Posts Tagged ‘tension’

پریشا ن ہونا چھوڑئیے -اصول نمبر 11۔ہماری سوچیں اور ہم


کیس اسٹڈی
وہ جب ہسپتال میں داخل ہوا تو بون میرو کے ذریعے پتا چلا کہ اسے آئی ٹی پی (Idiopathic thrombocytopenic purpura) کا مرض ہے۔ اس مرض میں دفاعی نظام خون میں موجود پلٹ لیٹس کو دشمن سیل سمجھ کر ختم کرنا شروع کردیتا ہےاور یوں جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد مناسب لیول سے کم رہتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جسم کے اندر اور باہر کہیں بھی خون بہنے کا امکان ہوتا ہے اور اگر چوٹ لگ جائے تو کو پڑھنا جاری رکھیں

پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر6:۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیجئے۔


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۶۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیجئے
کیس اسٹڈی:
وہ جب آفس میں داخل ہوا تو بہت خوش تھا کیونکہ ترقی ہونے کے بعد یہ پہلا دن تھا۔ نیا کمرہ، گھومنے والی کرسی، گھنٹی پر حاضر ہونے والاچپراسی، ٹھنڈک والی مشین ، انٹرکام اور بہت کچھ اس کا منتظر تھا۔ وہ انہی خیالات میں کھویا دفتر میں داخل ہوا۔ وہ توقع کررہا تھا کہ اس کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ لیکن یہ کیا ؟ یہاں تو کچھ بھی نہ ہوا۔ سب لوگ اپنی سیٹ پر بیٹھے تھے اور کسی نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔ وہ کچھ دیر تو شش و پنج کے عالم میں کھڑا رہا لیکن جب کوئی رسپانس نہ ملا تو اپنے کمرے میں داخل ہوگیا۔ یہ وہی کمرہ تھا کو پڑھنا جاری رکھیں

۔پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔اصول نمبر۵:خود کو مصروف رکھیں


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۵۔خود کو مصروف رکھیں
کیس اسٹڈی:
"وہ بڑی افسردگی سے اپنی داستان الم دوست کو سنا رہا تھا۔اس نے ایک لمحے کے لئے توقف کیا اور پھر اپنی بات جاری رکھی۔” میرا ایک سات سالہ بیٹا اور پانچ سالہ بیٹی تھی ۔ ان سے میں بے حد محبت کرتا تھا۔ اچانک میری بیٹی کو ڈنگی بخار نے آلیا اور کچھ ہی عرصے وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ اس کی موت کے بعد اللہ نے ہمیں ایک اور بچی سے نوازا لیکن پانچ دنوں کے اندر وہ بھی چٹ پٹ ہوگئی۔یہ دونوں نقصان میرے لئے ناقابل تلافی اور ناقابل برداشت تھے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ٹینشن


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وہ تپتی دھوپ میں چلتا جارہا تھا۔ حلق کانٹوں سے سوکھ رہا تھا ۔ نیچے ریت کا سمند ر گرم ہوا کی موجیں اچھا ل رہا تھا اور اوپرآسمان آگ کے اولے برسائے دے رہا تھا۔ وہ اپنا بدن کسی مستقر کی تلاش میں جھلسا ئے دےرہا تھا لیکن کوئی ٹھکانا سامنے نہ تھا۔ دور ایک کتا نظر آیا جو گرمی سے بچنے کے لئے ایک تنگ سے غار میں گھسنے کی کوشش کرہاتھا ۔ اس کا دل چاہا کہ وہ بھی کتا بن جائے کو پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: