بدھا کے دیس میں از راعنہ نقی سید


بدھا کے دیس میں
سفر نامہ از راعنہ نقی سید

بدھا کےدیس میں
سفر نامہ پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں یا سائٹ پر پڑھنے کے لیے نیچے اسکرول کریں۔
updatedبدھا کےدیس میں

سفر نامہ

انسان کی فطرت ہے کہ یکسانیت سے اکتاہٹ محسوس کرتا ہے اور نئے اور انوکھے تجربات میں سکون کا متلاشی رہتا ہے۔سفر اورسیاحت کا شمار بھی ایسے ہی تجربات میں ہوتا ہے۔بسااوقات یہ آوارہ گردی ایک جنون کا روپ دھار لیتی ہے۔ انسان اس کا شکار ہو جائے تو نئی منزلوں اور ان دیکھی راہگزروں کی طرف سفر کے سوا کوئی چیز اس دیوانگی کا علاج نہیں کر سکتی۔ لیکن ایسے لوگوں کے لئے پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

علم کے درجات


تحریر : ڈاکٹر محمد عقیل

"علم کے کتنے درجات ہوتے ہیں؟”
حضرت نے مجھ سے پوچھا۔ سوال بڑا اچانک تھا اور ادب بھی ملحوظ خاطر تھا اس لیے یہی جواب بن پڑا۔
پڑھنا جاری رکھیں

پیغمبر اور ان کی مشترکہ تعلیمات

Paighmabar ki Mushtarika Taleemat

میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے


میں اور وہ۔بس یہی زندگی ہے
ڈاکٹر محمد عقیل
زندگی کی کہانی صرف دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔” میں اور وہ "۔ جو میں ہوں وہ بس "میں "ہوں اور جو میں نہیں وہ بس ” وہ” ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کا معاملہ یہی ہے۔ ایک طرف ہماری اپنی ذات ہے تو دوسری طرف اس ذات سے باہر کی دنیا۔ زندگی بس انہی دو لفظوں کو سمجھ لینے کا نام ہے۔ اپنی ذات کو جاننا دراصل ” میں ” کو جان لینا ہے ۔ جبکہ اپنی ذات سے باہر کی دنیا کو جاننا اس سماج کو جان لینا ہے
پڑھنا جاری رکھیں

من پر قابو کیسے ؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر محمد عقیل
• حضرت ، چند باتیں بہت پریشان کرتی ہیں؟ میں نے حضرت سے پوچھا
• پوچھو کیا مسئلہ ہے؟ حضرت نے جواب دیا۔
• حضرت ، گوکہ میں جانتا ہوں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟لیکن پھر بھی خود پر قابو نہیں۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟
• بھئی دیکھو،محض یہ جاننا ضرور نہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ سب سے پہلے تو ” خود” کو جاننا ضروری ہے پڑھنا جاری رکھیں

انسانی ذہن اور وجود الٰہی


تحریر:ڈاکٹر محمد عقیل

دنیا کے تمام مذاہب میں خدا کا تصور موجود ہے۔ خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے عبادت کی جاتی ہے۔ اگر مشرکانہ مذاہب کی عبادت کو دیکھا جائے تو وہ خدا کا بت، تصویر یا پتلا سامنے رکھ کر اسے خدا سمجھتے ہیں اور یہ تمام مراسم عبودیت ادا کرتے ہیں۔ اس سے اگلا درجہ مراقبے کا ہے۔اس میں خدا کو سامنے تو نہیں رکھا جاتا البتہ اس کے کسی تصور کو فوکس کرکے اس سے تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ یہ تصور کسی بت کا بھی پڑھنا جاری رکھیں

شب قدر اور فرشتے سے مکالمہ

پروفیسر عقیل کا بلاگ

کتنی اہم رات ہے۔
اچانک سلیم کا جی چاہا ہے ان کے بات چیت کرے۔ وہ ان کے قریب گیا اور سلام عرض کیا۔ فرشتوں نے مسکراکر جواب دیا۔
"کیا میں آپ سے بات چیت کرسکتا ہوں؟ ” سلیم نے پوچھا۔
” جی ضرور! فرمائیے!”
” مجھے یہ پوچھنا ہے کہ پاکستان کے لوگ اتنی عبادتیں کرتے ، اتنی دعائیں مانگتے، اتنے روزے رکھتے اور اتنی زکوٰۃ دیتے ہیں لیکن پھر بھی اس ملک کا برا حال ہے۔ عوام چکی میں پس رہے ہیں،غربت، افلاس ، بھوک، دہشت گردی، قتل و گردی لگتا سے سب مسائل نے اسی ملک میں ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ کیا خدا نے نہیں کہا کہ دعا کرو میں سنوں گا؟ پھر خدا ہماری سنتا کیوں نہیں؟ کیا وہ رحمان و رحیم نہیں ہے؟”
فرشتوں نے بغور اس بات کو سنا اور پھر ان میں سے ایک فرشتہ گویا ہوا:
” کیا دل میں درد کا…

View original post 1,051 more words

%d bloggers like this: