Posts Tagged ‘Professor Muhammad Aqil’

اندر کے جانور

"کیا تم نے جانور کو دیکھا ہے”؟ بابا نے اپنے حامد سے سوال کیا۔
” جی ، جی ، کئی مرتبہ دیکھا ہے ، لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ "حامد نے جواب دیا ۔
” اچھا ! تم نے کبھی اپنے اندر کے جانور کو دیکھا ہے؟”۔ بابا نے اس کا سوال
نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور سوال کردیا۔
کو پڑھنا جاری رکھیں

اسلامک اسٹڈیز پروگرام


اسلامک اسٹڈیز پروگرام اسلامی علوم کی تعلیم کا ایک جدید آن لائن نظام ہےجس کا مقصد فرقہ واریت اور تشدد سے پاک ایسے اہل علم تیار کرنے میں مدد دینا ہے، جو دین کی دعوت کو اگلی نسلوں تک پہنچا سکیں۔ اس کی خصوصیات یہ ہیں:
• عوام الناس، داعی اور علما ء کے لئے اسلامی تعلیم کا جامع نصاب
• ہر طالب علم پر استاد کی انفرادی توجہ
• ہر سوال کا انفرادی سطح پر جواب
• تزکیہ نفس اور تعمیر شخصیت پر خصوصی توجہ
• درس نظامی کے طلبا کے لیے نصاب کی تفہیم میں اضافی مدد
• جدید تعلیم یافتہ افرادکی کی ذہنی سطح کے مطابق خصوصی کورسز
• ہر قسم کی فرقہ بندی سے ماورا مطالعے کا نظام
• امت مسلمہ کو یکجا کرنے کی ایک کاوش
• بلامعاوضہ تعلیم و تدریس
اگر آپ بھی ہمارے پروگرام سے دلچسپی رکھتے ہیں اور گھر بیٹھے دین کا علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آج ہی اپنی پسند کے درج ذیل کورسز میں داخلہ لیجیے:
• عربی زبان
کو پڑھنا جاری رکھیں

آگ اور تیل

محرومی اور ذلت کا سامنا کرنا انسانوں کے لیے ہمیشہ ایک اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے ۔یہ تجربہ اگر حال ہی میں پیش آئے تو اذیت کے ساتھ پچھتاو وں کی آگ بھی وجود انسانی کو جھلس دیتی ہے ۔اس آگ کی تپش اس وقت اور بڑ ھ جاتی ہے جب اپنے جانے پہنچانے لوگ اردگرد ہوں اور اپنی انگلیاں دانتوں میں دبائے نامرادی اور رسوائی کی اس جلتی پر شرمندگی و ندامت کا تیل ڈال رہے ہوں ۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے مجرموں کو جب ذلت و محرومی کا سامنا ہو گا تو اس کے ساتھ پچھتاوے اور ندامت کو بڑ ھانے والے سارے عناصر بھی اس موقع پر جمع کر دیے جائیں گے ۔ارشار باری تعالیٰ ہے :’’اور جس دن اللہ ان کو اکھٹا کرے گا وہ محسوس کریں گے کہ گویابس وہ دن کی ایک گھڑ ی(ہی دنیا میں ) رہے ۔ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے ۔‘‘، (یونس45:10)۔

اس آیت کا پہلا جملہ یہ بتا رہا ہے کہ نافرمان لوگ بروز قیامت ماضی میں گزری ہوئی زندگی کو ایسا محسوس کریں گے گویا شام قیامت سے قبل دن کی ایک گھڑ ی میں وہ دنیا میں رہے ۔صبح و شام کا یہ معاملہ انہیں پچھتاو وں کے ختم نہ ہونے والے عذاب میں مبتلا کر دے گا کہ کاش وقت کا پہیہ ذرا پیچھے گھومے اور وہ صبح زندگی میں لوٹ کر اپنے اعمال کو بہتر بنالیں ۔مگر یہ ممکن نہ ہو گا اور ماضی بعید ماضی قریب بن کر ان کے عذابوں میں اضافہ کرتا رہے گا۔

ان کا دوسرا عذاب یہ ہو گا کہ نامرادی اور ذلت کے ان لمحات کے گواہ ان کے جانے پہنچانے سارے لوگ ہوں گے ۔لوگ انہیں پہنچانتے ہوں گے اور وہ لوگوں کو۔یوں ذلت کی قبا اوڑ ھے ان لوگوں کودیکھنے والی ہزاروں محرم نگاہیں میدان حشر میں ہوں گی جو قبائے ذلت میں جابجا ندامت کے پیوند لگا رہی ہوں گی۔

کیسی عجیب ہے قیامت کی نامرادی اورکیسی شدید ہے اس روز کی رسوائی۔

By Rehan Ahmend Yousufi

مال اور کمزور


حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں قارون نام کا ایک بہت بڑا مالدار شخص تھا۔سورہ قصص میں بیان ہوا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اتنے خزانے عطا کررکھے تھے کہ ان کی کنجیاں اٹھانا ہی آدمیوں کی ایک جماعت کے لیے بہت بھاری بوجھ تھا۔مگر ان نعمتوں پر شکر گزاری کے بجائے فخر وغرور اور نمائش ودکھاوا اس کا معمول تھا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ یہ مال اسے اس کی علم و صلاحیت کی کو پڑھنا جاری رکھیں

میں نے اللہ سے کہہ دیا ہے


گلی میں کھیلنے والے بچوں کو وہ بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا۔اس نے دیکھا کہ ایک بچے نے دوسرے بچے کو مارا تو مار کھانے والا روتا ہوا اپنے گھر کی طرف بھاگا لیکن تھوڑی ہی دیر میں پھر آ موجود ہوا۔ اب اس کے چہرے پر حد درجہ اطمینان تھا۔ جس بچے سے اس کی لڑائی ہوئی تھی، اس کو اس نے کہا ” میں نے اپنی ماما سے کہہ دیا ہے ”اور یہ کہہ کر وہ دوبارہ کھیل میں شامل ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس بچے کو حد درجہ اطمینان کس چیز نے دیا ہے ۔اس کی ‘ماما’ نہ تو موقع پرآئی ہے ، نہ ا کو پڑھنا جاری رکھیں

وجود باری تعالیٰ- کچھ سوالات


اس دفعہ کی ملاقات میں قارئین کی خدمت میں ایک انتہائی اہم مسئلے کے حوالے لکھے گئے دو ای میل پیش ہیں ۔ یہ ای میل جرمنی میں مقیم ایک دوست کے ای میلز کے جواب میں لکھے گئے ۔ یہ دوست موجودہ دور کی الحادی فکر پر کافی کام کر رہے ہیں ۔ میں نے ان ای میلزمیں ان سوالات کے کچھ جوابات دیے ہیں جن کو بنیاد بنا کر وجود باری تعالیٰ کا انکار کیا جاتا ہے ۔یہ ای میل آپ کو پڑھنا جاری رکھیں

بلاگ کا تعارف


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
یہ بلاگ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ڈاکٹرمحمد عقیل کا ہے۔ اس تحریر کا مقصد مصنف کا تعارف اور بلاگ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالنا ہے تاکہ پڑھنے والو ں کے ذہن میں پس منظر واضح رہے۔
مصنف کا تعارف: کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا میں دنیا میں مرضی سے آیا ہوں؟(ایک دلچسپ افسانہ)


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بارش تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ انور اپنے ٹین کی چھت والے مکان میں دبکا بیٹھا تھا۔ اسکی گود میں چھ ما ہ بچہ اور برابر میں بخار میں تپتی ہوئی اس کی بیوی صفیہ۔
"بارش کب بند ہوگی؟’
صفیہ نے کراہتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
"مجھے نہیں پتا، پر میں باہر جاکر دیکھتا ہوں”۔ کو پڑھنا جاری رکھیں