قربانی آج کے دور میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 انسان کی تاریخ کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا پتھر کا زمانہ، دوسرا زرعی دور، تیسرا انڈسٹریل ایج اور چوتھا انفارمیشن ایج۔ جب انسان نے پتھر کے دور سے زرعی ایج(Agriculture Age)  میں قدم رکھا تو  اس زرعی دور کی بنیاد دو اہم ستونوں  پر تھی۔ ایک زمین پر کاشتکاری کے ذریعے  غذا حاصل کرنے کا فن  اور دوسرا مویشی یعنی پالتو جانوروں کو نشونما دے کر  غذا اور سواری کا بندوبست کرنے کا ہنر۔ مویشی جن میں گائے،  بکری ، مرغی ، اونٹ ، بھیڑ وغیرہ شامل تھیں ، ان کے ذریعے دودھ، انڈے اور گوشت  حاصل کیا جاتا تھا ۔ دوسری جانب   بیل، گائے، اونٹ، گھوڑے، گدھے، خچر وغیرہ    جیسے طاقتور  مویشیوں کو سواری  ، کھیتی باڑی اور اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔ یوں بالواسطہ طور پر دولت زرعی معاشرے میں سونا، چاندی ، دینار یا کاغذ کی کرنسی کی بجائے ان مویشیوں اور اناج کی صورت میں ذخیرہ ہوتی تھی ۔ جس کے پاس زیادہ زمینیں ، فصل یا  مویشی کثرت سے  ہوتے تھے وہی اس معاشرے میں ایک امیر اور شان و شوکت والا  شخص کہلاتا تھا۔ اس کی  ایک مثال حضرت ایوب علیہ السلام کی ہے جن کے بارے میں بائبل  کتاب ایوب میں مذکور ہے کہ  حضرت ایوب سات ہزار بھیڑوں  تین ہزار اونٹوں  پانچ سو جوڑے  بیلوں  اور پانچ سو گدھیوں  کے  مالک تھے۔ ان کے  پاس بہت سے  خادم تھے۔ ایوب مشرق کے سب سے  زیادہ دولتمند شخص تھے۔

انسانی تاریخ کی   سب سے پہلی  مذہبی قربانی کا ذکر ہابیل اور قابیل کی داستان کی صورت میں ملتا ہے جو بائبل اور قرآن دونوں میں مذکور ہے۔ ہابیل قربانی کے لیے پہلوٹھی کی بھیڑ لایا اور قابیل کچھ اناج لے کر آیا۔اس سے علم ہوتا ہے کہ قربانی کا یہ واقعہ زرعی دورکی ابتدا  میں پیش آیا جب انسان مویشی اور اناج کا استعمال سیکھ چکا تھا۔  ہابیل کی قربانی اس کی نیت میں اخلاص بنا پر قبول ہوئی اور قابیل کی قربانی رد ہوگئی۔ قربانی کی قبولیت اس بنا پر نہیں تھی  کہ بھیڑ خدا کے نزدیک کوئی مقبول شے اور اناج غیر مقبول تھا،  بلکہ واحد وجہ تقوی تھی۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ قربانی کے لیے خدا کے نزدیک کسی مخصوص شے، فارم،  رسم یا پروسیجر کے تحت کرنا لازمی نہیں ، بس نیت کا  خالص ہونا لازمی ہے۔

قربانی کی رسم دور ابراہیمی میں اپنے منتہائے کمال کو پہنچی  جب حضرت ابراہیم  نے اپنے ایک خواب  کو حکم خداوندی  سمجھ کر اپنے اکلوتےبیٹے کو قربان کرنے کی کوشش کی ۔ عین وقت پر خدا نے آپ کو بیٹے کی قربانی سے  روک دیا اوراس کی بجائے ایک بھیڑ کو ذبح کرنے کا حکم دیا  ۔ یوں مویشیوں کی  قربانی ابراہیم  علیہ السلام کے ماننے والوں میں ایک روایت کے طور پر جاری ہوگئی۔ اس سے قبل قدیم مشرکانہ مذاہب میں دیوتاوں کے نام پر بچوں اور خواتین تک کو قربان کردیا جاتا تھا جس کا مقصد پنڈتوں اور پجاریو ں کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل تھا۔ اگر معبود کے نام پر انسانوں کو ذبح کرنا خدا کو واقعی مطلوب اور مرغوب تھا تو سب سے پہلے تو پنڈت اور پروہت ہی خود کو قربانی کے لیے پیش کرتے لیکن معاملہ اس کے برعکس رہا۔ بہرحال ، حضرت ابراہیم  کی قربانی کے ذریعے قربانی کی اسپرٹ کو اللہ کے لیے برقرار رکھا گیا جس میں  انسانی ذبح کو  ممنوع  قرار دے کر قربانی کے عمل کو واضح طور پر  مویشیوں تک محدود کردیا گیا۔

حضرت ابراہیم کے بعد ان کی نسل  کی ایک شاخ یعنی بنی اسرائیل میں  قربانی کی رسم  جاری رہی کہ تاکہ ذبیحے کا  گوشت صحرائے سینا میں  موجود مہاجرین بالخصوص غرباء  کے لیے غذا کا ذریعہ بنا رہے۔ بعد میں بھی یہ روایت یروشلم میں اسرائیلی سلطنت کے قیام  اور اس کے بعد جاری رہی۔ حضرت ابراہیم کی  نسل کی دوسری شاخ بنی اسماعیل کے ہاں بھی قربانی کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی اور جانوروں کو مختلف مواقع پر ذبح کرکے غریبوں میں تقسیم کاجاتا تھا۔ البتہ اس کا مقصد مخصوص بتوں کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا تھا۔

نبی کریم کے دور میں بھی قربانی  کو بالخصوص حج  اور عمرے کے ساتھ منسلک کردیا گیا تاکہ دودراز علاقوں سے حج و عمرے کے لیے آنے والے زائرین کی غذا کا  بندوبست ہوتا رہے اور لوگ اللہ کی خوش نودی کی خاطر ہدی کے جانور لوگوں کی فلاح کے لیے قربان کرتے رہیں۔ مکے کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی  اللہ کے نام پر قربانی کے عمل کو عیدالاضحی کے ذریعے ایک سنت کے طور پر جاری کیا گیا ۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عیدالاضحی کی قربانی کا  غور سے جائزہ لیں  تو اس   کے پیچھے کئی اہم مقاصد پوشیدہ تھے۔

سب سے بڑا مقصد اللہ کی رضا کا حصول تھا ۔حضرت ابراہیم نے جس سپرٹ کے ساتھ اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا کے حضور قربانی کے لیے پیش کیا، اسی جذبے کے تحت  مسلمان بھی جانور قربان کرکے اس وعدے کا علامتی اظہار کرتے تھے کہ وہ وقت پڑنے پر  اللہ کی رضا کے لیے  اپنی جان اور مال کو قربان کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔  جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ اس زمانے میں لین دین  کرنسی یا دینار  کے ذریعے بہت کم ہوتا تھا اور جانور  اس معاشرے میں  اثاثے کا درجہ رکھتےتھے ۔ اسی بنا پر زکوٰۃ بھی دینار یا سکوں کی بجائے براہ راست جانوروں کی شکل میں وصول کی جاتی تھی۔یہ جانور نہ صرف غذا اور سواری کے کام آتے بلکہ امراء کی شان و شوکت کا ذریعہ تھے۔ خصوصی طور پر اونٹ کو دیکھا جائے تو اس کی حیثیت آج کے دور میں ایک کار  یا ٹرانسپورٹ  کی طرح تھی جو نہ صرف  سواری کے کام آتی ہے بلکہ شان و شوکت کا بھی ذریعہ ہے۔ اونٹ    اور دیگر مویشی اللہ کی راہ میں ذبح کرنا ایک بڑی قربانی تھی جس کے ذریعے انسان نہ صرف اپنا ایک قیمتی اثاثہ (Asset)  بلکہ شان و شوکت بھی اللہ کی راہ میں قربان کررہا ہوتا تھا۔ اس نفس کشی کے ذریعے تقوی کا حصول ہی قربانی کا اصل مقصد تھا کیونکہ قرآن نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ  گوشت اور خون تو اللہ تک پہنچتا ہی نہیں۔

دوسرا اہم مقصد راہ میں  گوشت کی صورت میں انفاق  اور لوگو ں کی فلاح کا تھا۔ کم و بیش تمام ہی مذاہب میں قربانی کا تصور بعض اختلافات کے ساتھ موجود رہا۔ ان جانوروں کو خدا کے نام پر ذبح کرنے کا اصل  مقصد یہی تھا کہ وہ دولت جو مخصوص ہاتھوں میں مرتکز ہورہی ہے اسے سوسائیٹی کے غریب اور نادار طبقے میں گھمایا جائے تاکہ وہ بھی اس سے مستفید ہوں۔

جانور ذبح کرنے کے بعد اس کا گوشت اس زمانے میں طویل عرصے تک محفوظ نہیں کیا جاسکتا تھا اور لامحالہ اسے کچھ دنوں میں یا تو خود استعمال کرنا ہوتا یا تقسیم کرنا لازمی  ہوتا تھا۔ اس تقسیم  سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے لوگ غریب اور نادار ہی ہوتے تھے۔ گویا یہ  جانوروں کے انفاق کا ایک طریقہ تھا جس سے جانوروں کی صورت میں جمع کی گئی دولت کو غرباء تک پہنچانے کا ایک معاشی نظا م تھا۔ ان جانوروں کی کھالیں لباس وغیرہ میں استعمال کی جاتی تھیں۔ جانوروں کے کثیر تعداد میں ذبح ہونے کے بعد اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اگلے سال  بریڈنگ کا عمل زیادہ تیزی سے کیا جاتااور یوں جانور وں کی کثیر تعداد دوبارہ مارکیٹ میں دستیاب ہوتی تھی۔  مختصرا یہ کہ قربانی کا مقصد اپنا مال جو جانوروں کی صورت میں ذخیرہ ہوتی تھی، اسے   قربان کرکے مخلوق کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا۔ یہ ایک بہت ہی موثر تدبیر تھی جو جانوروں کی صورت میں جمع شدہ دولت (Circulation of Animal Wealth)کی معاشرے میں گردش کا ایک اہم ذریعہ تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے جتنے بھی مذاہب کا ریکارڈ ہمیں ملتا ہے ان  سب کا تعلق زرعی دور سے ہے۔اسی بنا پر کم و بیش ہر مذہب میں یہ قربانی کسی نہ کسی صورت میں موجود نظر آتی ہے۔  البتہ آ ج کا دور زرعی دور نہیں بلکہ انڈسٹریل  اور انفارمشین ایج ہے۔ آج کے دور میں اب دولت جانوروں کی صورت میں ذخیرہ نہیں ہوتی بلکہ یہ کرنسی، بنک اکاونٹ ، مکان ، زمین،  فیکٹری، بزنس ،سونا اور دیگر اثاثوں کی صورت میں ذخیرہ ہوتی ہے۔ یعنی جو حیثیت کل ان مویشیوں کو حاصل تھی وہی آج  کے دور میں کرنسی، بنک اکاونٹ، فیکٹری اور کاروبار کو حاصل ہے۔

اگر ہم قدیم زمانے کے مویشیوں کا آج کے اثاثوں سے موازنہ کریں  تو اونٹ گویا آج کی کار یا ٹرانسپورٹ  ہے جس کے ذریعے انسان اور اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ اونٹنی ، گائے، بکری، مرغی وغیرہ  کی حیثیت  ایک چھوٹی سے فیکٹری کی ہے جو دودھ ، دہی، انڈے اور گوشت کی پیداوار میں معاون ہوتی ہے۔ بیل  یا گائے کی حیثیت فیکٹر آف پراڈکشن یا ایک ایسی مشین کی ہے جو نہ صرف ہل چلانے میں کام آتی ہے بلکہ اس سے جانوروں کی بریڈنگ کرکے  دولت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو آج کے دور میں  دولت کی سرکولیشن  اور اللہ کی رضا کے لیے جانور خرید کر قربان کرنا لازم نہیں ۔ آج کے دور میں اللہ کی قربت کے لیے  غریبوں کی فلاح کے بہت سے دیگر آپشنز موجود ہیں ۔ ان میں  رقم کے ذریعے براہ راست  غریبوں کی مدد کرنا ، ملازمت کے لیے سکلز پیدا  کرنا، ان کی صحت پر خرچ کرنا ، ان کے لیے راشن کا مستقل بندوبست کرنا، رہاِئش فراہم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ چنانچہ ہمارے نزدیک آج کے دور میں قربانی کا عمل  اللہ کی رضا کے لیے نیک نیتی کے ساتھ کسی بھی غریب کی کوئی ضرورت پورا کرنے سے مکمل ہوجاتا ہے۔ رقم کا تعین ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق کرسکتا ہے۔

اس نقطہ نظر پر ایک اعتراض یہ وارد ہوسکتا ہے کہ جانوروں کی قربانی سے ان غریب لوگوں کی مدد ہوجاتی ہے جو جانوروں کو پالتے، ذبح کرتے  اور پھر منافع حاصل کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو جو لوگ جانوروں کو پالتے اور قربانی کے سیزن میں بیچتے ہیں وہ کوئی غریب لوگ نہیں ہوتے۔ اگر غریب ہوتے تو ان جانوروں  کو  پالنے کا بندوبست نہ کرپاتے۔ ان میں سے اکثر  درحقیقت بیوپاری  یا وہ مڈل مین ہوتے ہیں جو اس کاروبار میں باقاعدہ انوسٹمنٹ کرتے اور قربانی کے بعد اپنا منافع کھرا کرکے  اپنا معیار زندگی بہتر بناتے ہیں۔ دوسری جانب اصل مستحقین جو جانوروں کو پالتے ہیں وہ اس منافع سے بالعموم محروم ہی معلوم ہوتے ہیں۔

ایک اور اعتراض یہ کیا جاسکتا ہے کہ ان دنوں میں ان غرباء تک گوشت پہنچ جاتا ہے جنہیں سار ا سال گوشت نہیں ملتا۔ یہ بھی ایک مغالطہ ہے۔ غریب کا اصل مسئلہ گوشت  کا حصول نہیں بلکہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل ہے۔ٹرائی بیون  کے مطابق پاکستان میں سن 2021 میں کم  و بیش ساڑھے چار سو ارب روپے قربانی کے عمل پر خرچ کیے گئے [1]۔   اس سے بے شک ایک معاشی سرگرمی نے جنم لیا لیکن غربت کے خاتمے  اور غریبوں پر کوئی دیرپا اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ جیسا کہ  پائیڈ کے وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ قربانی بلاشبہ معاشی سرگرمیوں  کا باعث بنتی ہے لیکن   یہ ایک عارضی عمل ہوتا ہے اور اس سے معیشت پر دیرپا اور گہرے اثرات  مرتب  نہیں ہوتے ہیں[2]۔

   اس رقم کا موازنہ اگر ہم صحت اور تعلیم  پر خرچ کی جانے والی رقم سے کریں تو حیرت انگیز حقائق سامنے آتے ہیں۔ سال 2021میں قربانی  کے ذریعے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیاں لگ بھگ  ساڑھے چار سو بلین روپے ہوئی   ہیں ۔ پورے پاکستان کے وفاقی اور تمام صوبوں کے بجٹ کو جمع کرلیا جائے تو  تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم   کا رواں سا ل کا تخمینہ کم و بیش 1212 بلین روپے ہے ۔ گویا قربانی کی رقم سے  پورے پاکستان میں سرکاری ایجوکیشن کے اخراجات کا ایک تہائی حصہ فائنانس کیا جاسکتا ہے۔  اسی طرح اگر ہم وفاق اور چاروں  صوبوں کے صحت پر خرچ ہونے والے اخراجات کو جمع کریں تو یہ  کم وبیش 463 بلین روپے بنتے ہیں ۔ گویا قربانی کی رقم سے کم و بیش  صحت کے تمام  سرکاری اخراجات  پورے کیے جاسکتے ہیں۔

اگر قربانی پر خرچ ہونے والے اخراجات  جو ساڑھے چار سو  بلین روپے ہیں ،انہیں  تعلیم ، صحت، اسکلز ڈیولپمنٹ  یا روزگار کی فراہمی کے لیے مختص کریں تو   مستقل بنیادوں پر غریبوں کے  راشن کا بندوبست ہوسکتا،  لاکھوں کے علاج کے لیے  وسائل مہیا کیے جاسکتے  اور غریب بچوں  ایجوکیشن   کے وسائل پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں  کمیونٹیز ، این جی اوز ، برادری اور خاندا ن سطح پر بھی  قربانی کی رقم جمع کی جاسکتی اور تعلیم، روزگار اور صحت جیسے معاملات  پر یہ رقم خرچ کرکے غریبوں کی معاشی حالت کو لانگ ٹرم بنیادوں پر بدلا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی فلاح کا یہ  کام انفرادی سطح پر بھی کیا جاسکتا ہے ۔

اس نقطہ نظر پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاسکتا ہے کہ قربانی  ایک عبادت کے جسے رسم کے طور پر اللہ کی راہ میں پیش کیا جاتا ہے ۔ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ قربانی کا اصل مقصد جو قرآن میں بیان ہوا ہے وہ تقوی کا حصول ہے اور خون اور گوشت تو اللہ کے پاس نہیں پہنچتا۔ نیز ہابیل اور قابیل کی قربانی سے بھی یہ بات ظاہر ہے کہ خدا کے نزدیک قربانی  کسی مخصوص ہیت میں ہونی لازمی نہیں۔ اس لیے اس رقم کو کسی بھی غریب کی بالواسطہ یا براہ راست مدد کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کا مقصد تقوی کا حصول ہی ہو تو اللہ کے نزدیک یہ بھی قابل قبول عمل ہے۔ اللہ تو محض ناخن کاٹنے پر قربانی کا اجر دے دیتا ہے تو رقم خرچ کرنے پر کیوں وہ کسی کا اجر روکے گا۔

البتہ ان دلائل کے باوجود اگر کوئی شخص قربانی کو مروجہ طریقہ ہی سے کرنا  پسند کرتا ہے تو اسے اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ ایسا کرے ۔ البتہ یہ بات یا د رکھنی چاہیے کہ قربانی کا یہ عمل مسلمانوں میں ایک سنت کے طور پر جاری ہے۔ ماسوائے حنفی مسلک کے  کم و بیش تمام مسالک کے ہاں قربانی ایک آپشنل عبادت ہے۔   اسی طرح قربانی کا اصل مقصد ذہن میں رکھنا چاہیے اور وہ ہے تقوی کا حصول۔ جدید شہری زندگی میں جانوروں کو گھروں ، گلی ، محلے  میں باندھنا اور ذبح کرنا کئی پہلووں سے قربانی کی روح اور تقوی کے منافی ہے۔ جانور کو راستے میں باندھ کر راستے بلاک کرنا، محلے میں گندگی پھیلانا،  خون گلی میں بہا کر  مختلف بیکٹیریا اور وائرس کی پیدائش کا سبب بننا یا خون اور چکنائی سے سیوریج کے نظام کو تباہ کرنا  خدا کی رضا کی بجائے اس کی ناراضگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور اس سے لوگوں کی اجتماعی فلاح کی بجائے انہیں ایذا پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ وہ لوگ جو قربانی کرنا ہی چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ شہروں قربانی مخصوص سلاٹر ہاوس ہی میں کی جائے جو شہر سے دور ہوں۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ یہ ایک نقطہ نظر ہے جس کو دلائل کے ساتھ رد یا قبول کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس کی بنیاد پر  روایتی طور پر قربانی کا فریضہ ادا کرنے والو ں کی تضحیک یا تقصیر کی کوئی  گنجائش نہیں۔ انہیں حق حاصل ہے کہ جس رائے کو وہ درست سمجھتے ہوں اس پر عمل کریں۔ اسی طرح جو لوگ جانور کی قربانی کی بجائے اس رقم کو کسی اور فلاحی کاموں میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ، ان پر بھی کسی طعنے ، تشنیع اور الزامات کی کوئی گنجائش نہیں۔ دونوں اپنی قربانی خدا کے حضور پیش کررہے ہیں ، اب یہ خدا اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے کہ وہ کس کی قربانی قبول کرے ۔

تحریر : ڈاکٹر محمد عقیل


[1] https://tribune.com.pk/story/2311908/rs450b-spent-on-eid-this-year

[2] https://www.independenturdu.com/node/42421

فرضی دشمن

میں پارک میں واک کررہا تھا کہ اچانک محسوس ہوا کوئی میرے ساتھ ساتھ دوڑ رہا ہے۔ میں نے اگنور کیا لیکن کسی کے دوڑنے کی آواز آتی رہی۔ میں نے اسپیڈ تیز کردی تو لگا اس نے بھی اپنی رفتار بڑھادی ہے ۔کچھ دیر بعد میں نے اپنی رفتار کم کردی تو محسوس ہوا کہ اس بھی آہستہ بھاگنا شروع کردیا ہے۔ اب میں سوچنے لگا کہ عجیب آدمی ہے، یا تو آگے نکل جائے یا پیچھے رہ جائے، ساتھ ساتھ کیوں بھاگ رہا ہے۔میں اچانک رک گیا ، تو یوں محسوس ہوا وہ بھی رک گیا ہو۔ میں نے پیچھے مڑ کر  جاگنگ ٹریک کا جائزہ لیا تو  ارد گرد کوئی بھی نہ تھا۔

کچھ دیر کھڑا میں سوچنے لگا کہ اگر کوئی نہیں ہے تو ساتھ کون دوڑ رہا تھا۔ پھر میں نے آواز پر غور کیا تو وہ کچھ چھن چھن کی آواز تھی ۔ میں نے اپنی جیب پر ہاتھ مارا تو گاڑی کی چابیاں تھیں جو میرے بھاگنے کی وجہ سے بج رہی تھیں۔ ان کی ایکو کچھ اس قسم کی  آواز پیدا کررہی تھی کہ کوئی  پیچھے چل رہا ہے۔

ہماری زندگی کے اکثر معاملات اسی قسم کے وہم  اور شک سے آراستہ ہوتے ہیں جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ہمارے  پیچھے لگا ہوا ہے۔ کبھی ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمار ے کسی  رشتہ  دار نے ہمیں چڑانے کے لیے  اچھا لباس پہنا ہے ، کبھی لگتا ہے کسی ساس یا بہو نے ہمیں تنگ کرنے کے لیے برتن توڑا ہے، کبھی محسوس ہوتا ہے کسی دوست نے جان بوجھ کر فون نہیں اٹھایا، کبھی لگتا ہے دفتر کے کسی کولیگ نے سازش کی بنا پر  یہ مذاق کیا اور کبھی یہ لگتا ہے ہمارے کسی ساتھی نے ہمیں نیچا دکھانے کے لیے اپنی بات اونچی آواز میں کہی۔

یاد رکھیے ، ان میں سے نوے فی صد شکوک محض وہم ہوتے ہیں اور یہ ہمارے دماغ  کی جیب میں رکھی وسوسوں کی چابیوں کی بازگشت ہوتے ہیں۔ ہم   اپنے ہی وجود کی آوازوں سے دھوکا کھاجاتے اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ فلاں شخص ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے۔ جب کبھی ایسا محسوس ہو تو ان آوازوں کو   نظر انداز کرکے آگےبڑھ جائیں   اور اس وقت تک یقین نہ کریں جب تک پیچھا کرنے والے شخص کو وہم نہیں بلکہ یقین کی آنکھ سے نہ  دیکھ لیں۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو ہم ایک ایسے  فرضی دشمن کو شکست دینے کے لیے دوڑ دوڑ کر ہلکان ہوجائیں گے جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔

ڈاکٹر محمد عقیل

نام نہاد انفارمیشن ایج

اس نام نہاد انفارمیشن ایج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر قسم کی معلومات کا ایک انبار ہے، جس میں سے درست علم اخذ کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ مثال کے طور پر میڈیکل کی دنیا میں کرونا وائرس کی ویکسین پر موجود یہ بھی موجود ہے کہ یہ ساٹھ ستر فی صد تک درست نتائج دیتا ہے تو یہ بھی گردش کررہا ہے کہ کرونا ویکسین لگانے والے دوسا ل میں مرجائیں گے۔ سیاست میں کسی شخصیت کو شیطان ثابت کرنے کا مواد بھی ہے اور اسی شخصیت کو فرشتے کے روپ میں دکھائی جانے والی اطلاعات بھی ہیں۔ مذہبی دنیا میں خدا کے حق میں بھی دلائل ہیں تو خدا کی رد میں بھی معلومات ہیں۔ یہ معاملہ کم و بیش ہر شعبہ زندگی سے متعلق ہے جس کی بنا پر آج کا انسان ایک عجیب کنفیوژن کا شکار ہے۔ اس کاسادہ حل یہ ہے کہ جن معاملہ میں کوئی فیصلہ لینا ہو تو اس شعبے کی معلومات کو مستند حوالے کے ساتھ دیکھا جائے اور پھر ان کو عقل ،فطرت اور اخلاقیات کی روشنی میں پرکھا جائے۔ جب تک وہ معلومات مستند ذرائع سے ثابت نہ ہوں، ان پر نہ یقین کیا جائے اور نہ ہی ان کو محض سنسنی اور ریٹنگ کی خاطر آگے پھیلایا جائے۔ نیز ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کی بجائے محض اس وقت رائے قائم کی جائے جب اس کی ضرورت ہو۔

ڈاکٹر محمد عقیل

سلام ہو یوسف پر

سلام ہو یوسف پر

سورہ یوسف نظام الٰہی کو کے  بعض اہم پہلووں کو سمجھنے لیے ایک بہترین سورۃ ہے۔ یہ  بتاتی ہے کہ حسد کرنے والے بھائی  خواہ کنویں  کی پستیوں ہی میں کیوں نہ پھینک دیں، رب کی قدرت  بلند حوصلے والے کو بلندیاں عطا کردیتی ہے۔ کوئی حسین  عورت کتنے پرفریب چالیں کیوں نہ چلے، رب کی برھان  پاکیزہ رہنے کی کوشش کرنے والے کو بچالیتی ہے۔ شہر کی  سب عورتیں مل کر ایک نوجوان کو ورغلانے کی کوشش کریں، حقیقی محبوب کی محبت      نفس کی محبتوں سے آزاد کردیتی ہے۔ ایک بچہ  کئی دہائیوں   تک اپنے با پ سے جدا رہے، رب کے شکر گذار ی شکوہ زبان پر لانے نہیں دیتی۔ خواہ کسی  کے کردار پر کتنے ہی جھوٹے داغ کیوں نہ لگادیے جائیں ، رب کی تدبیر اپنے چنے  ہوئے بندے کو تمام الزاموں سے بری کرکے عزت کا مقام عطا کردیتی ہے۔خواہ کوئی  پیغمبر زادہ   عزیز مصر کا غلام ہی کیوں نہ بن  جائے ، مشیت الٰہی اس محسن کو  غلامی سے نکال کر عزیز مصر  بنادیتی ہے ۔

یوسف  نے ہر موقع پر کمال کی صفات کا مظاہرہ کیا۔ وہ کنویں میں پھینکے جانے بعد مایوس نہ ہوئے  اور انہیں اپنے اس خواب کی تعبیر پر یقین رہا جو ان کے والد نے بتائی تھی۔ وہ  عزیز مصر کی غلامی میں رہے لیکن  حقیقی غلامی صرف اپنے رب کی قبول کی ۔ عین نوجوانی میں مصر کی حسین ترین شخصیت ہونے کے باوجود کبھی نفس کی بات پر کان نہ دھرا اور اس کی خواہشات کو شکست دی۔ اس پاکیزگی کے باوجود انکساری کا یہ عالم کہ اس کا سار ا  کریڈٹ اپنے رب کو دے دیا۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرلیں لیکن عورتوں کے دام فریب میں نہ آئے۔ قید کی حالت میں بھی خدا کی توحید کا پیغام پہنچانے سے غافل نہ رہے۔شاہ مصر کی جانب سے  آزادی کا پروانہ ملنے کے باوجود  اس وقت تک  قید خانے سے باہر نہ آئے جب تک عورتوں کے لگائے ہوئے جھوٹے الزام سے بریت حاصل نہ کرلی۔عزیز مصر اور ایک عظیم ایڈمنٹریٹر کے طور مصر اور گردو نواح کے قحط زدہ علاقوں کو خوراک کی فراہمی کا شاندار انتظام کیا لیکن کبھی تکبر میں مبتلا نہیں ہوئے اور ہمیشہ  اس کامیابی کا کریڈٹ اپنے پروردگار کو دیا۔جب وہی بھائی سامنے آئے جنہوں نے انہیں کنویں کی تاریکیوں میں دھکیلا تھا تو اپنی ذات کے لیے کوئی بدلہ نہ لیا اور بس یہ کہہ دیا ” آج تم پر  کوئی الزام نہیں ، اللہ تمہارے اس گناہ کی مغفرت کرے” ۔    

آج کے انسان  کے لیے حضرت یوسف کا قصہ واقعی ایک مشعل راہ ہے۔ان کی عزم ہمتی، مسقتل مزاجی، توکل ، تفویض ، رضا، بندگی، پاکیزگی، تقوی، رحم دلی، صلہ رحمی، ایڈمنسٹریشن ، لیڈرشپ، عجزو انکساری اور سادہ دلی وہ صفات ہیں جو اس سورہ کا پیغام ہیں۔ سلام ہو یوسف پر  ان صفات کی بنا پر جو ہم نے سمجھیں اور ان معاملات کی بنا پر جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان پوشید ہ ہیں۔

ڈاکٹر محمد عقیل

ایم ٹی جے کا ازار بند

ایم ٹی جے(مولانا طارق جمیل )برانڈ پر  کو اس وقت کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ ایک ازار بند  فیس بکی مارکیٹ میں گردش کررہا ہے جس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس کی قیمت ساڑھے پانچ سو روپے ہے۔ اس پر ایم ٹی جےکو سخت مخالفت کا سامنا ہے کہ برانڈ کے نام پر وہ بھی دیگر تاجروں کی طرح عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب مولاناکا حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ تصویر ایم جی ٹی یعنی مولانا طارق جمیل کے برانڈ کی نہیں بلکہ جے ڈاٹ کی ہے۔      ایک جانب مولانا سے مخالفین  ہیں جو  ہر صورت مولانا پر شدید تنقید کرنا چاہتے ہیں، دوسری جانب ان حامی لوگ ہیں جو ہر صورت مولانا کی جائز ناجائز بات کا دفاع کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو نیوٹرل لوگ ہیں اور اس شدید کنفیوژن کا شکار ہیں کہ کیا رائے اختیار کی جائے؟ آئیے مختصر اا س کنفیوژن کو دور کرتے ہیں۔

پہلی بات یہ کہ مولانا نے جس نیت سے ایم ٹی جے  کے برانڈ پر مبنی بزنس کھولا ہے  وہ  ان کے بقول یہ ہے کہ وہ مدارس اور دینی درسگاہوں کو چندے اور زکوٰۃ کے پیسے پر انحصار کرنے کی بجائے  خود انحصاری کا راستہ دکھانا چاہتے ہیں اور اس رقم کو مدارس کے نظام کو سپورٹ کرنے میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہے جس کی تعریف کی جانی چاہیے۔ اگرمدرسے کے فارغ التحصیل طلبا دنیا کو امامت ، اور موذن کی خدمات دینے کے علاوہ دیگر کاروبار  اور خدمات میں بھی خود کو پیش کریں  تو یہ اپنے عمل سے جواچھے اخلاق  تبلیغ کرسکتے ہیں وہ محض تقریروں سے ممکن نہیں۔ نیز وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر دنیا کے طعنوں کا بھی جواب دے سکتے  اور روایتی  مذہبی  اداروں کی ساکھ بحال کرسکتے ہیں۔ ۔

دوسری بات یہ کہ مولانا پر یہ الزا م ہے کہ آ پ اپنے درسوں میں  ایک خاص حلیے کو فحاشی سے تعبیر کرتے رہے ہیں۔ اس کے بعد چست پینٹ شرٹ، جینز، کالر والی شرٹ ، خواتین کے ٹخنوں سے اونچے ٹراوزر، مختصر دوپٹے، چست لباس  یا کسی بھی ایسے ملبوسات کو ان آوٹ لیٹس پر بیچنا قول اور فعل کا تضاد ہوسکتا ہے جو خود انہوں نے اپنے دروس میں براہ راست یا بالواسطہ ناجائز قرار دییے ہوں۔ اس لیے اس بارے میں احتیاط کی جائے۔ جہاں تک اس کا تعلق ہے  چند  مخصوص ڈریس بیچنے سے کاروبار کس طرح چلے گا تو  اوپر بیان کی ہوئی بات یاد رکھنی چاہیے کہ مولانا کی نیت کاروبار کی نہیں بلکہ دین کی خدمت کی ہے۔ اگر فی الواقع ایسا ہے تو اس   قسم کے کسی بھی ڈریس یا  پراڈکٹ بیچنے سے گریز کرنا ہوگا جو ان کی دانست میں غیر شرعی ہے۔ اس طرح وہ اپنے فالورز کو بھی ایک اچھی راہ دکھا ئیں گے۔

تیسر ا اعتراض ان کے برانڈ اور قیمتوں پر کیا جارہا ہے کہ تمام عمر وہ سادگی کی تعلیم دیتے رہے اور  اب قوم کو اسراف کی جانب  لے کر جارہے ہیں۔ مجھے علم نہیں ان کی پراڈکٹس کی کیا قیمت ہے لیکن ان کے شاگرد رشید کا برانڈ جے ڈاٹ مہنگے کپڑے بیچنے میں ید طولیٰ رکھتا ہےاور مولانا نے کبھی اپنے شاگرد کو اس با ت پر ٹوکا تک نہیں۔ اس سے ایک عام آدمی کو یہ تاثر جاتا ہے کہ اسراف کی باتیں شاید درس تک ہی محدود ہیں اور عملی زندگی میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن یہاں قصور اسراف کے تصور کو نہ سمجھنے کا ہے۔ خرچ کرنے کے تین طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ ضروریات پر خرچ کیا جائے جو فرض ہے، دوسرا یہ کہ سہولیات کے حصول کے لیے خرچ کیا جائے جو جائز ہے اور تیسرا یہ کہ تعشیات کے حصو ل پر خرچ کیا جائے جو بعض صورتوں میں حرام ہے بالخصوص اس وقت جب لوگ بھوکے مررہے ہیں۔ ایم  ٹی جے  کا کسی پراڈکٹ کو  عام کاروباری اداروں کی طرح ایک خاص حد سے زیادہ قیمت پر بیچنا اور اس کی تشہیر کرنا ان کے اپنے قول و فعل کے تضاد کی جانب نشاندہی کرسکتا  ہے جس میں وہ سادگی کی تعلیم دیتے اور اسراف کی مخالفت کرتے ہیں۔

اس موقع پر بعض حضرات یہ کہتے ہیں پاکستانی سوسائٹی میں یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ اگر مولانا کی نیت کو دوبارہ دیکھا جائے تو وہ تو اپنے فالوورز اور دینی طبقے کے لیے ایک ٹرینڈ سیٹ کرنا چاہتے ہیں  ۔ چنانچہ ایم  ٹی جے کو چاہیے تھا کہ جس طرح مولانا نے خطابت میں ایک نیا ٹرینڈ سیٹ کیا، اسی طرح کاروبار میں بھی سادگی پر مبنی ایک نیا  ٹرینڈ سیٹ کرنا چاہیے تھا۔ نیز اکنامکس کے قانون کے تحت اگر تعیشات کی چیزوں کی قیمت کم ہوگی تو اس سے اتنی ہی ڈیمانڈ پیدا ہوگی اور منافع بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ اسی اصول کو مغرب میں آزمایا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں منافع کا حصول محض قیمت میں اضافہ ہی سمجھا جاتا ہے۔

چوتھی بات یہ کہ وہ لو گ جنہیں کسی عالم دین کا بزنس میں ملوث ہونا غلط معلوم ہورہا ہے ، وہ غلط ہیں۔ ایک عالم دین اگردنیا کی عملی زندگی میں قدم رکھے اور ملازمت اور بزنس کرتے ہوئے دین کا کام کرے تو وہ معاشرے کے مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے۔یعنی وہ یہ  بات علمی طور پر جان سکتا ہے کہ تاجر کیوں ناجائز منافع خوری کی طرف راغب ہوتا ہے، مڈل مین کس طرح قیمت بڑھادیتا ہے، سرکاری ادارے کسی طرح کاروبار میں روڑے اٹکاتے ہیں، ٹیکس چوری کیوں ہوتی ہے ، ملاوٹ کے کیا اسباب ہی، نورکری کے دوران کام چوری سے کس طرح بچا جاسکتا ہےوغیرہ۔ جب وہ ان مسائل کو قریب سے دیکھ کر دین کو پڑھے گا تو اجتہاد کے وہ نئے دروازے کھلیں گے جو لوگوں کی زندگیوں کے مسائل حل کریں گے اور فتوے کتابوں کی دنیا سے نکل کر عملی زندگی میں آجائیں گے۔  امام ابو حنیفہ کے سب سے زیادہ مقبول  فیقہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ ایک تاجر تھے اور زندگی کے مسائل قریب سے جانتے تھے۔

آخری بات، مولانا کے مخالفین سے گذارش ہے کہ ازار بند والی بات پر  بلاتحقیق پھبتی کسنا ، جگتیں مارنا  ایک مسلمان کو زیبا نہیں دیتا۔ "مسلمان ” پر زور دیتے ہوئے  جملہ دوبارہ پڑھ لیں کہ ایک "مسلمان” کو زیبا نہیں دیتا اور رمضان میں تو بالکل نہیں۔ہاں اچھے اسلوب میں تنقید میں کوئی حرج نہیں۔ دوسری جانب  مولاناکے چاہنے والوں سے گذارش  ہےہمیں حق کی بات کرنی چاہیے  خواہ یہ ہماری کسی محبوب شخصیت ہی کے خلاف کیوں نہ ہو۔

ڈاکٹر محمد عقیل

پیراڈائم شفٹ

کلاس میں سامنے بیٹھی لڑکی کے ہاتھ میں جوس کا ڈبہ تھا اور ساتھ ہی ہو کچھ کھا بھی رہی تھی۔ میں  کلاس لے رہا تھا اور یہ کوئی دس سال قبل کا واقعہ ہے۔ کلاس میں اس طرح دھڑلے سے کھانا پینا کلاس کے ڈیکورم کے خلاف تھا۔ میں کچھ دیر برداشت کرتا رہا لیکن وہ لڑکی جوس پیتی رہی۔ پھر اس نے غالبا میرے چہرے کے تاثرات بھانپ لیے اور بولی۔ سر مجھے گردوں کی بیماری ہے اور میں ڈائلے سس پر ہوں اور شوگر بھی ہے۔ ڈاکٹر نے مجھے بھوکا پیاسا رہنے سے منع کیا ہے اس لیے میں  کلاس میں جوس پینے پر مجبور ہوں اس کے لیے میں معذرت چاہتی ہوں۔ یہ سن میں میرا پیراڈائم  شفٹ ہوگیا اور زاویہ نگاہ بدل گیا۔ میں سوچنے لگا اگر میں تحقیق کیےبنا اس لڑکی کو ڈانٹ دیتا یا کلاس سے نکال دیتا تو یقینا یہ زیادتی ہوتی۔

رمضان کے مہینے میں عین ممکن ہے آپ کو کوئی شخص  اپنے گھر ، دفتر یا کسی مقام پر کھاتا ہوا یا پانی پیتا ہوا نظر آئے۔ اس سے قبل کہ آپ اس  کے بارے میں الٹا سیدھا سوچیں ، اسے کچھ کہیں یا خود کو روزے دار سمجھ کر تکبر میں مبتلا ہوجائیں ، ایک منٹ رک جائیے اور حسن ظن سے کام لیجے ۔ عین ممکن ہے وہ بیمارہو، غیر مسلم ہو، ایسی خاتون ہو جو روزہ نہ رکھ سکتی ہو وغیرہ۔ ہمارا ایک منٹ کے لیے رک جانا اس سے تو روزہ نہیں رکھواسکتا البتہ ہمار ا روزہ ضرور بچا سکتا ہے ۔

ڈاکٹر محمد عقیل

زلیخا اور یوسف

زلیخا جب  حضرت یوسف کی محبت میں بری طرح گرفتار ہوگئی اور اس کی حضرت یوسف کو لبھانے کی  کوشش ناکام بھی ہوگئی تو یہ خبر شہر میں پھیل گئی۔ بالخصوص مصر کے اعلی طبقے کی عورتیں زلیخا پر لعن طن کرنے لگیں کہ وہ اپنے غلام کی محبت میں گرفتار ہوگئی ہے۔ زلیخاکو یہ سب باتیں سن کر بڑی پریشانی ہوئی۔ وہ اس پریشانی کے عالم میں ایک بزرگ کے پاس گئی اور ان کو بتایا کہ کس طر ح عورتیں اس کا مذاق بنا رہی ہیں۔ بزرگ مسکرائے اور کہا کہ پریشان نہ ہو، جو تجھے  نظر آتا ہے، وہ ان کو بھی دکھادے۔

چنانچہ زلیخا نے ایک دعوت کا اہتمام کیا ا

ور ان سب خواتین کو مدعو کیا۔ اور اچانک یوسف علیہ السلام کو ان کے سامنے آنے کا کہا۔ وہ سب عورتیں مبہوت ہوکر رہ گئیں   اور اسی کیفیت میں مبتلا ہوگئیں جس میں زلیخا گرفتا رتھی۔ اسی پر بس نہیں بلکہ انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کر وہی تقاضا کرنا شروع کردیا جو زلیخا کررہی تھی۔ گویا  حضرت یوسف کے مشاہدے سے پہلے وہ خواتین جس بات پر وہ زلیخا کو طنزو رشنیع کا نشانہ بنارہی تھیں ، اس تجربے کے بعد خود اسی دام میں گرفتا ر ہوگئیں۔

دوسری جانب حضرت یوسف علیہ السلام تھے جو  اپنے رب کی محبت میں گرفتا ر تھے۔ انہوں نے بھی رب کی برھان کا مشاہدہ کررکھا تھا، انہیں علم تھا کہ ان کے آبا و اجداد یعقوب ، اسحاق اور ابراہیم کا خدا ان غیر اخلاقی باتوں کو سخت ناپسند کرتا  ہے۔ چنانچہ وہ اپنے محبوب کی رضا سے بندھ گئے۔ اس نوجوانی کے عالم میں نہ صرف ان آفرز کو ٹھکرادیا بلکہ خود اپنے محبوب سے درخواست کی کہ ان عورتوں سے بچنے کے لیے اگر مجھے قید بھی کردیا جائے تو قبول ہے۔ چنانچہ درخواست قبول کرلی گئی اور قید ہوگئی۔

دونوں محبتوں کو دیکھیے۔ ایک زلیخا اور عورتوں کی چاہت اور دوسری حضرت یوسف کی اپنے رب سے محبت۔ زلیخا نفس کی لذت  کی خاطر محبت میں مبتلا تھی تو حضرت یوسف اپنے رب    کی خوشی کے متمنی۔ زلیخا  کو اپنے محبوب (حضرت یوسف ) کی پسند ناپسند کا کوئی خیال نہ تھا اور حضرت یوسف سراپا اطاعت۔ زلیخاظاہری وجود  کی لذت کی متمنی تھی اور حضرت یوسف   باطنی شخصیت کا  ابدی سکون چاہتے تھے۔  زلیخا جذبات میں بہک  کر بدکردار بن  رہی  تھی اور حضرت یوسف نفس پر  قابو کرکے  اعلی کردار کا مظاہر کررہے تھے۔ زلیخا چند لمحوں کی لذت پر تمام اخلاقی اقدار قربان کرنے پر تلی تھی اور حضرت یوسف  عارضی تکلیف جھیل کر خود کو بادشاہت کے لیے اہل ثابت کررہے تھے۔

بالآخر حضرت یوسف کو رہائی ملی اور بادشاہ کا قرب نصیب ہوا جبکہ ان تمام عورتوں کو زلیخا سمیت معافی مانگنی پڑی اور حضرت یوسف کی پاکیزگی کی گواہی دینے پر مجبور ہوگئے  ۔ اس کے بعد ان عورتوں کی کیا جگ ہنسائی ہوئی ہوگی، اس کا تصور ممکن نہیں۔

زلیخا اور حضرت یوسف کا طرز زندگی ایک استعارہ ہے ۔  جو لوگ دنیا  کی محبت میں عارضی لذتوں میں  بہک جاتے ہیں ان کا انجام زلیخا  اور اس کی ساتھیوں کی طرح ہوتا ہے۔ اور جو لوگ اپنے  رب کی محبت میں نفس پر قابو کرکے اعلی اخلاقی اقدار کے امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ اس دنیا میں بھی ترقی پاکر اعلی مقام حاصل کرتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی ابدی نعمتوں کے مستحق بن جاتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد عقیل

صدقہ اور صدقہ جاریہ ۔ چند غلط تصورات کی وضاحت

صدقے کا درست مفہوم "فلاح ” یعنی ویلفئیر پہنچانا ہے۔ ہماری سوسائٹی میں صدقے سے متعلق مالی صدقے کے محدود مفہوم لیا جاتا ہے یعنی وہ رقم جو کسی  ضرورت مند کو ادا کردی جائے وہی صدقہ ہے۔ یقینا  کسی کی مالی مدد کرنا صدقہ ہے لیکن صرف یہی صدقہ نہیں۔ صدقہ ہر وہ کام ہے جس کا مقصد اور نتیجہ مخلوق کو فلاح پہنچانا ہو۔ چنانچہ  کسی کو مسکرا کر دیکھنا ، کسی کی تکلیف دور کرنا ، بیمار کی تیمارداری کرنا، کسی سے خوش اخلاقی سے بات کرنا، کسی جانور کو پانی پلادینا، کسی کو کوئی علمی بات بتانا سب صدقہ ہے۔ جدید دور میں دیکھیں تو روڈ پر گاڑی چلاتے وقت کسی کو راستہ دیے دینا صدقہ ہے، کسی کی سواری خراب ہے تو اس کی مدد کرنا صدقہ ہے،کسی طالب علم کو کوئی سوال سمجھادینا صدقہ ہے، کسی کو  روزگار کے حصول میں مدد دینا صدقہ ہے، نکاح کے لیے جوڑوں کی مدد کرنا صدقہ ہے۔

ایک اورغلط  تصور صدقہ جاریہ کے بارے میں ہے ۔ اس سے مراد بالعموم لوگ مسجد وغیرہ کی تعمیر  ہی لیتے ہیں کہ مسجد کی عمارت کافی عرصے تک قائم رہتی ہے اور اس عمارت میں رقم لگانے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ بات درست لیکن ادھوری ہے۔ صدقہ جاریہ کا مفہوم ہے جاری رہنے والا صدقہ۔یعنی فلاح کا وہ کام جس کا  فیض یا فائدہ کئی دنوں، مہینوں، سالوں یا صدیوں تک محیط ہو۔ اب یہ کوئی بھی فلاح کا کام ہوسکتا ہے جسے کسی عمارت کی تعمیر تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں وہ آرٹیکلز ، تحریریں اور کتب بھی شامل ہیں جن سے لوگ طویل عرصے تک نفع اٹھاتے ہیں، وہ ایجادات بھی شامل ہیں جنہوں نے ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا کیں، وہ سائنسی فارمولے اور اصول بھی شامل ہیں جو موجودہ اور قدیم سائنس کی بنیادیں ہیں، وہ ادارے بھی ہیں جو برسوں سے لوگوں نفع پہنچارہے ہیں۔

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے  آیا صدقہ جاریہ عام صدقے سے زیادہ اہم ہے؟ صدقہ جاریہ کی اصطلاح دراصل اس زمانے میں فلاح کے دو تصورات  کو الگ کرنے کے لیے استعمال ہوئی تھی۔ یعنی ایک تو کسی شخص کی فوری مدد اور دوسرا یہ کہ کسی  فلاحی کام سے ذریعے طویل مدتی مدد۔جہاں تک عام صدقے کا تعلق ہے تو اس کا بھی اثر کافی دیر تک رہتا  اور وہ بھی طویل مدتی ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کو کھانا کھلانا بظاہر ایک فوری صدقے کا عمل ہے لیکن اس کھانے سے  اس کی باڈی میں جو خلیات یا سلیز بنیں گے  اور ان کی توانائی کو وہ جب تک استعمال کرتا رہے گا، صدقہ کرنے والے کو اس کا اجر ملتا رہے گا۔ اسی طرح کسی کو مسکرا کر دیکھنے سے اگر اس شخص کی تکلیف دور ہوتی ہے تو اس سکون کی بنا پر اس کی شخصیت میں جو تبدیلیاں آئیں گی وہ صدقہ کرنے والے کے لیے باعث اجر بنتی رہیں گی ۔ چنانچہ ہر صدقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کسی نہ کسی طور پر صدقہ جاریہ ہی ہے۔  جہاں اجر کا تعلق ہے تو اس کا انحصار ان حالات میں ہے جن میں صدقہ کیا گیا۔  

صدقے کرنے کے کچھ مخصوص طریقے بھی ہمارے ہاں رائج ہیں جیسے  کالے بکرے کا صدقہ ، گوشت پرندوں کو کھلانا، سر پر سے پھیرے دے کر صدقہ کرنا ، انڈا چوراہے پر ڈال دینا وغیرہ۔ ان میں سے اکثر کی نوعیت تو توہمات اور روایات کی ہے۔ البتہ   اس ضمن میں دو پہلو قابل غور ہیں۔ ایک پہلو تو پلے سی بو افیکٹ کا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ انسان کو عمل انہتائی یقین سے کرتا ہے تو اس میں بالعموم کامیاب ہوجاتا ہے۔ چنانچہ صدقہ کی تلقین کرنے والے عام طور پر متاثرہ شخص کی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کے اعمال تجویز کردیتے ہیں جن پر لوگوں کو عام طور پر یقین ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی مشکل آسان ہوجائے گی۔

 دوسرا معاملہ رنگوں کا ہے۔ ہماری بیماری اور پریشانی کی بنیادی وجہ ہمارے ارد گرد منفی انرجی کی زیادتی ہوتی ہے جو ہمارے مثالی جسم یا "اورا "کے رنگوں میں عدم توازن کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔ کالے رنگ کا بکرا، سفید چاول یا اس قسم کی اشیاء کو دان کرنے میں اصل اہمیت بکرے یا چاول نہیں بلکہ رنگوں کی ہوتی ہے جس کا مقصد روحانی ماہرین کے نزدیک اس اورا کے عدم تواز ن کو دور کرنا ہوتا ہے ۔گویا اسے روحانیت کے ایک طریق علاج کے پس منظر میں لیا جانا چاہیے جس سے اختلاف یا اتفاق ممکن ہے۔

آخری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا صدقہ بلاوں کو ٹالتا ہے؟ دنیا کے ہر مذہب میں صدقے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ صدقہ دراصل فلاح پہنچانے کا عمل ہے۔ یہ دنیا نیچر پر قائم ہے اور اس کا اصول یہی ہے کہ جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ چنانچہ جب کوئی شخص کسی کو فلاح پہنچاتا ہے تو وہ بھی نیچر کے قانون کے تحت فلاح حاصل کرنے کا مستحق بن جاتا ہے جو اس کی مشکلات میں کمی یا خاتمے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

ڈاکٹر محمد عقیل

حوروں سے متعلق چند وضاحتیں  

(حوروں کے چاہنے والوں سے معذرت کے ساتھ)

حوروں کا ذکر مذہبی ہی نہیں غیر مذہبی حلقوں میں بھی بڑی دلچسپی سے کیا جاتا  اور اسے مذاق کا موضوع بنایا جاتا ہے۔ اس معاملے  میں سنجیدہ حلقے بھی اس  معاملے  کو درست طور پر بیان نہیں کرپاتے اور یوں ملحدین اور عقلیت پرستوں کو قرآن پر پھبتی کسنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس ضمن میں چند حقیقتوں کو جاننا بہت ضروری ہے۔

سوال نمبر ۱۔ جنت کے بارے میں جو نقشہ منبروں پر بیان کیا جاتا ہے وہ ایسا  ہے کہ گویا کوئی عیش و عشرت کا مقام ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے اور کیا انسان اسی عیش و عشرت کے حصول کے لیے دنیا میں خدا کی عبادت اور مخلوق کی خدمت کرتا ہے؟

جواب : جنت کے معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انسان کا اصل مقصد جنت کا حصول نہیں بلکہ خدا سے ملاقات کرنا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس کو یوں سمجھنا چاہیے کہ ایک شخص کو اپنے محبوب سے ملنا ہے ، وہ دن رات اس کی یاد میں غرق رہتا  اور ہر ایک سے اپنے محبوب کا پتا پوچھتا ہے۔ کوئی اسے بتاتا ہے کہ اگر تم فلاں باغ میں پہنچ گئے تو وہاں تمہیں محبوب مل جائے گا۔ جنت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ جنت وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے محبوب سے ملاقات کرسکتا ہے۔ جنت کی نعمتیں دراصل اس ضیافت اور میزبانی کا بیان ہیں جو خدائے رب ذوالجلال کی جانب سے  اپنے مہمانوں کو ہمیشہ کے لیے پیش کردی جائیں گی۔جیسے ہم کسی کے ہاں مہمان کے طور پر جاتے ہیں تو وہ ہماری خاطر تواضع کرتے ہیں لیکن اصل مقصد ملاقات ہوتی ہے ، چائے اور بسکٹ نہیں۔  یعنی اصل مقصد رب سے ملاقات ہے جبکہ باقی نعمتیں اس ملاقات کی ضیافت۔

سوال ۲: رب سے ملاقات سے کیا ملے گا؟

جواب: یہ کوئی سادہ سی  بات نہیں ۔ خدا سے ملاقات کا مطلب خدا کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرلینا  اور خدا کو پالینا ہے۔ یہ پانا حقیقی معنوں میں خدا کی رفاقت ہے اور جب خدا رفیق بن جائے تو انسان بھی  خدا کی کچھ صفات کا محدود معنوں میں حامل بن جاتا اور اس سطح پر پہنچ جاتا ہے کہ پھر جو وہ چاہے وہ ہوجاتا ہے۔  

سوال ۳:قرآ ن میں حوروں کا جابجا  ذکر ہے ۔ کیا اس سے  آزادانہ جنسی اختلاط کی جانب اشارہ نہیں ملتا؟

حواب۔ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ حوروں سے آزادانہ جنسی اختلاط کرنے کا معاملہ ہے۔ جیسے سورہ الدخان کی آیت ۵۴ میں بیان ہوتا ہے کہ ہم  ان کا جوڑا بڑی آنکھوں والی حوروں سے بنادیں گے۔ یہ وہی اسلوب ہے جو دنیا میں نکاح کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہاں جوڑے بنانے کا  بیان ہے نہ کہ آزاد اختلاط کا بیان۔دوسری جانب سورہ رحمان میں بیان ہوتا ہے کہ یہ حوریں خیموں میں مقیم ہونگی جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ باقاعدہ پرائیویسی موجود ہوگی۔ سورہ رحمان ہی میں ہے کہ وہ نیچے نگاہوں والی پاکیزہ  حوریں ہونگیں جو اس ان کی شرم و حیا اور عفت کو بیان کرتا ہے۔ چنانچہ یہ تاثر لینا کسی طور درست نہیں کہ یہ وہ  آزادی پر مبنی ماڈل ہے جس پر آج مغرب قائم ہے۔

دوسری با ت یہ کہ حوروں  کے ساتھ جوڑے بنائے جانے کا مقصد محض جنسی لذت  کا حصول سمجھنا بھی غلط ہے۔ اس دنیاکی زندگی میں انسان کو سماجی حیوان کہا گیا ہے یعنی وہ جوڑوں کی شکل میں گروپ بنا کر رہتا ہے تاکہ اپنا دکھ سکھ شئیر کرسکے۔ جنت میں دکھ تو نہیں البتہ دوستی کا اپنا ایک لطف ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم جنس بیویوں کی شکل میں اس حظ کو بیان کیا گیا ہے۔

سوال ۴: کیا یہ حوریں  انسان ہونگی یا کسی اور جنس سے ان کا تعلق ہوگا؟

جواب:  اس سے پہلے یہ جاننا لازمی ہے کہ یہ حوریں ہماری  طرح انسان ہونگی یا ان کا تعلق کسی اور  جنس سے ہوگا۔ قرآن میں ان حوروں کے حسن کا تو صراحت سے بیان موجود ہے لیکن یہ بات نہیں لکھی کہ وہ انسان ہونگی، جن ہونگی یا کوئی فرشتے کی جنس سے کوئی عورتیں۔ ہمارے موجودہ علم کے مطابق انسان کسی غیر انسانی مخلوق سے اختلاط نہ تو کرسکتا ہے اور ہی اس سے حظ اٹھاسکتا ہے۔ اسی طرح  سورہ ص میں بیان ہوتا ہے کہ  ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی اور ہم عمر عورتیں ہوں گی۔جس طرح ہم آہنگی کے لیے ہم عمر ہونا لازمی ہے اس سے کہیں زیادہ لازمی یہ بھی ہے کہ انسانوں کے لیے انسان اور جنات کے لیے جنات ہی کے جوڑے ہوں۔ اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ انسانوں کے لیے حوریں انسان ہی ہونگیں ۔ البتہ ان کو ایک خاص طریقے سے ڈھال کر ان کے حسن کو ملکوتی حسن میں تبدیل کردیا جائے گا(سورہ واقعہ آیت ۳۵)۔

سوال ۵: یہ حوریں کیا ہماری بیویاں ہی ہونگی؟

جواب: دونوں ہی باتیں ممکن ہیں۔ سورہ الزخرف آیت ۷۰ میں  بیان ہوتا ہے کہ  (ان سے کہا جائے گا) تم اور تمہاری بیویاں عزت و احترام کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ یہاں ان بیوی یا شوہر کی جانب اشارہ ہے جو دنیا میں بھی میاں بیوی تھے اور دونوں جنت کے لیے کوالی فائی کرگئے۔ سورہ الدخان کی آیت   ۵۴ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ وہاں بڑی آنکھوں والی خواتین (حوروں ) سے ان کا نکاح کردیا جائے گا۔ یہ غالبا وہ انسان ہونگے جن کی دنیوی بیوی یا شوہر یا تو تھے ہی نہیں یا  اگر تھے تو ان میں سے کوئی ایک  جنت میں نہیں پہنچ پایا۔ 

سوال ۶: اگر مردوں کے لیے حوریں ہیں تو عورتوں کے لیے کیا ہے؟

جواب۔ قرآن میں جگہ جگہ ازواج کا ذکر ہے جو مردو عورت دونوں پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی اگر حوریں وہ انسان ہی ہیں جو جنت میں پہنچ گئیں تو جب ان کا نکاح کیا جائے تو کسی انسان ہی سے کیا جائے گا۔ یا اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ پہنچی تو اس کا جوڑ ا اپنے دنیاوی شوہر ہی کے ساتھ ہوگا۔ بالفرض اگر مان بھی لیا جائے گا کہ مردوں کو حوروں کی شکل میں کچھ اضافی دیا گیا ہے تو سورہ ق میں بیان ہوتا ہے کہ لھم مایشاون فیھا کہ وہ وہاں جو چاہیں گے مل جائے گا۔ تو اگر کسی عورت کو مردوں کی اضافی  حوروں پر اعتراض ہوگا تو وہ اس آیت میں بیا کردہ  اصول کے تحت اس اعتراض کو رفع کرسکتی ہے۔

سوال ۷: کیا مردوں کو ایک سے زیادہ   حوریں یا عورتیں جنت میں ملیں گی؟

جواب : قرآن میں جہاں یہ بیان ہوا ہے وہاں تمہارے لیے پاکیزہ بیویا ں  ہونگی۔ تو اس سے بالعمو م یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ یہ ایک سے زائد بیویوں کی جانب اشارہ ہے۔ لیکن جملہ یوں ہے کہ تم (بہت سے  مردوں کے لیے )  بیویاں ہونگیں۔ تو اس تناظر میں یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا ہے ایک مردکو ایک سے زیادہ عورتیں یا حوریں عطا کی جائیں گی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں رکھا گیا تو وہاں بھی ان کی ایک ہی بیوی تھی۔

البتہ بعض روایات میں متعدد حوروں کا ذکر ہے۔ معاملہ کچھ بھی ہو،   لھم مایشاون فیھا یعنی وہاں جوتم چاہو گے مل جائے گا، کے اصول کے تحت بعید نہیں کہ ایک مردکا نکاح متعدد عورتوں سے کردیا جائے۔

سوال ۸: آپ نے کہا کہ جنت میں آزادانہ جنسی اختلاط نہیں ہوگا اور دوسری جانب آپ کہتے ہیں کہ وہاں ہم جو چاہیں گے ملے گا تو اگر کوئی آزادانہ جنسی اختلاط ر مصر ہو تو پھر کیا ہوگا؟

جواب:  جنتی لوگ دنیا  میں آزادی ہونے کے باوجود خود کو آزادانہ جنسی اختلاط سے روکتے تھے کہ رب کی منشا یہ نہیں۔ تو جنت میں ہم وہی چاہیں گے جو ہمارے رب کی منشا ہوگی۔ یعنی وہاں کوئی ایسی خواہش ہی پیدا نہیں ہوسکتی جو ہمارے رب کی منشا کے خلاف ہو۔

ڈاکٹر محمد عقیل

جلنے والا فرش

اکٹر محمد عقیل

کسی بستی میں ایک بہت امیر شخص رہتا تھا۔ یوں تو اس کے پاس سب کچھ تھا  لیکن اس کی دلچسپی زندگی سے ختم ہوتی جارہی تھی۔ اسے نہ بھوک لگتی تھی اور نہ ہی  صحیح طرح نیند آتی تھی۔ بس ہر وقت ایک پژمردگی، سستی اور کاہلی کی سی کیفیت رہتی۔ کئی حکیموں کا علاج کروالیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک دن کسی دور دراز علاقے میں کسی نے ایک ماہر حکیم کا پتا بتایا۔ حکیم نے علاج کرنے پر آمادگی ظاہر کرلی لیکن شرط رکھی  کہ میرے طریقہ علاج پر تم کوئی اعتراض نہیں کروگے ۔ وہ مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق تیار ہوگیا۔

حکیم نے کہا کہ صبح ایک مقام پر چلنا ہے لیکن تم اکیلے چلوگے اور کوئی ساتھ نہ ہوگا۔ صبح وہ روانہ ہوئے اور حکیم اسے ایک دورکسی سنسان جگہ پر لے آیا۔ وہاں ایک چھوٹا سا کمرہ بنا تھا اور کچھ بھی نہ تھا۔ حکیم نے اس سے اندر داخل ہونے کا کہا۔ جونہی وہ شخص اندر داخل ہوا، حکیم نے باہر سے کنڈی لگا کر کمرہ بند کردیا۔ وہ شخص گھبرایا۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے پیر جل رہے ہیں۔ اس نے کمرے کے چاروں طرف بھاگنا شروع کردیا تاکہ کوئی ٹھنڈی جگہ مل جائے لیکن وہ ناکام رہا۔ بس وہ پیروں کو جلنے سے بچانے کے لیے اچھل کود کرنے لگا۔ کافی دیر تک وہ یونہی اچھلتا اور شور مچاتا رہا لیکن کچھ حاصل نہ ہوا ۔ یہاں تک کہ نیم  بے ہوش ہوکر گر گیا۔

جب آنکھ کھلی تو خود اپنے گھر  میں موجود پایا۔ اس نے فورا حکم دیا کہ اس ناہنجار حکیم کو تلاش کیا جائے۔ ہرکارے  اسے لانے کے لیے  نکل گئے۔ اچانک اس شخص کو محسوس ہوا کہ خلاف معمول اسے بھوک لگ رہی ہے۔ اس نے  مدتوں بعد جی بھر کر کھانا کھایا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے محسوس کیا کہ اس کے جسم میں ایک چستی آگئی ہے اور دل میں ایک خوشی کی لہر ہے۔ وہ اپنے پیروں کی تکلیف بھول گیا اور حکیم کو سزا دینے کی بجائے انعام دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ حکیم کا طریقہ علاج سمجھ چکا تھا۔

یہ کہانی آپ سب نے شاید بچپن میں پڑھی ہوگی لیکن اس سائیبر ایج میں ہم سب اسی کہانی کا  مرکزی کردار بنتے جارہے ہیں۔ ہماری فزیکل ایکٹوٹی کم و بیش ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ جسمانی نظام کی درستگی پندرہ بیس منٹ کی ورزش یا واک کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ واک ہمیں دل، شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں سے بچاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی ایکسرسائز سے کئی ہارمون خارج ہوتے ہیں جو ہمارے موڈ کو بہتر بناتےاور جینے کی امنگ اور خوشی پیدا کرتے ہیں۔

ہم یہ سب جاننے کے باوجود نہیں مانتے۔ پھر انجام یہ کہ نیچر کا قانون حرکت میں آتا ہے جو ہمیں بیماریوں  کے جلتے ہوئے فرش پر لاکھڑا کرتا ہے۔ اس فرش پر تکلیف کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اور لیبارٹریوں کا چکر لگانا مقدر بن جاتا ہے۔ یہ وہی چکر تھے جو وہ  واک کی شکل میں کرلیتا تو آج اس طواف سے محفوظ رہتا۔

پس  عقلمند وہی ہے جو خود  کو سدھا ر لے اس سے پہلے کہ نیچر اسے جلنے والے فرش پر کھڑا کردے اور وہ حسرت کی تصویر بن جائے۔  

%d bloggers like this: