ٹریفک کامسئلہ(پروفیسر محمد عقیل)


’’کیامصیبت ہے؟‘‘رحیم بڑبڑایا۔’’اتنی دیرسے سڑک پارکرنے کی کوشش کررہاہوں لیکن مجال ہے جوایک انچ بھی آگے بڑھ جاؤں۔‘‘اچانک رحیم کی نظرچائے بیچنے والے بچے پرپڑی جواس کی ناکام کوششوں پرزیرلب مسکرارہاتھا۔رحیم نے بچے سے پوچھا:’’تم تویہاں چائے بیچتے ہو۔تم کس طرح سڑک کے اس پار جاتے ہو؟‘‘بچے نے کہا:’’مجھے آج تک یہ سڑک پارکرنے کاموقع نہیں ملا۔میں توپیداہی سڑک کے اس طرف ہواتھا۔‘‘
یہ توایک لطیفہ ہے۔لیکن کراچی کاٹریفک کچھ اسی نہج کاہوگیاہے۔ستم ظریفی یہ کہ کوئی شخص ذمہ داری لینے کوتیارنہیں۔پیدل چلنے والے لوگ گاڑیوں سے نالاں،گاڑیوں والے ٹریفک پولیس سے بے زاراورٹریفک پولیس اہلکارتنخواہ سے غیرمطمئن۔
ایک خبر کے مطابق اس صورت حال سے نبٹنے کے لیے ایک ترقی یافتہ ملک سے ماہرین کومدعوکیاگیاکہ وہ ٹریفک کانظام مرتب کریں۔ان ماہرین نے طویل تحقیق کے بعدمعذرت کرلی اورواپس چلے گئے استفسارپرانہوں نے بتایاکہ ہم قوانین محض20%لوگوں کوسدھارنے کے لیے بناتے ہیں جبکہ 80%لوگ خودہی راہ راست پرہوتے ہیں۔پاکستان میں معاملہ برعکس ہے۔لہذاکسی بھی قانون سے80%لوگوں کوکنٹرول نہیں کیاجاسکتا۔
ٹریفک کے نظام کواگرگہرائی سے دیکھاجائے تویہ محض چندسگنلز کی تنصیب یاپولیس اہلکاروں کی تعیناتی تک محدودنہیں۔اس نظام کاحصہ ہروہ شخص ہے جوسڑک استعمال کرتا ہے۔ موٹر سائیکل، کار، بسیں،ٹرک،رکشا،سائیکل اورگدھاگاڑی جیسی سواریاں بھی اس نظام میں شامل ہیں توچھابڑی والا اور پیدل چلنے والابھی اس سسٹم کاحصہ ہیں۔لیکن ہرشخص محض اپنے مفادات کاتحفظ کرناجانتاہے وہ کچھ اور نہیں جانناچاہتا۔اسکوٹروالامعمولی سے خلا میں اپنی اسکوٹرکو اڑا کر نکالنا اپناحق سمجھتا،ٹرک والااپنے حجم کا ناجائزفائدہ اٹھاتا،بسیں اسٹاپ کے علاوہ مسافراٹھاناچاہتی ،اورپیدل چلنے والے افرادچہل قدمی کے لئے روڈکو استعمال کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ دوسری جانب پولیس اہلکارخاموشی کی تصویر بنا دھوئیں کے مرغولے اڑاکر اس پورے عمل سے لاتعلق ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
درحقیقت ایک بے شعورقوم اسی قسم کے نظام کوجنم دے سکتی ہے لیکن اس قوم کوباشعوربنانے کاکوئی انتظام نہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں اسکول سے ہی ٹریفک کے قوانین سے آگاہ کیاجاتاہے ،لیکن ہمارے یہاں ایساکوئی سلسلہ نہیں۔اگرہم اسی طرح ٹریفک پولیس کوصلوٰتیں سناتے رہے اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہ کیا توایمبولینسیں یونہی راستے میں پھنسی رہیں گی۔مریض اسی طرح دم توڑتے رہیں گے اوراسی طرح لوگ پسینے میں لت پت گھنٹوں کاربن کے گھونٹ لیتے رہیں گے۔
ٹریفک کے قوانین بنانا اور انتظامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔اس لیے ہماری حکومت کو بھی اب صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہییں۔ ہم اس سلسلے میں دو تجاویز پیش کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی یہ ہے کہ دنیا کے اور ترقی یافتہ ممالک کی طرح اسکول ہی سے نظامِ تعلیم میں ٹریفک کے بارے میں تمام معلومات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ دوسرا یہ کہ ٹریفک لائسنس کے نظام سے تمام بدعنوانیاں دور کر کے، اُس کے حصول کے لیے کم سے کم 15 روز کی ٹریننگ کو لازمی قرار دیا جائے، جس میں ٹریفک قوانین کے بارے میں لوگوں کی مکمل تربیت کی جائے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s