کیا اللہ کسی نفس کو اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ دیتا ہے؟


آج کل کے حالات میں جب لاکھوں لوگ کرونا کی وبا کا شکار ہوچکے اور ہزاروں موت کے منہ میں پہنچ گئے تو لوگ خدا کی ذات پر کئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان میں ایک سوال اس آیت کے متعلق بھی ہے جو سورہ بقر ہ کی آخری آیت ہے ۔
پڑھنا جاری رکھیں

کرونا وائرس-نیچر کا انتقام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
درسگاہیں بند ، سوشل تقریبات معدوم ، عباداتی مراکز خالی، سڑکیں سنسان اور بازار ویران غرض ہر طرف ہو کا عالم ہے۔ لوگ ہاتھ ملانے سے گریزاں اور ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہیں۔عوام تو عوام ، سربراہان مملکت گوشہ نشین پڑھنا جاری رکھیں

کرونا وائرس ۔خدا کہاں ہے؟


اگر خدا ہے تو کرونا وائرس کیوں آیا؟ وہ تو سراپا خیر ہے تو پھر یہ شر اس نے کیوں پیدا کیا کہ انسان پریشان پھر رہے ہیں؟ کروڑوں لوگ خوف میں بیٹھے ہیں اور خدا کو کوئی پروا ہی نہیں؟ اگر یہ سب کچھ نیچر کے قوانین ہی نے کرنا ہے اور اس کا علاج عالم اسباب ہی میں دریافت ہونا ہے تو خدا کی کیا ضرورت؟ یہ و ہ چند سوالات ہیں جو جدید ذہن میں مستقل پیدا ہورہے ہیں ۔
یہ وہ سوال ہے جو بالعموم مذہبی ذہنوں میں گونجتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

کرونا وائرس: کیا کیا جائے؟


نیچر کے مادی قوانین پر تو سائنس دان تحقیق کرہی رہے ہیں اور جلد یا بدیر اس بیماری کا علاج دنیا میں آجائے گا۔ اصل مسئلہ اس کا علاج نہیں بلکہ ان غیر مادی و اخلاقی قوانین کو ایڈریس کرنا ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہیں ۔ ان پر ریسرچ کرنا درحقیقت اہل مذہب اور سماجی اسکالرز کی ذمہ داری ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا کرونا ایک وارننگ ہے؟


کیا کرونا وائرس کی عالمی وبا بھی نیچر کا کوئی ری ایکشن ہے؟کیا یہ نیچر کی کوئی وارننگ ہے؟ اگر ہاں تو انسان سے ایسی کون سی غلطی ہوئی کہ نیچر نے اتنا شدید رد عمل دکھایا؟ اس سوال کا جواب ہمیں تاریخ میں وا ضح طور پر نظر آتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرارہی ہے پڑھنا جاری رکھیں

کرونا وائرس اور نیچر کے قوانین


ہم جانتے ہیں کہ نیچر یا قدرت فزکس، کیمسٹری ، بائیلوجی اور دیگر مادی قوانین پر کھڑی ہے اور یہ تمام قوانین بیلنس یا توازن کے اصول پر قائم ہیں۔ جب بھی انسان ان قوانین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو نیچر ری ایکٹ کرکے اس کا رسپانس دیتی ہے۔ مثلا کوئی اگر کشش ثقل کے اصول کا خیال نہ کرے پڑھنا جاری رکھیں

کرونا،خدا اور نیچر


مولانا وحیدالدین خان نے ایک واقعہ نقل کیا کہ کچھ لوگ غار ثور کی زیارت کو گئے۔ فجر کا وقت تھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عقیدت میں ننگے پاؤں اس کی زیارت کریں گے۔ وہ وہاں پہنچ تو گئے لیکن واپسی میں تیز دھوپ نکل آئی اور ان کے لیے ننگے پاؤں چلنا دو بھر ہوگیا۔ کچھ کے پاؤں بری طرح جل پڑھنا جاری رکھیں

%d bloggers like this: