درست عالم یا ڈاکٹر کا انتخاب


سوال : ایک انسان کس طرح کسی درست ڈاکٹر یا عالم کا انتخاب کرسکتا ہے ؟
جواب: آج سے چند سال قبل میری بیٹی جو اس وقت سات آٹھ سال کی ہوگی اس کے پیٹ میں درد اٹھا۔ ایک علاقے کی ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے کہا کہ اسے آپ ہاسپٹل لے جائیں۔ میں قریبی ہسپتال کے کر گیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اپینڈکس ہے اور بس فوری آپریشن کرنا ہوگا اور بس ابھی سرجن صاحب آرہے ہیں اور آپریشن کروالیں۔ مجھے لگا کہ یہ ڈاکٹر بے وقوف بنا رہا ہے کیونکہ درد کی نوعیت ایسی معلوم نہیں ہورہی تھی۔ میں ایک اور ڈاکٹر کے پاس لے گیا جو بہت پرانے تھے اور تجربہ رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اپینڈکس کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوتا اور یہ صرف کلینکل ڈائگنوسس کی بنیاد پر ہی طے ہوتا ہے کہ اپینڈکس ہے یا نہیں۔ پھر انہوں نے خود چیک کیا اور مجھے بھی ہاتھ رکھ کر چیک کروایا کہ آنتوں کی نرمی بتارہی ہے اپینڈکس نہیں ہے ۔ انہوں نے دوا دی اور سب ٹھیک ہوگیا۔
یہاں دیکھا جائے تو میں میڈیکل کا بالکل علم نہیں رکھتا تھا ، صرف کامن سینس کی بنیاد پر میں نے کوشش کی اور درست ڈاکٹر تک پہنچ گیا۔ یہی رویہ عالم دین کے انتخاب میں بھی ہوتا ہے۔ ایک عالم دین جب کوئی مسئلہ بتاتا ہے تو اس کے ساتھ دلیل بھی دیتا ہے اور اگر نہیں دیتا تو دینا چاہیے۔اگر اس کی دلیل سمجھ آرہی ہے تو بہت اچھی بات ہے ۔ لیکن اگر کچھ شک ہے تو اس پر عمل کرنے سے قبل کسی دوسرے مکتبہ فکر کے عالم سے رائے لینے اور دلیل معلوم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ دونوں کے دلائل سمجھنے کے لیے عالم دین ہونا لازمی نہیں ۔ جس طرح ہم دو ڈاکٹروں، دو دوکانداروں، دو ٹھیکیداروں اور دو اسکولوں کا انتخاب بخوبی کرلیتے ہیں اسی طرح درست رائے جاننا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح تو ہم عالم دین کے چکر ہی لگاتے رہیں گے اور ہمیں بیسیوں کام کرنے ہوتے ہیں تو اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ ہمیں ڈاکٹروں کے پاس بھی اسی وقت جانا ہوتا اور موازنہ کرنا ہوتا ہے جب کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہو۔ اور ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمیں دین کے ایسے مسائل کا سامنا بھی شاذو نادر ہی کرنا پڑتا ہے جب موازنہ کرنا پڑے ۔
یعنی جس طرح ہمارا کام یہ نہیں کہ روزانہ ہم ہسپتال میں یہ خاک چھانتے پھریں کہ کون سا ڈاکٹر صحیح ہے اور کون غلط۔ ایسے ہی ہم پر یہ فرض نہیں کہ ہر وقت صحیح اور غلط علما ہی تلاش کرتے رہیں۔ نہیں جب ضرورت پڑے تب تلاش کرلیں اور یہ کبھی کبھی ہی ہوتا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل

دوسرے مسلک کے عالم سے رجوع کرنا


سوال : کسی دوسرے عالم دین سے رجوع کرنے کی صورت میں تو خواہش پرستی جنم لے گی؟
جواب: یہ ایک اشکال ہے کہ اگر ایک شخص کو مسلک اور عالم تبدیل کرنے کی اجازت دے دی جائے تو کیا خواہش پرستی جنم نہیں لے گی۔ یعنی ایک شخص نے اگر اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں تو حنفی مسلک کے تحت طلاق واقع ہوگئی۔ لیکن وہ حنفی مسلک کے عالم سے مطمئین نہیں ہوتا کیونکہ اس کا مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تو وہ اہل حدیث کے پاس جاتا ہے جہاں اسے بتادیا جاتا ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک ہیں اور وہ اپنی بیوی سے تعلق قائم کرسکتا ہے۔
ا س کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ خواہش پرست ہوتے ہیں وہ تو عام طور پر ویسے بھی دین کی حددود قیود کا خیال نہیں رکھتے۔لہٰذا اس بنیاد پر تقلید جامد کو فروغ دینا مناسب نہیں۔نیز اگر کسی نے خواہش کی بنیاد پر کسی مسئلے کو ماننے یا رد کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو وہ تو اس پابندی کو بھی نہیں مانے گا کہ کسی دوسرے مسلک کے عالم سے پوچھنا جائز نہیں ہے،
اس کے علاوہ ایسے مسائل بہت کم ہوتے ہیں جس میں انسان خواہش کی بنا پر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔ اکثر مسائل میں ایک صالح مسلمان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی بات تک پہنچ جائے۔ بہرحال کسی کو خواہش پرستی سے روکنے کے لیے سب کو اندھی تقلید پر مجبور کرنا مناسب نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل

ڈاکٹر اور عالم سے علمی اختلاف


سوال۔ کیا ڈاکٹر اور عالم سے ایک عام انسان علمی اختلاف کرسکتا ہے جبکہ اس کے پاس خود علم نہیں؟
جواب: آج سے بیس سال قبل پاکستان میں میڈیکل ڈاکٹروں کا رویہ یہ ہوتا تھا کہ وہ مریض کو بہت کم باتیں بتاتے تھے اور خاموشی سے اسے دوائیں تجویز کردیتے۔وہ مرض کے بارے میں تفصیل سے مریض کو نہیں سمجھاتے تھے اور نہ ہی اپنی تشخیص کے دلائل دیتے تھے۔ چنانچہ ان کی اندھی تقلید کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ آج صورت حال مختلف ہےاب مریض ڈاکٹروں سے اس مرض کی تفصیل جاننا چاہتا اور اپنے مرض کی تشخیص پر اطمینان بخش جواب چاہتا ہے۔ چنانچہ آج مریض کو اچھے ڈاکٹر مرض کے بارے میں بھی بتاتے اور اس کے ٹیسٹ کی رپورٹ ثبوت کے طور پر اسے دیتے اور اسے مطمئین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مریض مطمئین نہ ہو تو کسی بھی دوسرے داکٹر کے پاس جاسکتا ہے ۔
علمائے دین کا معاملہ بھی یہی ہونا چاہیے۔ جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے تووہ پوچھنےوالے کو اپنی رائے بھی بیان کرے اور اس کے ساتھ ساتھ آسان الفاظ میں اس کے دلائل بھی پیش کرے۔ سوال پوچھنے والا اگر مطمئین نہ ہو تو اسے سمجھائے کہ اس نے یہ رائے کیوں اختیار کی۔ اگر سوال پوچھنے والا مطمئین نہ ہو تو وہ کسی دوسرے عالم دین کی جانب رجوع کرسکتا ہے۔
تو حتمی جواب یہ ہے کہ عالم دین سے ٹیکنکل معاملے میں اختلاف کرنے کے لیےتو عالم ہونا ضروری ہے لیکن عالم کی بات سمجھنے کے لیے اور اس کی پیش کردہ دلیل سے مطمئین ہونے کے لیے عالم ہونا لازمی نہیں۔ ایک عام پڑھا لکھا شخص یہ کام کرسکتا ہے۔ دلیل سے مطمئین کرنا عالم کا کام ہے اور اس کا بنیادی فرض ہے۔
پروفیسر محمد عقیل

ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف


ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف
عام طور پر جب مذہبی علما سےب اختلاف کی بات کی جاتی اور تحقیق کے بارے میں کہا جاتا ہے تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ “جس طرح کسی اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر سے کسی عام شخص کو اختلاف کا کوئی حق نہیں، اسی طرح ایک عام انسان نہ ہی تحقیق کرسکتا اور نہ ہی عالم سے اختلاف کرسکتا ہے۔ اس کے لیے اسی درجے کا عالم ہونا لازمی ہے۔”۔ یہ دلیل جزوی طور درست ہے۔ یعنی علمی طور پر کسی ڈاکٹر سے” علمی اختلاف” کرنے کے لیے ڈاکٹری کا علم ہونا ضرور ہے۔یعنی ایک ڈاکٹر یہ تشخیص کررہا ہے کہ سینے کے درد کی وجہ ہارٹ کا معاملہ ہے اور ایک عام آدمی اپنی ڈاکٹری لڑا رہا ہے کہ نہیں جناب یہ تو گیس کا مرض معلو م ہوتا ہے۔
لیکن دوسرے پہلو سے یہ بات غلط ہے۔ ایک ڈاکٹر کے اخلاقی پہلو کو جانچنے کے لیے ڈاکٹر ہونا قطعا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر غلط تشخِیص کررہا ہے، پیسے بنانے کے لیے ٹیسٹ پر ٹیسٹ لکھ رہا ہے، بار بار بلانے کے لیے مرض کا درست علاج نہیں کررہا، اور کمیشن کھانے کے لیے کسی خاص میڈیکل اسٹور بھیج رہا ہے تو اس قسم کے ڈاکٹر کی علمیت سے ہمیں نہ کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی علمی اختلاف کرنا ہے۔ ہم تو اس سے عملی اختلاف کرتے ہوئے کنارہ کش ہوجائیں گے اور اس اختلاف کے لیے ڈاکٹر ہونا لازمی نہیں۔ اس کا طریقہ یہی ہوگا کہ ہم اس ڈاکٹر کے رویے کا جائزہ لیں گے، اس سے کچھ سوالات کریں گے، کچھ لوگوں سے رائے لیں گے اور اطمینان نہ ہونے کی صورت میں کنارہ کش ہوجائیں گے،
یہی رویہ علما کے لیے بھی مطلوب ہے۔کس عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے ظاہر ہے دین کا ٹیکنکل علم ہونا لازمی ہے۔ لیکن عملی اختلاف کرنے کے لیے صرف کامن سینس کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عالم فرقہ واریت کی دعوت دے رہا، شعیہ سنی کو لڑوارہا،معصوم لوگوں کے قتل کا سبب بن رہا ، اپنے قول سے دنیا پرستی کو حرام اور فعل سے دنیا میں پوری طرح ملوث ہو، زبان سے عورتوں کی آواز کو بھی سننا حرام قرار دیتا ہو اور عمل سے عورتوں کی محفلوں کا رسیا ثابت ہو تو وہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، اس کی اس اپروچ سے ہمیں اختلاف ہوگا۔ یہ اختلاف کرنے کے لیے ہمیں درس نظامی سے عالم کا کورس کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی جامعہ الازہز سے عالم کی ڈگری لینے کی حاجت۔ جب بھی ہم کسی عالم میں کوئی اس قسم کی عملی برائی دیکھیں گے تو سب سے پہلے تو اس سے بات چیت کریں گے کہ ممکن ہے ہمیں مغالطہ ہوا ہو یا بات سمجھ نہ آئی ہو، پھر لوگوں سے ڈسکس کریں گے اور اس سب کےباوجود اگر اطمینان نہیں ہوا تواس کی تقلید محض اس لیے نہیں کرنے لگیں گے کہ ہمارے مسلک کے عالم ہیں یا ان عالم کی ہر بات درست ہوگی اور یہ غلطی نہیں کرسکتے۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر اور ایک عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے مطلوبہ علم ہونا لازمی ہے۔ البتہ ایک ڈاکٹر یا مذہبی عالم کے علم پر شک ہونے کی صورت میں تحقیق کرنا لازمی ہے۔ اور ایک ڈاکٹر یا ایک عالم کے عمل میں غلط رویہ ثابت ہونے کی صورت میں دونوں سے دور ہوجانا بھی لازم ہے غلط انتخاب اگر ڈاکٹر کے معاملے میں ہوجائے تو جان کو خطرہ ہے اور اگر عالم کے معاملے میں ہوجائے تو ایمان کو خطرہ ہے۔
پروفیسر محمد عقیل

کنویں کا مینڈک


کنویں کا مینڈک
از پروفیسر محمد عقیل
آ پ نے اکثریہ محاورہ سناہوگا۔ایک مینڈک کنویں کے اندرپیداہوا، پلا، بڑھااورپروان چڑھا۔اس نے اپنے اردگردایک تاریک ماحول دیکھا،سیلن، بدبواورایک تنگ سادائرہ۔صبح وشام اس کاگذربسراسی محدوددنیامیں ہواکرتا۔اس کی غذابھی چندغلیظ کیڑے تھے۔ایک دن ایک اورمینڈک باہرسے اس کنویں ایک اور مینڈک گرگیا۔اس نے کنویں کے مینڈک کوبتایاکہ باہرکی دنیابہت وسیع ہے،وہاں سبزہ ہے،کھلاآسمان ہے،وسیع زمین ہے اورآزادزندگی ہے۔لیکن کنویں کامینڈک ان تمام باتوں کوسمجھ ہی نہیں سکتاتھاکیوں کہ وہ توکنویں کامینڈک تھا۔
ہم میں سے اکثرمتمدن شہری بھی کنویں کے مینڈک بنتے جارہے ہیں۔ہم انسانوں کے بنائے ہوئے ماحول میں شب وروزبسرکرتے ہیں۔صبح آفس کے لیے گاڑی لی،شام تک آفس کی چاردیواری میں محدودرہے اورپھرسواری میں گھرآگئے۔کسی چھٹی والے دن اگرکوئی تفریح بھی ہوئی توہوٹل وغیرہ چلے گئے۔اگرہم غورکریں توہماراتمام وقت انسان کی بنائی ہوئی مادی چیزوں کے ساتھ ہی بسرہوتاہے۔جس کے نتیجے میں مادیت ہی جنم لیتی ہے۔ہمارے اردگردفطرت کی دنیابھی ہے۔جس سے روحانیت پیداہوتی ہے۔لیکن ہم اس کی طرف نگاہ بھی نہیں ڈالتے کیونکہ ہم خوفزدہ ہیں کہ کہیں یہ مادی وسائل ہم سے چھن نہ جائیں۔اگرہم اس مادی کنویں سے باہرنکلیں توپتاچلے گاکہ ہمارے اوپرپھیلاہو نیلگوں اآسمان ہے جہاں خدابلندیوں کی جانب دعوت دے رہاہے۔ایستادہ پہاڑہیں جوانسان کومضبوطی کاسبق دے رہے ہیں،شام کے ڈھلتے ہوئے سائے ہیں جوہمیں خداکے حضورجھکناسکھارہے ہیں،بہتے ہوئے دریاہیں جو رواں دواں زندگی کااظہارکررہے ہیں۔ساحل کی ٹکراتی موجیں ہیں جوعمل پیہم کاپیام سنارہی ہیں،پتھرپرگرتاہواپانی کا قطرہ ہے جوناممکن کوممکن بنارہاہے۔
غرض یہ چڑیوں کی چہچہاہٹ،بلبلوں کی نغمگی،شفق کی لالی،درختوں کی چھاؤں اوردیگرمظاہرفطرت انسان کوایک روحانی دنیاکی جانب بلارہے ہیں وہ ایسے خداکی جانب بلارہے ہیں جو اسے ایک کامل تر دنیاکی جانب لے جانا چاہتا ہے۔لیکن انسان نے بھی عزم کرلیاہے کہ وہ ان کی جانب ایک نظربھی نہیں ڈالے گا،وہ ہرگزاس مادی کنویں کی بدبو،سیلن اورمحدودیت کو چھوڑنے کے لیے تیارنہیں کیونکہ وہ توکنویں کامینڈک ہے۔جس کی دماغی صلاحیت کنویں سے باہرکی حسین اورپرسکون زندگی کوسمجھنے سے قاصرہے۔

سورہ العلق کی تشریح


سورہ العلق کی تشریح
پروفیسر محمد عقیل
پس منظر
سورہ العلق کی ابتدائی پانچ آیات وہ پہلی وحی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں۔ ان پانچ آیات کے بعد دیگر آیات کچھ عرصے بعد نازل ہوئیں Continue reading

سورہ فاتحہ کی تفسیر


سورہ فاتحہ کی تفسیر

پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے
تعارف: سورہ فاتحہ کی تین آیات علم اور باقی تین آیات عمل کی ہیں۔ یہ ترازو یا میزان کے دو پلڑے ہیں جس میں ایک جانب علم اور دوسری جانب عمل موجود ہے۔ علم اور عمل کے امتزاج ہی سے فاتحہ یعنی وہ دروازہ کھلتا ہے جس سے انسان دینی و دنیوی زندگی کی کامیابیاں سمیٹتا ہے۔سورہ فاتحہ دین و دنیا کی کامیابی کا فلسفہ اور کنجی ہے۔ یہ کم و بیش متفقہ طور پر وہ پہلی سورۃ ہے Continue reading

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 3,551 other followers