Posts Tagged ‘Akhirat’

FINAL DESTINATION

This is really a distinguished feature of Islam that it is appealing to a less educated common man and to a well-educated scholar as well. Due to this fact, Islam is called Deen of nature/wisdom. For the purpose better explaining fundamental teaching of Islam, Mr. Abdul Rasheed Khan has compiled these Quranic Verses in a scientific manner so that the readers may go through the process of purification. These assets of Quranic Verses are organized according to significance of topics. This little book-let “FINAL DESTINATION” means acquiescence of Allah’s (s.w.t) own words. The in-depth study of this brief document would surely be beneficial to all of us Insha Allah.

Professor MUHAMMAD AQIL
Click here to download the booklet
FINAL DESTINATION

آگ اور تیل

محرومی اور ذلت کا سامنا کرنا انسانوں کے لیے ہمیشہ ایک اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے ۔یہ تجربہ اگر حال ہی میں پیش آئے تو اذیت کے ساتھ پچھتاو وں کی آگ بھی وجود انسانی کو جھلس دیتی ہے ۔اس آگ کی تپش اس وقت اور بڑ ھ جاتی ہے جب اپنے جانے پہنچانے لوگ اردگرد ہوں اور اپنی انگلیاں دانتوں میں دبائے نامرادی اور رسوائی کی اس جلتی پر شرمندگی و ندامت کا تیل ڈال رہے ہوں ۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے مجرموں کو جب ذلت و محرومی کا سامنا ہو گا تو اس کے ساتھ پچھتاوے اور ندامت کو بڑ ھانے والے سارے عناصر بھی اس موقع پر جمع کر دیے جائیں گے ۔ارشار باری تعالیٰ ہے :’’اور جس دن اللہ ان کو اکھٹا کرے گا وہ محسوس کریں گے کہ گویابس وہ دن کی ایک گھڑ ی(ہی دنیا میں ) رہے ۔ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے ۔‘‘، (یونس45:10)۔

اس آیت کا پہلا جملہ یہ بتا رہا ہے کہ نافرمان لوگ بروز قیامت ماضی میں گزری ہوئی زندگی کو ایسا محسوس کریں گے گویا شام قیامت سے قبل دن کی ایک گھڑ ی میں وہ دنیا میں رہے ۔صبح و شام کا یہ معاملہ انہیں پچھتاو وں کے ختم نہ ہونے والے عذاب میں مبتلا کر دے گا کہ کاش وقت کا پہیہ ذرا پیچھے گھومے اور وہ صبح زندگی میں لوٹ کر اپنے اعمال کو بہتر بنالیں ۔مگر یہ ممکن نہ ہو گا اور ماضی بعید ماضی قریب بن کر ان کے عذابوں میں اضافہ کرتا رہے گا۔

ان کا دوسرا عذاب یہ ہو گا کہ نامرادی اور ذلت کے ان لمحات کے گواہ ان کے جانے پہنچانے سارے لوگ ہوں گے ۔لوگ انہیں پہنچانتے ہوں گے اور وہ لوگوں کو۔یوں ذلت کی قبا اوڑ ھے ان لوگوں کودیکھنے والی ہزاروں محرم نگاہیں میدان حشر میں ہوں گی جو قبائے ذلت میں جابجا ندامت کے پیوند لگا رہی ہوں گی۔

کیسی عجیب ہے قیامت کی نامرادی اورکیسی شدید ہے اس روز کی رسوائی۔

By Rehan Ahmend Yousufi

قبر کا فقیر


پچھلے دنوں مجھے یکے بعد دیگرے دو جنازوں میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔ پہلا جنازہ ایک بہت صاحب حیثیت شخص کا تھا۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے زندگی میں مادی اعتبار سے غیر معمولی کامیابیاں عطا فرمائی تھیں ۔ وہ اپنے پیچھے بہت بڑ ا کاروبار اور وسیع وعریض گھر چھوڑ گئے تھے ۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری، بچوں کی خوشیاں دیکھیں اور اپنی طبعی عمر پوری کر کے اس دنیا کو پڑھنا جاری رکھیں

دیوالیہ(پروفیسر محمد عقیل)


ماہِ اکتوبر میں ایک افواہ گردش کررہی تھی کہ چندبڑے بینک دیوالیہ ہوگئے ہیں۔ بعدازاں حکومتی عہدیداروں نے اس کی تردیدکردی۔چونکہ میراتعلق بزنس ایجوکیشن کے شعبے سے ہے اس لیے اکثردوست پوچھنے لگے کہ یہ بینک دیوالیہ کیوں ہوتے ہیں؟درحقیقت تجارتی بینک عوام سے ان کی رقومات (Deposits)وصول کرکے مختلف اکاؤنٹس(Accounts)میں جمع رکھتے ہیں۔ان جمع شدہ رقومات کوبینک آگے قرضے کی شکل میں فراہم کرتے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

حادثہ(پروفیسر محمد عقیل)


مئی2008ء ؁بروزجمعرات میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔میں اپنے گھرکے قریب بینک گیااورکم وبیش10’000روپے کی رقم نکلوائی۔پھرمیں اپنی گاڑی میں بیٹھ کرگھرکی جانب روانہ ہواجوکہ قریب ہی تھا۔راستہ میں گاڑی روکی اورایک حجام سے علیک سلیک کی اس کے بعدگھرکے سامنے گاڑی پارک کی ۔جونہی میں گاڑی سے اتراتودیکھاکہ دولڑکے اسکوٹرروک کر کھڑے ہوئے ہیں ان میں سے ایک شخص نے ٹی ٹی پستول لوڈکی کو پڑھنا جاری رکھیں

سنجیدگی(پروفیسر محمد عقیل)


’’ایک ماں نے کہا:کاش میرابیٹانوٹوں سے کھیلے،تووہ کیشئیر(Cashier)بن گیا۔دوسری ماں نے کہا کہ کاش میرے بیٹے کے اشاروں پردنیاناچے تووہ ٹریفک کانسٹیبل بن گیا۔کسی اورماں نے کہاکہ کاش میرابیٹاہروقت ہنستارہے ،وہ پاگل ہوگیا۔‘‘ اس لطیفے میں ایک پیغام پوشیدہ ہے وہ یہ کہ ہروقت ہنستے رہناغیرسنجیدگی کی علامت ہے۔اوراگریہ غیرسنجیدگی دائمی ہوجائے توعقل معطل ہوجاتی ہے۔یہاں تک کہ انسان پاگل قرارپاتاہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

خدائی عدالت(پروفیسر محمد عقیل)


حضرت نوح علیہ السلام نے کم وبیش نوسوسال اپنی قوم کوتبلیغ کی۔انہوں نے اپنی قوم کودن کے اجالے میں بھی پکارا اور رات کی تاریکی میں بھی بلایا۔لیکن قوم نے ان کی بات نہ سنی اورانکی تعلیمات کا انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام مایوس ہوکرخداسے دعاگو ہوئے۔جس کاخلاصہ یہ ہے: کو پڑھنا جاری رکھیں

ہزاروں خواہشیں ایسی(پروفیسر محمد عقیل)


معاشیات میں ایک قانون ہے’’قانون تقلیل افادہ مختتم‘‘یعنیLaw of Diminishing Marginal Utility۔اس کااگرسادہ الفاظ میں ترجمہ کیا جائے تو یہ مارجنل یوٹلٹی(Marginal Utility)کے کم ہونے کاقانون ہے۔یہ قانون بیان کرتاہے کہ کسی شے استعمال میں اضافہ کیاجائے کو پڑھنا جاری رکھیں

ہٹلرخداکے حضور(پروفیسر محمد عقیل)


ایڈولف ہٹلر(Adolf Hitler)20اپریل1889میں آسٹریاکے قصبے برینو (Brainue) میں پیداہوا۔اس کاباپ آلیوس(Alios)ایک کسٹم افسرتھا۔ہٹلرکی ماں کلارااپنے شوہرکی تیسری بیوی تھی۔ آلیوس انتہائی سخت مزاج اورپرتشددباپ ثابت ہوا۔ہٹلراکثراس کے ہاتھوں جسمانی تشدد کاشکاربنتا۔وہ ہٹلرکوسول سروس میں لاناچاہتاتھاجبکہ ہٹلرآرٹ میں دلچسپی رکھتاتھا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

تصور آخرت(پروفیسر محمد عقیل)


دنیا کی یہ ساٹھ ستر سالہ زندگی ایک مختصر اور عارضی عرصہ ہے ،جبکہ دائمی زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔اس زندگی کا مسکن یا تو جنت کا باغ ہے یا جہنم گڑھا۔موت کے بعد اس ابدی زندگی کو ’آخرت‘ کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ تصور آخرت کیا ہے؟ اس کی مختصر سی تفصیل یوں ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ دنیا ایک باارادہ مخلوق سے آباد کی تاکہ وہ ان پاکیزہ روحوں کا انتخاب کر سکے کو پڑھنا جاری رکھیں