جدید دنیا نے انسان کو خوشی کے بے شمار دروازے دے دیے ہیں۔ چند لمحوں میں تفریح، ذائقہ، توجہ اور تسکین—سب کچھ دستیاب ہے۔ ہر نوٹیفکیشن، ہر ویڈیو، ہر پسندیدہ ذائقہ دماغ میں “ڈوپامین” کے اخراج کو بڑھاتا ہے۔ ابتدا میں یہ کیفیت خوشی اور جوش پیدا کرتی ہے، مگر مسئلہ تب جنم لیتا ہے جب یہ اخراج معمول سے بڑھ کر روزمرہ کا حصہ بن جائے۔
نیوروسائنس کے مطابق ہمارادماغ ایک توازن کی حالت میں پیدا کیا گیا ہے جہاں لذت اور تکلیف کا ایک بیلنس برقرا ر رہنا ضروری ہے۔ جب ہم کوئی پسندیدہ کام کرتے ہیں تو ڈوپامین نامی ایک ہارمون خارج ہوتا ہے جو ہمیں خوشی اور لذت کے احساس سے گذارتا ہے۔ لیکن چونکہ دماغ توازن کے اصول پر بنا ہے تو لذت پیدا ہونے کے کچھ ہی دیر بعد دماغ میں منفی رد عمل پیدا ہوتا ہے جس کا مقصد ڈوپامین کو کم کرکے لذت کو بیلنس کرنا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتو انسان ہر وقت ہی سرشاری، مسرور اور خوشی کی حالت میں مدہوش رہے گا اور کسی کام کے قابل نہ ہوگا۔
تحقیق کے مطابق پر جنسی عمل کرنے سے ڈوپامین کے اخراج میں سو فی صد ، نکوٹین سے 150 فی صد،اور مٹھاس سے سو فی صد اور سوشل میڈیا کے استعمال سے ڈیڑ ھ سو سے ڈھائی سو فی صد تک اضافہ ہوتا ہے۔نشہ آور اشیاء سے تو یہ اخراج ایک ہزار فی صد تک جاپہنچتا ہے۔ البتہ جونہی ڈوپامین شدت سے خارج ہوتا ہے تو اسی شدت سے دماغ کا بیلنس میکنزم حرکت میں آتا اور لذت کو بوریت، تھکاوٹ، اکتاہٹ ، بے چینی جیسی تکالیف پیدا کرکے نیوٹرلائز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
عمومی حالات میں قدرت کا یہ نظام بہت زبردست طریقے سے کام کرتا رہتا اور انسان کو خوشیاں، لذت اور تفریح فراہم کرتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم مسلسل لذت کے حصول کے لیے سوشل میڈیا پر سکرالنگ کرتے ، فلمیں دیکھتے ، نت نئے کھانے ہی کھاتے ، شاپنگ میں ہمہ وقت مصروف رہتے، اور سگریٹ، گٹکہ ، پان ہر وقت منہ میں دبا کر رکھتے ہیں۔ جب ہم بار بار بہت زیادہ لذت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دماغ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اُس خوشی کی تاثیر کم کر دیتا ہے۔ یوں وہی چیز دوبارہ ویسا مزہ نہیں دیتی، اور انسان مزید کی طلب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس نہ ختم ہونے والی دوڑ میں خوشی پیچھے رہ جاتی ہے اور تھکن، خالی پن اور اضطراب آگے آ جاتے ہیں۔ یوں لذت کی زیادتی دراصل تکلیف کو جنم دیتی ہے۔
اس کا دوسرا نتیجہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک نکلتا ہے۔ ہماری خوشی کی ایک عام سطح ہوتی ہے جسے نیورو سائنس میں ہیڈونک سیٹ پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ سطح ہے جس پر ہمارا دماغ معمولی خوشیوں سے مطمئن رہتا ہے۔
جب ہم مسلسل اور زیادہ شدت والی لذتیں (مثلاً سوشل میڈیا، زیادہ میٹھا یا دیگر تیز محرکات) لیتے رہتے ہیں، تو یہ سطح آہستہ آہستہ نیچے آ جاتی ہے۔ اب وہ شخص جو پہلے معمولی خوشیوں سے پچاس فیصد اطمینان محسوس کرتا تھا، مسلسل زیادہ ڈوپامین والے محرکات لینے اور دماغ کے منفی ردعمل کی وجہ سے کم اطمینان محسوس کرنے لگتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے ہیڈونک سیٹ پوائنٹ پر تقریباً پچاس ڈگری اطمینان محسوس کرتا تھا۔ لیکن کچھ عرصے بعد، جب اس کی دماغی نیورو ایڈاپٹیشن (neuroadaptation) اور منفی ردعمل بڑھ جاتے ہیں، اس کا عمومی اطمینان پچاس سے گر کر تقریباً پچیس ڈگری تک رہ جاتا ہے۔ اب اسی شخص کو پہلے جیسی معمولی خوشی محسوس کرنے کے لیے مسلسل سوشل میڈیا یا دیگر تیز محرکات درکار ہوں گے، اور وہ بمشکل پچاس ڈگری تک پہنچ پائے گا، جہاں پہلے بغیر کسی اضافی محرک کے کھڑا تھا۔
اس الجھن سے نکلنے کا راستہ خوشیوں سے بھاگنا نہیں بلکہ اعتدال اپنانا ہے۔ وقتی طور پر اُن سرگرمیوں سے وقفہ لینا جو ہمیں حد سے آگے لے جاتی ہیں—جیسے حد سے زیادہ اسکرین ٹائم یا بے قابو کھانا—دماغ کو سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ جب مسلسل محرک کم ہو جاتے ہیں تو معمولی خوشیاں بھی پھر سے معنی خیز محسوس ہونے لگتی ہیں: صبح کی ہوا، خاموشی میں چائے کا کپ، کسی اپنے سے بے تکلف گفتگو۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ خوشی بری ہے یا اچھی، بلکہ یہ کہ ہم خوشی کو کیسے برتتے ہیں۔ جب لذت زندگی پر حاوی ہو جائے تو زندگی پھیکی پڑ جاتی ہے۔ مگر جب ہم حدود قائم کر کے بامعنی سرگرمیوں کو جگہ دیتے ہیں تو سادہ لمحات بھی قیمتی بن جاتے ہیں۔ عیش و آسائش کے اس شور میں اصل دانش توازن کی تلاش ہے—وہ توازن جو ہمیں وقتی لذت سے نکال کر دیرپا اطمینان تک لے جائے
ڈاکٹر محمد عقیل (چیٹ جی پی ٹی کی مدد لی گئی ہے)




