Posts Tagged ‘Allah’

اے خدا ترے بنا۔۔۔


اے خدا ترے بنا۔۔۔
اے میرے رب!اےمیرے خدا!تیرے بنا زندگی موت سے بھی بد تر ہے۔ تیرے بنا چاند کی روشنی تیرگی، سورج کی کرنیں بے نور، تاروں کی چھاؤں معدوم ، آسمان کی وسعت ایک تنگ گلی اور نیلگوں آسماں ایک سیاہ چادرہے۔ تیرے بغیر پرندوں کی چہچہاہٹ ایک بے ہنگم شور، پھولوں کی مہک بے کیف بو ، کو پڑھنا جاری رکھیں

امتحان میں دعا کیوں؟


اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جب ہم نے محنت کرلی تو پھر اللہ سے دعا کی کیا ضرورت ہے ۔ جب ہم نے دن رات جاگ کر محنت کی ، سبجیکٹ پر عبور حاصل کرلیا، اس کے ہر ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لے لیا تو پھر دعا نے کیا کرنا ہے۔ دوسری جانب ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ ہم تو دعاؤں سے کامیاب ہوجائیں گے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

اللہ تعالی کی اسکیم سے متعلق کچھ سوالات

السلام علیکم
آپ یہ کہتے ہیں کہ انسان کا خدا سے عالم ارواح میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ آپ نے لکھا ہے کہ یہ معاہدہ انسان کی آزادانہ مرضی سے ہوا تھا۔ اس کے لیے آپ ڈیلی لائف سے ثبوت بھی دیتے ہیں۔ اس سے یہ لگتا ہے کہ یہ ایمان بالغیب کی قسم کی چیز ہے۔ یہ معاہدہ مجھے بہت کنفیوژن میں ڈال رہا ہے اور یہ مائتھالوجی لگ رہی ہے۔ اس پر کچھ سوالات ہیں:
۱۔ ہمارے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے کہ ہم نے یہ معاہدہ کیا ہے؟
۲۔ کیا قیامت تک پیدا ہونے والے ہر آدمی کی روح وہاں موجود تھی یا جب پیدا ہوا تھا کو پڑھنا جاری رکھیں

میں نے اللہ سے کہہ دیا ہے


گلی میں کھیلنے والے بچوں کو وہ بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا۔اس نے دیکھا کہ ایک بچے نے دوسرے بچے کو مارا تو مار کھانے والا روتا ہوا اپنے گھر کی طرف بھاگا لیکن تھوڑی ہی دیر میں پھر آ موجود ہوا۔ اب اس کے چہرے پر حد درجہ اطمینان تھا۔ جس بچے سے اس کی لڑائی ہوئی تھی، اس کو اس نے کہا ” میں نے اپنی ماما سے کہہ دیا ہے ”اور یہ کہہ کر وہ دوبارہ کھیل میں شامل ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس بچے کو حد درجہ اطمینان کس چیز نے دیا ہے ۔اس کی ‘ماما’ نہ تو موقع پرآئی ہے ، نہ ا کو پڑھنا جاری رکھیں

وجود باری تعالیٰ- کچھ سوالات


اس دفعہ کی ملاقات میں قارئین کی خدمت میں ایک انتہائی اہم مسئلے کے حوالے لکھے گئے دو ای میل پیش ہیں ۔ یہ ای میل جرمنی میں مقیم ایک دوست کے ای میلز کے جواب میں لکھے گئے ۔ یہ دوست موجودہ دور کی الحادی فکر پر کافی کام کر رہے ہیں ۔ میں نے ان ای میلزمیں ان سوالات کے کچھ جوابات دیے ہیں جن کو بنیاد بنا کر وجود باری تعالیٰ کا انکار کیا جاتا ہے ۔یہ ای میل آپ کو پڑھنا جاری رکھیں

خدا کی ذات پر ایقان کر کے دیکھتے ہیں


ہماے ہاں چھوٹے بچوں کو چلنا سکھانے کے لیے ایک خاص طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ اس طریقے کے مطابق جب بچہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اپنی ٹانگوں پر کھڑ ا ہو سکے تو ہم اسے دیوار کے سہارے کھڑ ا کر دیتے ہیں ۔ پھر اس سے ذرا دور ہٹ کر دونوں ہاتھ اس کی طرف پھیلا کر اسے اپنی طرف بلاتے ہیں ۔ بچے کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ ہم اسے گود میں لے لیں ۔ لہٰذا وہ یہ سمجھ کر کہ ہم اسے گو د میں لینا چاہتے ہیں ، اپنا سہارا یعنی وہ دیوار جس سے ٹیک لگا کر وہ کھڑ ا ہوتا ہے ، چھوڑ دیتا ہے اور ہماری طرف بڑ ھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کوشش میں اس کے نو آموز قدم لڑ کھڑ اتے ہیں ۔ لیکن ہم تک پہنچنے کی خواہش میں وہ ایک کے بعد دوسرا قدم کو پڑھنا جاری رکھیں

میں وہی ہوں مومن مبتلا


ایک صاحب کا معمول تھا کہ عام حالات میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کرتے کہ پروردگار مجھے اس وقت کوئی غم کوئی پریشانی نہیں ۔ میں نہ بیمار ہوں اور نہ تنگدست۔ یہ وہ حال ہے جس میں اکثر لوگ تجھے بھو ل جاتے ہیں ۔ مگر میرے مولیٰ میں اس حال میں بھی تجھے یاد رکھے ہوئے ہوں اور کسی بیمار اور پریشان حال شخص سے بڑ ھ کرتجھے پکارتا ہوں اور تیری تعریف، تسبیح اور شکر کرتا ہوں ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

خدا نظر کیوں نہیں آتا؟ ازمبشر نذیر


سوال: اس دنیا میں خدا نظر کیوں نہیں آتا؟ ایسا بھی تو ہو سکتا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھتے اور وہ ہماری باتوں کا جواب دیتا؟

جواب: اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کی زندگی کے طور پر نہیں بنایا۔ یہ چند سالہ زندگی امتحان کے طور پر ہے جس میں کامیابی کی صورت کو پڑھنا جاری رکھیں

فلسفہء تسبیح و تحمید (پروفیسر محمد عقیل)

اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ اور انکے ماننے والوں کو حکم دیا ہے کہ وہ صبح و شام اپنے رب کی پاکی (تسبیح )اور تعریف(حمد) بیان کرتے رہیں(طہٰ:۲۰:۱۳۰)۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تسبیح و تحمید کا مفہوم، غایت اور طریقہ کیا ہے؟ اگر تسبیح کی بات کریں تو تسبیح قول سے بھی ہوتی ہے اور فعل سے بھی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

بادشاہ(پروفیسر محمد عقیل)


دربار لگا ہوا ہے۔ بادشاہ اپنے تمام تر جاہ و جلال کے ساتھ تخت پر براجمان ہے۔ سب درباری ادب سے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ قاری صاحب قرا ء ت کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ اجازت دے دی گئی۔ قاری نے تلاوت شروع کی، یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچ گئے:
لمن الملک الیوم۔ لللّٰہ الواحد القھار۔
’’آج (یعنی قیامت کے دن) حکومت کس کی ہے؟ اللہ کی جو واحد اور قہّار ہے۔‘‘ کو پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: