آنے کا راستہ مل سکے۔ اس عمل سے بدروح نکل جاتی تھی اور مریض سکون میں آجاتا تھا۔ لیکن اس اخراج کے ساتھ ہی مریض کی اپنی روح بھی نکل جاتی اور یوں اسے نیک اور بد دونوں روحوں سے مکتی مل کو پڑھنا جاری رکھیں

پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر۳:پریشانیوں کے نقصانات پہچانیں

پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۳۔پریشانیوں کے نقصانات پہچانیں
کیس اسٹڈی:
” غزالی کو پریشان ہونے کی عادت ورثے میں ملی تھی۔ مالی اعتبار سے وہ اچھی پوزیشن میں تھا، تعلیم بھی مناسب تھی، گھر بار، ملازمت، اولاد، بیوی غرض وہ سب کچھ حاصل تھا جو ایک اچھی زندگی گذارنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہوجانا اس کی مستقل صفت بن چکی تھی۔کبھی اسے یہ اندیشہ ہوتا کہ ملازمت ختم ہوگئی کو پڑھنا جاری رکھیں

پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر۲: بدترین صورت حال کامقابلہ کریں


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۲۔بدترین صورت حال کامقابلہ کریں
کیس اسٹڈی:

” ولیم نیویارک میں پٹرول بیچنے کا کروبار کرتا تھا۔ اس کا کاروبار اپنے عروج پر تھا کہ وہ ایک بدترین سانحے سے دوچار ہوگیا۔اس وقت نیویارک میں جنگ کے قوانین نافذ تھے اور قانون کے تحت ولیم کی کمپنی محض انہی گاہکوں کو تیل فراہم کرنے پر پابند تھی جن کے پاس راشن کارڈ تھے۔لیکن ولیم بے خبر تھا کہ اس کی کمپنی کے ٹرک ڈرائیور گاہکوں کو کم مقدار میں تیل سپلائی کرکے کچھ تیل کو پڑھنا جاری رکھیں

پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر ۱:آج کے لئے زندہ رہیں


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر ۱۔آج کے لئے زندہ رہیں
کیس اسٹڈی:
” احمد چھٹی کی وجہ سے صبح دیر سے سوکر اٹھا ۔ باہر نکلا تو موسم بہت سہانا تھا ۔ ہلکی ہلکی بارش درخت کے پتوں کو غسل دے رہی تھی۔ مٹی سے اٹھنے والی مہک نے فضا کو مسحور کردیا تھا، بادلو ں کی گھن گرج ایک موسیقی بکھیرے دے رہی تھی۔ احمد کو یوں محسوس ہوا کہ گویا وہ جنت میں ہو ۔ اسے بہت اطمینان محسوس ہونے لگا۔ وہ مناظر میں اتنا گم ہوا کہ اپنے سارے غم بھلا بیٹھا۔ وہ اسی شو ق و مستی جذ ب و شوق کے عالم میں ایک گھنٹے تک بیٹھا رہا۔ اچانک اسے یاد آیا کہ کل اس کی دفتر میں ایک اہم میٹنگ ہے اگر اس میٹنگ میں بات بن گئی تو ایک بہت بڑا کانٹریکٹ مل جائے گا۔ وہ میٹنگ کی تیاری مکمل کرچکا تھا۔لیکن کو پڑھنا جاری رکھیں

پریشان ہونا چھوڑئیے۔ ایک تعارف


اگر آپ کو شدید بخار ہو تو دنیا کی تمام نعمتیں آپ کے لئے بے معنی ہوجاتی ہیں۔بہترین سے بہترین کھانا بے لذت اور مشروب بد ذائقہ لگنے لگتا ہے۔ ارد گرد کے حسین مناظر بدنما لگتے،پرکشش آسائشیں بے معنی ہوجاتیں اور تمام دلچسپیوں سے بے زاری ہوجاتی ہے۔ اگر بخار کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو اس سے کئی مزید جسمانی اور نفسیاتی بیماریاں جنم لیتی ہیں جو آپ کو کو پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: