ڈوپامین  ، لذت کا تکلیف

جدید دنیا نے انسان کو خوشی کے بے شمار دروازے دے دیے ہیں۔ چند لمحوں میں تفریح، ذائقہ، توجہ اور تسکین—سب کچھ دستیاب ہے۔ ہر نوٹیفکیشن، ہر ویڈیو، ہر پسندیدہ ذائقہ دماغ میں “ڈوپامین” کے اخراج کو بڑھاتا ہے۔ ابتدا میں یہ کیفیت خوشی اور جوش پیدا کرتی ہے، مگر مسئلہ تب جنم لیتا ہے جب یہ اخراج معمول سے بڑھ کر روزمرہ کا حصہ بن جائے۔

نیوروسائنس کے مطابق ہمارادماغ ایک توازن کی حالت میں پیدا کیا گیا ہے  جہاں لذت اور تکلیف کا ایک بیلنس برقرا ر رہنا ضروری ہے۔ جب ہم   کوئی پسندیدہ کام کرتے ہیں تو ڈوپامین نامی ایک ہارمون خارج ہوتا ہے جو ہمیں خوشی اور لذت کے احساس سے گذارتا ہے۔ لیکن چونکہ دماغ  توازن کے اصول پر بنا ہے تو  لذت پیدا ہونے کے کچھ ہی دیر بعد دماغ میں منفی رد عمل پیدا ہوتا ہے جس کا مقصد ڈوپامین کو کم کرکے لذت کو بیلنس کرنا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتو انسان ہر وقت ہی سرشاری، مسرور اور خوشی کی حالت میں  مدہوش رہے گا اور کسی کام کے قابل نہ ہوگا۔

تحقیق کے مطابق پر جنسی عمل کرنے سے ڈوپامین کے اخراج میں سو فی صد ، نکوٹین سے 150 فی صد،اور   مٹھاس سے سو فی صد اور سوشل میڈیا کے استعمال سے ڈیڑ ھ سو سے ڈھائی سو فی صد تک  اضافہ ہوتا ہے۔نشہ آور اشیاء سے تو یہ اخراج ایک ہزار فی صد تک جاپہنچتا ہے۔ البتہ  جونہی  ڈوپامین شدت سے خارج ہوتا ہے تو اسی شدت سے دماغ کا بیلنس میکنزم حرکت میں آتا اور لذت کو  بوریت، تھکاوٹ، اکتاہٹ ، بے چینی جیسی تکالیف پیدا کرکے نیوٹرلائز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

عمومی حالات میں  قدرت کا یہ نظام بہت زبردست طریقے سے کام کرتا رہتا اور انسان کو خوشیاں، لذت اور تفریح فراہم کرتا ہے۔  مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب  ہم مسلسل لذت کے حصول کے لیے  سوشل میڈیا پر   سکرالنگ کرتے ، فلمیں دیکھتے ، نت نئے کھانے ہی کھاتے ، شاپنگ میں ہمہ وقت مصروف رہتے،  اور سگریٹ، گٹکہ ، پان ہر وقت منہ میں دبا کر رکھتے ہیں۔   جب ہم بار بار بہت زیادہ لذت حاصل کرنے کی کوشش کرتے  ہیں تو دماغ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اُس خوشی کی تاثیر کم کر دیتا ہے۔ یوں وہی چیز دوبارہ ویسا مزہ نہیں دیتی، اور انسان مزید کی طلب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس نہ ختم ہونے والی دوڑ میں خوشی پیچھے رہ جاتی ہے اور تھکن، خالی پن اور اضطراب آگے آ جاتے ہیں۔ یوں لذت کی زیادتی دراصل تکلیف کو جنم دیتی ہے۔

اس کا دوسرا نتیجہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک نکلتا ہے۔ ہماری خوشی کی ایک عام سطح ہوتی ہے جسے نیورو سائنس میں ہیڈونک سیٹ پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ سطح ہے جس پر ہمارا دماغ معمولی خوشیوں سے مطمئن رہتا ہے۔

جب ہم مسلسل اور زیادہ شدت والی لذتیں (مثلاً سوشل میڈیا، زیادہ میٹھا یا دیگر تیز محرکات) لیتے رہتے ہیں، تو یہ سطح آہستہ آہستہ نیچے آ جاتی ہے۔ اب وہ شخص جو پہلے معمولی خوشیوں سے پچاس فیصد اطمینان محسوس کرتا تھا، مسلسل زیادہ ڈوپامین والے محرکات لینے اور دماغ کے منفی ردعمل کی وجہ سے کم اطمینان محسوس کرنے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک شخص سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے ہیڈونک سیٹ پوائنٹ پر تقریباً پچاس ڈگری اطمینان محسوس کرتا تھا۔ لیکن کچھ عرصے بعد، جب اس کی دماغی نیورو ایڈاپٹیشن (neuroadaptation) اور منفی ردعمل بڑھ جاتے ہیں، اس کا عمومی اطمینان پچاس سے گر کر تقریباً پچیس ڈگری تک رہ جاتا ہے۔ اب اسی شخص کو پہلے جیسی معمولی خوشی محسوس کرنے کے لیے مسلسل سوشل میڈیا یا دیگر تیز محرکات درکار ہوں گے، اور وہ بمشکل پچاس ڈگری تک پہنچ پائے گا، جہاں پہلے بغیر کسی اضافی محرک کے کھڑا تھا۔

اس الجھن سے نکلنے کا راستہ خوشیوں سے بھاگنا نہیں بلکہ اعتدال اپنانا ہے۔ وقتی طور پر اُن سرگرمیوں سے وقفہ لینا جو ہمیں حد سے آگے لے جاتی ہیں—جیسے حد سے زیادہ اسکرین ٹائم یا بے قابو کھانا—دماغ کو سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ جب مسلسل محرک کم ہو جاتے ہیں تو معمولی خوشیاں بھی پھر سے معنی خیز محسوس ہونے لگتی ہیں: صبح کی ہوا، خاموشی میں چائے کا کپ، کسی اپنے سے بے تکلف گفتگو۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ خوشی بری ہے یا اچھی، بلکہ یہ کہ ہم خوشی کو کیسے برتتے ہیں۔ جب لذت زندگی پر حاوی ہو جائے تو زندگی پھیکی پڑ جاتی ہے۔ مگر جب ہم حدود قائم کر کے بامعنی سرگرمیوں کو جگہ دیتے ہیں تو سادہ لمحات بھی قیمتی بن جاتے ہیں۔ عیش و آسائش کے اس شور میں اصل دانش توازن کی تلاش ہے—وہ توازن جو ہمیں وقتی لذت سے نکال کر دیرپا اطمینان تک لے جائے

ڈاکٹر محمد عقیل (چیٹ جی پی ٹی کی مدد لی گئی ہے)

مغربی ممالک  ہجرت کرنے والوں کے نام

ہمارے ملک کے نوجوان ہوش سنبھالتے ہیں ملک سے باہر جانے کے خواب دیکھنا کیوں  شروع ہوجاتے ہیں؟ اس کی دو قسم کی وجوہات ہیں ایک حقیقی اور دوسری تصوراتی۔ حقیقی  وجوہات  سے مراد وہ  زمینی حقائق ہیں جن سے نظریں  نہیں چرائی جاسکتی۔ مثال کے طور پر ہمارا ملک معاشی لحاظ سے کمزور اور مقروض ملک ہے، یہاں جان اور مال کی حفاظت  میں مشکلات درپیش ہیں ، یہاں کی بیوروکریسی میں کرپشن، کام چوری اور عدم تعاون عام ہے، یہاں کے حکمرانوں کا بنیادی مقصد اپنا مستقبل سنوارنا ہے نہ کہ عوام  کا۔ ان وجوہات کی بنا پر ایک نوجوان اپنا مستقبل پاکستان سے باہر زیادہ محفوظ سمجھتا ہے۔

دوسری  جانب  تصوراتی وجوہات ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مثال کے طور پر ایک نوجوان  مغربی دنیا کو جنت نہیں تو جنت سے قریب تر ضرور سمجھتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ وہاں  کی زندگی ایک پرسکون، پر لطف، آرام دہ، پر آسائش اور عیش و عشرت سے بھرپور زندگی  ہے۔ اسی تصوراتی زندگی کے لیے وہ اپنا تن ، من، دھن سب قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے۔

جب وہ نوجوان قانونی یا غیر قانونی طریقے سے باہر پہنچ جاتا ہے تو یہ تصوراتی جنت مٹی کے گھروندے کی مانند منہدم ہوجاتی ہے  ۔ وہاں علم ہوتا ہے کہ  یہ تو دنیا ہی کچھ اور ہے۔ وہ جس عیش و عشرت ، سکون اور آرام  کا تصور لے کر باہر نکلا تھا،  وہ سب  کم از کم یہاں نہیں ہے۔ اسے پتا  چلتا ہے کہ یہاں کے  یخ بستہ موسم اس کے  موسم نہیں، یہاں  کی بولی میں اس  کی زبان نہیں، یہاں کے لطیفوں میں اس کا لطف نہیں، یہاں کے لوگوں میں اس کے اپنے نہیں،یہاں کی یادوں میں اس کی یادیں نہیں، یہاں کے رشتوں میں اس کے رشتے نہیں، یہاں کے دوستوں  میں اس کے احباب  نہیں۔ پھر وہ آہستہ آہستہ موسم، زبان ، کلچر اور تنہائی سے نبٹ تو لیتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایک فرسٹ کلا س ملک کا سیکنڈ کلاس سٹیزن بن  کر رہ جاتا ہے۔

وہ یہاں بہت کچھ پالیتا ہے لیکن سب کچھ نہیں۔ یہاں کا ہیلتھ سسٹم بہتر تو ہے لیکن اکثر اپائنمنٹ ملتے ملتے مرض یا مریض  فارغ ہوجاتے ہیں، یہاں کی سڑکیں بہت صاف ستھری تو ہیں لیکن حادثات یہاں  بھی ہوہی جاتے ہیں۔ یہاں صفائی ستھرائی بہت زیادہ ہے  مگر بیماری تو  یہاں بھی لگ جاتی ہے۔ معیشت بہتر تو ہے لیکن بے روزگاری یہاں بھی عام ہے، قانون کی پاسداری ہے   پر  جرائم  یہاں بھی  ہو جاتے ہیں، مانا کہ روز بم دھمانے نہیں ہوتے لیکن مساجد اور اسکول یہاں کے بھی محفوظ نہیں، بیوروکریسی ویسی تو نہیں لیکن ایسی  بھی نہیں کہ "سب ٹھیک ہے”۔ آزادی تو ہے لیکن بدقسمتی  سے یہی آزادی   بیوی بچوں  کو بھی حاصل ہے۔

اب بالوں میں سفیدی اتر آئی، اعصاب میں بارہ چودہ گھنٹے کا م کرنے کی طاقت نہیں۔ بچے بڑے ہورہے ہیں،  وہ بچے جن کے لیے اس نے اپنے ماں باپ کو چھوڑا تھا ، اب اسے چھوڑنے کے درپے ہیں۔ ان کی دنیا میں اس کی کوئی خاص جگہ باقی نہیں بچی۔ بیوی اسی کی طرح کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ وہ غالبا مادی طور پر تو آسودہ ہے لیکن یہاں برسوں گذارنے کے بعد  آج بھی وہ اجنبی ہے، تنہا ہے، شکستہ ہے اور دل گرفتہ ہے ۔یہاں کی زبان آج بھی اجنبی ہے، یہاں کے لوگ آج بھی  اسے  غیر سمجھتے ہیں، یہاں کا کلچر آج بھی اسے مکمل طور پر جذب کرنے کو تیار نہیں۔      اب اس تنہائی میں اسے اپنے وطن کے موسم یاد آتے ہیں، وہاں کی ٹوٹی ہوئی سڑکیں اچھی لگتی ہیں، وہاں کا ہجوم اور ہنگامہ دل کو لبھاتا ہے، وہاں کے ذائقے دل کو ستاتے ہیں، وہاں کے دوست احباب  تصور میں آتے ہیں۔ 

اب وہ دوبارہ جائزہ لیتا ہے کہ اس  نے  کیا کھویا اور کیا پایا ۔ اسے جواب ملتا ہے کہ پاکستان  کے کئی مسائل سے نجات  تو  مل گئی   لیکن بہت سی دوسری مشکلات  کا انبار اس کے حصے میں آگیا۔یہاں  وہ مشکلات تو نہیں جو پاکستان میں تھیں لیکن وہ آسانیاں بھی نہیں جو اپنے ملک میں تھیں۔  گویا اس نےمشکلات اور آسانیوں  کے  ایک پیکج کو  دوسرے پیکج  سے بدل دیا  ۔

 اس سفر میں وہ کامیاب  ہوا یا ناکام ، اس کا جواب تو مسافر ہی جانتا ہے البتہ میں جو بات سمجھ  آگئی   وہ یہ کہ مسائل  ہرجگہ ہیں، مشکلات چارسو بکھری پڑی ہیں، رنج و الم ہر کونے میں منہ  کھولےبیٹھے ہیں ۔آپ کے پاس بس اتنی چوائس  ہے کہ آپ کاپاکستان کی مشکلات کا پیکیج لیتے ہیں یا مغربی ممالک کے مسائل کا پیکیج ۔ مسائل اور مشکلات سے مبرا پیکیج کی سہولت اس دنیا  کے کسی کونے میں دستیاب نہیں۔

ڈاکٹر محمد عقیل

اسرائیل- ایران تنازعہ  اور تیسری عالمی جنگ

کیا اسرائیل -ایران جنگ  تیسری عالم جنگ کا سبب بن سکتی ہے؟اس کا تجزیہ ہم ماضی کی دو عالمی جنگوں کی تاریخ سے سکتے ہیں۔

پہلی جنگ عظیم کی ابتدا آسٹریا ہنگری کے ایک شہزادے کے قتل سے  ہوئی جسے سرائیو و میں سربیا کے قوم پرستوں نے28 جون 1914میں  قتل کردیا۔ ٹھیک ایک ماہ بعد آسٹریا ہنگری نے سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا۔آہستہ آہستہ دنیا کے بڑے ممالک ان دونوں کی حمایت میں ایک دوسرے کے خلاف متحد ہوتے چلے گئے۔ آسٹریا ہنگری کی حمایت میں جرمنی، سلطنت عثمانیہ (ترکی) اور بلغاریہ نمایاں تھے اور جرمنی کی حیثیت ایک لیڈر کی سی تھی۔ دوسری جانب سربیا کی حمایت میں روس ، فرانس، برطانیہ ، اٹلی ، امریکہ اور رومانیہ اہم ممالک تھے جس میں سرخیل برطانیہ تھا۔

یوں یہ دو ملکوں کی جنگ 1918 تک عالمی جنگ میں تبدیل ہوگئی اور ایک ایک کرکے تمام بڑے ممالک دو گروہوں  میں تقسیم ہوگئے۔ ایک جرمنی او ر اس کے ساتھی جبکہ دوسرا برطانیہ اور اس کے اتحادی۔ نومبر 1918 میں جرمنی اور اس کے ساتھیوں کو شکست ہوئی اور یوں پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی۔

 فاتح اتحادیوں نے جرمنی پر سخت معاشی پابندیاں عائد کردیں۔ جنگ کی ابتدا  28 جون 1914  کو شہزادے کے قتل سے شروع ہوئی تھی اور ٹھیک پانچ سال بعد 28 جون 1919 میں ورسیلز کا معاہدہ ہوا جس نے دوسری عالمی جنگ کی بنیاد رکھ دی۔ اس معاہدے کے تحت فاتح اتحادی جن میں  برطانیہ، امریکہ اور فرانس مرکزی کردار تھے، انہوں نے جرمنی کو پہلی عالمی جنگ کا اصل قصوروار ٹہراکر اس پر متعدد پابندیاں عائد کردیں  جن میں  132 بلین  گولڈ مارک کا بھاری تاوان بھی شامل تھا جو جرمنی نے اتحادی ممالک کو ادا کرنا تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ جرمنی کو ایک لاکھ سے زیادہ فوج رکھنے کا حق حاصل نہ تھا اور نہ ہی وہ سب میرین اور ائیر فورس رکھ سکتا تھا۔

یہ معاہد چونکہ جرمنی پر زبردستی  تھوپا گیا تھا اس لیے جرمنی نے اس معاہدے کو اپنی ذلت اور رسوائی تصور کیا  اور یہاں سے جرمنی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس میں  شدید معاشی کرائسس، قومی سطح پر غم و غصہ، ذلت و رسوائی کا احساس سب شامل تھے۔ ان حالات میں ایڈولف ہٹلر نمودار ہوا اور اس نے جرمن قوم کے منفی جذبات کو ابھارا اور بالآخر 1933 میں جرمنی کا چانسلر بن گیا۔ اس نے بتدریج معاہدہ ورسیلز سے پیچھے ہٹنا شروع کیا اور ملٹری کو مستحکم کرنے لگا  ۔اس پر اتحادیوں نے کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا ۔

1939 میں جرمنی نے پولینڈ پر قبضہ کرلیا اور جبکہ برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ اس مرتبہ برطانیہ ، امریکہ، فرانس اور بعد میں روس بھی اتحادی ممالک میں شامل ہوگیا۔ دوسری جانب جرمنی کے ساتھ اٹلی، جاپان اور ڈوبتی ہوِئی سلطنت عثمانیہ تھی۔ جرمنی ابتدا میں یورپ کے کافی ممالک پر قابض ہوتا چلاگیا ۔ لیکن  بعد میں صورت حال بدلنے لگی۔ ایک ہی وقت میں کئی محاذ کھول دینا، اتحادیوں کی طاقت میں اضافہ، جرمنی کی معاشی بدحالی، اور اپنے ہی پارٹنر یعنی روس پر چڑھائی وہ چند اہم عوامل تھے جو جرمنی کی شکست کا باعث بنے۔ ایڈولف ہٹلر نے خودکشی کرلی اور جرمنی کے 7 مئی 1945 کو شکست تسلیم کرلی۔                     

ان دو عالمی جنگوں کا جائزہ لینے کے بعد ہم آج کے حالات کا جائزہ لیں توگذشتہ د و عالمی جنگوں کے بننے والے اسباب آج بھی موجود ہیں۔عین ممکن ہے جس طرح ہنگری کے شہزادے کی قتل نے پہلی جنگ عظیم کو جنم دیا اسی طرح اسرائیل کا ایران پر اٹیک تیسری عالمی جنگ کا باعث بن جائے۔

 1۔پہلی جنگ عظیم  جو ابتدائی طور پر آسٹریاہنگری اور سربیا کے درمیان تھی ، اس میں آہستہ آہستہ اتحادی شامل ہوتے چلے گئے اور دنیا دوبلاکس میں منقسم ہوگئی۔  اس وقت بھی دنیا دوبلاکس میں واضح طور پر منقسم نظر آتی ہے۔ ایک امریکہ، اسرائیل  اور مغربی ممالک کا بلاک اور دوسرا چین ، روس اور ان کے اتحادیوں کا بلاک۔ اسرائیل کے ایران پر اٹیک کے بعد مختلف ممالک نے پوزیشنیں واضح کرنا شروع کردی ہیں۔ امریکہ جو ابھی تک اس بات کا انکار ی ہے کہ اسرائیل کے اٹیک میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں، لیکن درپردہ وہ اسرائل کی پشت پر کھڑا ہے۔ یہی معاملہ یورپ کا بھی ہے دوسری جانب ایران کی سپورٹ میں روس ،چین ، عرب اور اسلامی ممالک  شامل ہیں۔ جونہی کوئی ملک کسی کی سپورٹ میں براہ راست جنگ میں شامل ہوا، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ دوسرے فریق کے حمایتی بھی میدان میں آجائیں۔

2۔دوسری  مماثلت  نظریاتی اختلاف ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں  جرمنی اور اس کے ساتھی فاشزم  کے حامی تھے اور اتحادی جمہوریت پسند ۔ یہی معاملہ  آج بھی موجود ہے۔ ایک طرف اسرائیل کی صیہونیت ، ظلم و بربریت پر مبنی اقدامات اور توسیع پسندانہ عظائم ہیں تو دوسری طرف اسلامی آئیڈیالوجی ۔اسی بنا پر  ایران سے  اختلافات کے باجود اسلامی دنیا بالخصوص عرب ممالک ایران کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں۔  اسی طرح معاشی نظریاتی اختلافات بھی موجود ہیں اور ایک طرف امریکہ و یورپ  کا کیپٹلز م ہے تو دوسری طرف روس اور چین کا سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی کا نظریہ۔ 

3۔جس طرح دوسری جنگ عظیم میں دنیا کی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف صف بستہ تھیں تو آج بھی اسرائیل کے حمایت میں امریکہ و یورپ اور ایران کے پیچھے روس اور چین کھڑے ہیں۔

4۔ایک  اہم پہلو یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم سے قبل لیگ آف نیشن اپنا کردا ر ادا کرنے میں ناکام ہوگئی تھی۔ یہی صورت آج اقوام متحدہ کی ناکامی کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔

5۔دوسری جنگ عظیم کی ابتدا جرمنی پر پابندیوں کی شکل میں ہوئی تھی اور مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق جرمنی نے اس پر بھرپور ری ایکٹ کیا۔ ایران کے ساتھ بھی کم و بیش یہی معاملہ ہے اور وہ گذشتہ کئی دہاِئیوں سے مختلف معاشی اور ملٹری پابندیوں کا شکار ہے۔ اس صورت حال میں ایران نے جوہری پابندی کے معاہدے یعنی این پی ٹی سے دستبرداری ، اور آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اگر یہ روبہ عمل ہوجاتا ہے تو باقی طاقتوں کو  بھی جنگ میں براہ راست  کودنا پڑے گا۔

البتہ آج کا دور پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے ادوار سے مختلف ہے۔  آج ایٹمی ہتھیار جنگ کو پھیلنے سے روکنے کا ایک اہم سبب ہیں۔ تمام ممالک جانتے ہیں کہ ہر شکست خوردہ ایٹمی طاقت کے پاس آخری ہتھیار ایٹم بم ہے جو نہ صرف مخالف بلکہ خود اپنے لیے  بھی ہلاکت کا باعث ہے۔ اس کا تجربہ حالیہ پاکستان اور انڈیا کی جنگ میں ہوچکا ہے۔ نیز دنیا اس وقت یونی پولر نہیں رہی، اس لیے  کسی ایک طاقت  کے لیے ممکن  کہ وہ تن تنہا جنگ میں فاتح قرار پائے۔ اس لیے بڑی طاقتیں ایک وقت کے بعد صلح صفائی کرانے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

بہر حال ، صورت حال نازک ہے اور بڑی طاقتوں کو   ماضی کی تلخیاں یاد ہیں۔ اسی بنا پر کوئی ملک ابھی تک کھل کر ایران یا اسرائیل کی حمایت میں جنگ میں براہ راست ملوث نہیں ہوا۔ لیکن بس ایک ماچس کی  تیلی لگانے کی دیر ہے۔ اگر ایران نے امریکہ یا یورپ میں کسی پر براہ راست حملہ کردیا ، یا آبنائے ہرمز کو بلاک کردیا تو متاثرہ ممالک اس جنگ میں کودنے پر مجبور ہوجائیں گے اور حالات پھر تیسری عالمی جنگ کی جانب تیزی سے بڑھتے چلے جائیں گے جس کا مطلب تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں۔

ڈاکٹر محمد عقیل

Limited World

حق کی تلاش-مذہب، تشکیک یا الحاد

ہمارے نوجوانی کے دور میں  ہم مذہب کے طالب علموں کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ کون سا فرقہ حق پر ہے ۔ چنانچہ ہماری  ساری  تلاش اسی حقیقت کی تھی کہ دیوبندی  اور بریلوی میں کو ن درست ہے؟   غامدی صاحب ٹھیک کہتے ہیں یا   مقلدین؟مولانا مودودی اور مولانا وحید الدین میں سے کس کی تعبیر ٹھیک  ہے؟پرویز صاحب  صحیح ہیں یا اہل حدیث ؟اہل تصوف کی بات مانی جائے یا  اہل ظاہر کی اتباع کی جائے؟ برسوں کی محنت ، عرق ریزی، اور تحقیق کے بعد یہ علم ہوا کہ مکمل حق کسی ایک فرقے، جماعت یا مسلک کے پاس موجود نہیں بلکہ  مختلف جگہوں پر بکھرا ہوا ہے ۔

اس زمانے میں الحاد بھی موجود تھا جس کی پشت پر سوویت یونین کا کمیونزم، برٹرینڈ رسل کے دماغ کی چولیں ہلادینے والے عقلی دلائل، سائنس کی نت نئی دریافتیں، اور مغربی تہذیب کا عروج تھا۔ لیکن  چونکہ علم کتابوں تک محدود تھا اور انٹرنیٹ ایجاد نہیں ہوا تھا اس لیے علم تک رسائی محدود تھی اور ہم  الحاد کی رد میں اپنے علماء کے دلائل پڑھ کر ہی مطمئین ہوجاتے تھے۔

آج کا دور یکسر مختلف ہے۔ آج بالخصوص نوجوان طبقہ عجیب مخمصے میں گرفتا ر ہے۔ اب سوشل میڈیا پر ہر قسم کا مواد موجود ہے۔ آج ہمارے ہی معاشرے سے اٹھے ہوئے مبشر زیدی صاحب جیسے اگناسٹک ، اویس اقبال صاحب اور حاشر ارشاد صاحب  جیسے ملحد ہیں جن کا بنیادی مقصد مذہب  کی بنیادوں کو کھود کر منہدم کرنا ہے۔ آج ڈین گبسن اور ٹام ہالینڈ   جیسے تاریخ دان ہیں جن کا کام کعبہ کی  مقام کو مشکوک بنانا ہے۔آج سیم ہیرس، رچرڈ ڈاکنز اور یوآل نوآح حراری سے عقلیت پسند ملحد ہیں جن کے  دلائل نئی نسل کو بہت متاثر کررہےہیں۔ آج کارل سیگاں جیسا ماہر فلکیات موجود ہے جو کائنات کی وسعتوں میں خدا کے وجود اور عدم وجود پر لاعلمی کو عقیدے پر فوقیت دیتا ہے۔آج  آئین اسٹائن  ، اسٹیفن ہاکنگ اور بے شمار سائنسدان موجود ہیں جو شخصی خدا کے انکاری ہیں۔آج  کلئیر ٹسڈل موجود ہے جو قرآن کی جمع و تدوین اور ماخذ پر اعتراضات  کرتا نظر آتا ہے۔ آج  چند ولیم مور جیسے  بے شمار    مصنف   پیدا ہوچکے ہیں جن کا کام ہی پیغمبر اسلام کے بارے میں شکوک شبہات پھیلانا ہے۔ آج نظریہ ارتقا ء  ڈارون کی ابتدائی تھیوری تک محدود نہیں ، بلکہ اس کے پشت پر آرکیالوجی، جینٹک سائنس  کی تحقیقات آدم کی  براہ راست تخلیق  کو چیلنج کررہی ہیں۔

 غرض آج  اسلام کوجدید دور میں  ناقابل عمل ثابت کرنے کے لیے  عقلی دلائل کا طوفان موجود ہے، آج عقیدے کو عقل سے جانچنے  کے نئے پیمانے اور نئی ریسرچ میتھڈالوجی  وجود میں آچکی ہے۔

اس صورت حال سے نبٹنے کے لیے کئی  اقسام کے گروہ وجود میں آئے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جسے مذہب کی تعلیمات پہلے بھی کچھ سروکار نہیں تھا اور نہ آج کوئی دلچسپی ہے۔ان کے نزدیک زندگی کا مقصد، آخرت، نجات، صحیح غلط، سب لایعنی سوالات ہیں اور یہ اپنی مادی دنیا میں مست ہیں۔

  ایک گروہ وہ ہے جو روایات اور عقیدے کو عقل کے پیمانوں پر پرکھنا گناہ عظیم سمجھتا اور روایات سے جڑا رہنے پر ہی عافیت محسوس کرتا ہے۔ لیکن یہ گروہ بالعموم ادھیڑ عمر کے لوگوں پر مبنی ہے یا پھر نسبتا کم تعلیم یافتہ۔ ان کی تعداد دن بدن کم ہورہی ہے۔

 ایک اور گروہ ہے جوجدید الحاد اور تشکیک کے چیلنج کو قبول کرتا اور  دین اور عقیدے کی عقلی تعبیر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن  علماء میں  اتحاد نہ ہونے کے سبب ان کا ہر گروہ اپنے ہی مسلک اور فرقے تک محدود ہے۔ نیز جدید الحاد اور سائنس سے نبٹنے کے لیے ان کے پاس فزکس، بائیلوجی، انتھراپولوجی ، آرکیالوجی اور جین سیکوئینسنگ جیسے علوم پر از خود تحقیق کرنے وسائل موجود نہیں ۔ چنانچہ یہ گروہ  مغرب ہی کی تحقیقات اور ان کے نتائج  پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

ایک اور گروہ ہے جو الحاد، تشکیک اور سائنٹزم سے متاثر ہوچکا، ان میں سے اکثریت دل سے اسلام ترک کرچکی لیکن معاشرے کے خوف کی بنا پر اس ارتداد کا اعلان کرنے سے خوف زدہ ہے  ، اس گروہ کے دوسرے لوگ علی الاعلان اپنی تشکیک و الحاد کو بیان کرتے ہیں بالخصوص وہ لوگ جو کسی غیر مسلم ملک  میں مقیم ہیں۔ اس آخری گروہ کی  تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

گویا وہ سوال جو ہمارے زمانے میں تھا کہ کہ کون سا  اسلام کا فرقہ حق پر ہے، اب وہ بدل چکا اور اب سوال یہ ہے کہ آیا  مذہب، بالخصوص اسلام ، الحاد، سائنٹزم اور تشکیک میں کون حق پر ہے۔  یوآل نوآح کے مطابق چونکہ انفارمیشن کی یلغار ہے اس لیے جو جس قسم کی معلومات حاصل کرے گا ، اسی سے متاثر ہوجائے گا۔

اس وقت پڑھے لکھے لوگوں میں ایک شدید قسم کی کنفیوژن ہے، بے چینی ہے، اضطراب ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ آخر اس کا حل کیا ہے؟ اس معمے کو حل کرنے کے لیے  چند مقدمات پر غور کرنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں عقل کے دروازے بند کرکے مذہب پر یقین اور عمل کرنا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے بالخصوص  نئی نسل کے لیے۔ چنانچہ عقل و فطرت ہی کو بنیاد بنا کر کوئی فیصلہ کرنا ہے۔ دوسرا یہ کہ کسی قسم کے خوف ، اضطراب اور بے چینی کی ضرورت نہیں۔ ہمارا اصل کام حق کی تلاش اور اس پر عمل کرنا ہے۔ جس شخص کو جو بات حق پر لگتی ہے وہ اسے ہی ماننے کا مکلف ہے اور اسی پر وہ جوابدہ ہے۔چنانچہ حق کسی بھی صورت میں  سامنے آئے، وہی اس کے لیے حق ہے۔  تیسری اور آخری بات ، وہ یہ دنیا کے تمام مذاہب بشمول الحاد کو دیکھ لیں تو اخلاقیات کو ماننے پر سب متفق ہیں البتہ ہر ایک کے نزدیک اخلاقیات کی تشریح مختلف ہے۔یوں اخلاقیات وہ بنیادی کوڈ ہے جس کی بنیاد پر ڈائلاگ بھی ہوسکتے ہیں اور زندگی بھی گذاری جاسکتی ہے۔  

اخلاقیات کا پیمانہ بہت سادہ ہے۔ جو بات یا رویہ  میں اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں اسے کسی دوسرے کے ساتھ روا رکھنا ناجائز ہے۔  مثال کے طور پر اگر کوئی چاہتا ہے  کوئی اسے دھوکہ نہ دے تو اس پر بھی لازم ہے وہ دوسروں کو دھوکہ نہ دے ، کوئی چاہتا ہے کہ اس سے جھوٹ نہ بولاجائے تو وہ بھی جھوٹ نہ بولے، کوئی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ فراڈ نہ ہو تو وہ بھی فراڈ نہ کرے، کوئی چاہتا ہے کہ اس کی بیٹی اور بیوی پر کوئی بری نگاہ نہ ڈالے تو اس پر بھی یہی لازم ہے ،کوئی  چاہتا ہے کہ اسے گالی نہ دی جائے تو وہ بھی گالی سے گریز کرے۔یہ وہ فطرت کی وحی یا ارتقا ہے جس پر سب متفق ہیں یعنی اپنی ذات سے دوسروں نفع پہنچانا اور اپنی ذات سے دوسروں کو ناحق نقصان نہ پہنچانا۔ اسی فطرت کی یاددہانی کے لیے آسمان سے وحی نازل ہوئی اور اسی کی بنیاد پر آج انسانیت کم ازکم تھیوری میں متفق ہے۔

 اگر اس فطرت کی وحی کی حفاظت کرلی جائے تو انسان  اس  پہلے حق کو پالیتا ہے جو اسے جانوروں سے جدا کرتی  ہے ۔ اس کے بعد انسان کی عقل اور علم اسے نفس پرستی سے ماورا جو راہ سجھاتا ہے وہی اس کی راہ ہے، وہی اس کے لیے حق ہے اور اسی کے لیے وہ خود کو جوابدہ ہے ۔اسی حق  کے لیے ایک ملحد اور متشکک اپنی سوسائیٹی کو جوابدہ ہے اور ایک مومن اپنے خدا کو۔ یہ بات حقیقت ہے کہ آج کسی کو زور زبردستی سے نہ تو مومن بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ملحد۔ چنانچہ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے وہ یہ کہ بنیادی اخلاقیات کی پیروی کرنا اور اپنے علمی سفر کو تعصب و نفس پرستی سے بالا تر ہوکر جاری رکھنا۔ اگر نیک نیتی کے ساتھ یہ راہ اختیار کی جائے تو علمی طور پر ہونے والی کوتاہیاں قابل معافی ہیں۔

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈالر کا مستقبل

انسان اپنی تمام ضروریات خود پوری نہیں کرسکتا اور اس کے لیے و ہ دوسروں کا محتاج ہے۔ انہی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بارٹر سسٹم وجود میں آیا جس کے ذریعے انسان اپنی اضافی اشیاء کو کسی دوسرے شخص کو دے کر اس سے اپنی مطلوبہ شے حاصل کرلیتا تھا۔ لیکن بارٹر سسٹم میں کئی خامیوں کی بنا پر اشیاء کا یہ تبادلہ قیمتی دھاتوں کے ذریعے ہونے لگا جن میں سونا سر فہرست تھا۔ چونکہ سونے کو ہر وقت لیے پھرنا دقت اور عدم تحفظ کا باعث تھا اس لیے سونے کو لوگ مختلف بنک نما اداروں کو جمع کرادیتے تھے جو سونا رکھ کر اس کی ایک رسید جاری کردیا کرتے تھے۔ بعد میں یہی رسید تبادلے کے لیے استعمال ہونے لگی اور یوں کاغذ کی کرنسی وجود میں آئی۔

یوں جب ملکوں نے کرنسی کا اجرا شروع کیا تو اس کے پیچھے گولڈ موجود ہوتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم  میں  جرمنی کو شکست ہوگئی لیکن یورپ برطانیہ جیسی سپر پاور سمیت  یورپ  تباہ ہوچکا تھا ۔ امریکہ وہ واحد بڑا ملک تھا جو جنگ میں بہت آخر میں شامل ہوا اور سوائے پرل ہاربر کے اسے کوئی براہ راست نقصان نہیں ہوا ۔ یوں  کی بریٹن  ووڈ کانفرنس میں یہ فیصلہ ہوا کہ اب یورپ اور دیگر ممالک اپنے ریزرو میں گولڈ رکھنے کی بجائے امریکی ڈالر رکھیں گے اور امریکہ اپنے ڈالر پیچھے گولڈ کا ریزر و رکھے گا ۔ یوں امریکی ڈالر کو دنیا بھر میں ایک ریزرو کرنسی کی حیثیت حاصل ہوگئی اور یہ کنگ آف کرنسی بن  گیا۔ اس کے کنگ آف کرنسی بننے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے پیچھے امریکہ جیسی سپر پاور کی گارنٹی موجود تھی۔ یوں دنیا بھر کی تمام تجارت ڈالر میں ہونے لگی اور یہ سلسلہ 1944 سے لے کر 2025 تک جاری رہا ۔

لیکن آج ڈالر اپنی حیثیت کھورہا ہے۔ چین کی سربراہی میں قائم برکس نامی بلاک اپنی کرنسی جاری کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اسی طرح چین نے اپنی کرنسی یوآن میں تجارت شروع کردی ہے اور دنیا میں مختلف ممالک بشمول سعودی عرب ، انڈیااور روس، ڈالر کی بجائے یوآن میں ٹریڈ کررہے ہیں۔ چین نے ڈیجٹل کرنسی متعارف کرائی ہے جو امریکی ڈالر کے سوئیفٹ سسٹم کا ایک یوز فرینڈلی نعم البدل قرار دی جارہی ہے۔ ٹرمپ کے اقدامات کی بنا پر جرمنی اور دیگر یورپی ممالک چائینا کی جانب رجو ع کررہے ہیں۔

دوسری جانب اس وقت امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرضہ ہے جس میں   سے  کچھ رقم فوری طور پر ادا کی جانی ہے۔امریکہ معشیت کے زوال کے علاوہ اس کا سیاسی  استحکام بھی زوال پذیر ہے۔ یہ تمام انڈکیٹرز واضح اشارہ کرتے ہیں کہ ڈالر اب کنگ آف کرنسی  کے عہدے سے معزول ہونے والا ہے۔ پاکستان کے لیے اس میں اہم اشارہ یہ ہے کہ وہ اپنے ریزروز میں محض ڈالر پر انحصار کرنے کی بجائے گولڈ پر توجہ دے جس طرح چین، انڈیا ، ساوتھ افریقہ ، برازیل اور دیگر ممالک  کررہے ہیں تاکہ کل کو ڈالر کی ویلیو کم ہونے کی صورت میں ایک نعم البدل موجود ہو۔  یہی ہدایت ان لوگوں کے لیے بھی ہے جنہوں نے ڈالر میں انوسٹمنٹ کی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر محمد عقیل

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں