ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ

حضرت ابو بکر عام الفیل کے اڑھائی برس بعد ۵۷۲ء میں پیدا ہوئے۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے اڑھائی سال چھوٹے تھے۔ ان کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو تیم بن مرہ سے تھا۔ ابو بکر کا شجرۂ نسب اس طرح ہے: عبد اﷲ بن عثمان بن عامر بن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ۔ مرہ ہی پر ان کا شجرہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرے سے جاملتا ہے۔ کلاب بن مرہ آپ کے جبکہ تیم بن مرہ ابو بکر کے جد تھے۔ عبداﷲ اپنی کنیت ابو بکر اور ان کے والد عثمان اپنے نام کے بجائے اپنی کنیت ابو قحافہ سے مشہور ہیں۔ ابو بکر کی والدہ کا نام سلمیٰ بنت صخر اورکنیت ام خیر تھی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ابوبکرکے کئی بھائی بچپن ہی میں فوت ہو گئے تو ان کی والدہ نے ان کی پیدایش سے پہلے نذر مانی کہ اب اگر لڑکا ہوا تو اس کا نام عبدالکعبہ رکھیں گی۔ ان کے بچپن کا یہ نام قبول اسلام کے بعد بدل کر عبداﷲ ہو گیا۔ خون بہا، تاوان اور دیتوں (اشناق) کی رقوم کا تعین کرنا بنو تیم بن مرہ کے سپرد تھا۔ تاوانوں کی رقوم وہی وصول اور جمع کرتے، متعلقہ مقدمات بھی انھی کے سامنے پیش ہوتے اورانھی کا فیصلہ نافذ ہوتا۔ ابو بکر جوان ہوئے تو یہ خدمت ان کو سونپی گئی۔ اگرچہ عمر بھر ابو بکر اپنی کنیت سے موسوم کیے جاتے رہے، لیکن اس کنیت کا یقینی سبب معلوم نہیں ہو سکا۔ انھیں جوان اونٹوں (بکر) کی پرورش اور ان کے علاج معالجے سے دل چسپی تھی یا شایدان کا سب سے پہلے اسلام لانا (بکر الی الاسلام) اس کنیت کا سبب بنا۔ ان کا ایک نام عتیق بھی ہے، جس کے معنی ہیں: خوب صورت اور سرخ و سفید، شروع سے نیک۔ ایک سبب یہ ہے کہ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابو بکر کو دیکھ کر فرمایا: ’’تم اﷲ کی طرف سے دوزخ سے آزاد (عتیق اﷲ) ہو۔‘‘ (ترمذی، رقم ۳۶۷۹) ہمیشہ سچ بولنے اورواقعۂ معراج کی فی الفور تصدیق کرنے کی وجہ سے صدیق کا لقب ملا۔ ان کی رافت و شفقت کی وجہ سے ان کو اواہ بھی کہا جاتا۔
ام القریٰ میں پروان چڑھنے والے ابو بکر اپنے لڑکپن اور جوانی میں اپنے ہم سنوں میں پائے جانے والی برائیوں اور آلایشوں سے محفوظ تھے۔ انھوں نے جاہلیت میں بھی کبھی شراب نہ چکھی حالانکہ ان کے اردگرد شراب کے رسیا پائے جاتے تھے۔ فکر معاش کی عمر کو پہنچے تو ایک تجارت پیشہ قوم کا فرد ہونے کی بنا پر ان کا میلان تجارت ہی کی طرف ہوا۔ انھوں نے کپڑے کی تجارت شروع کی۔ ایک پر کشش شخصیت اور عمدہ اخلاق کا مالک ہونے کی وجہ سے انھیں غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ جلد ہی ان کا شمار مکہ کے بڑے تاجروں میں ہونے لگا۔ انھوں نے پہلا تجارتی سفراٹھارہ برس کی عمر میں کیا، آخری بار مدینہ سے شام کے شہر بصرہ کو گئے۔ ان سفروں کی وجہ سے باہر کے تاجر ابو بکر کو خوب پہچانتے تھے۔ ابو بکر بیدار عقل، بلند نظراور قلب سلیم رکھتے تھے۔ مکہ کے بہت کم لوگ اس معاملے میں ان کے ہم پلہ تھے۔ ڈاکٹر جواد علی کا کہنا ہے کہ ابو بکر لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ ماہر علم الانساب تھے، مکہ کے تمام قبیلوں کے نسب ان کو ازبریاد تھے۔ ہر قبیلے کے عیوب و نقائص اور محامد و فضائل سے بخوبی واقف تھے۔
ان کی پہلی شادی بنو عامر کی قتیلہ بنت عبد العزیٰ سے ہوئی۔ اگرچہ ایک بار وہ اپنے شوہر کے ساتھ مدینے بھی گئیں، لیکن مسلمان نہ ہوئیں۔ ابو بکر سے علیحدگی اختیار کر کے دوسری شادی کر لی اور مکہ میں مقیم رہیں۔ ابوبکر کی دوسری شادی بنو کنانہ کی ام رومان بنت عمر سے ہوئی جو پہلے طفیل بن سنجرہ کی زوجیت میں رہ چکی تھیں۔ صرف انھوں نے ہجرت میں ابوبکر کا ساتھ دیا۔ تیسری شادی بنو کلب کی ام بکر سے ہوئی، جو مسلمان ہوئیں نہ ہجرت کی۔ ابو بکر نے ان کو طلاق دے دی تھی۔ بنو خثعم کی اسما بنت عمیس سے ابو بکر کی چوتھی شادی ہوئی جو ان کی وفات کے بعد حضرت علی کی زوجیت میں آئیں۔ بنو خزرج کی حبیبہ بنت خارجہ سے ان کی پانچویں شادی ہوئی۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے دوستی بعثت سے پہلے کی ہے۔ وہ اس محلے میں رہتے تھے، جہاں خدیجہ بنت خویلد اور دوسرے بڑے تاجر سکونت رکھتے تھے۔ جب آپ سیدہ خدیجہ سے شادی کے بعد انھی کے گھر منتقل ہوگئے تو ابوبکر کا آپ سے ربط ہوا۔ میل جول بڑھا اور اخلاق و عادات کی مماثلت نے دونوں میں گہری دوستی پیدا کر دی۔ کچھ مورخین کا یہ خیال درست نہیں کہ آپ دونوں کے تعلقات اسلام کی آمد کے بعد استوار ہوئے، پہلے محض ہم سایگی اور یکسانی خیالات ہی تھی۔ ابوبکر پہلے مرد تھے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نماز ادا کی۔ خود رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے جس کسی کو اسلام کی دعوت دی، اس نے کچھ نہ کچھ ہچکچاہٹ اور پس وپیش ضرور دکھائی سوائے ابو بکر بن ابوقحافہ کے۔ جب میں نے ان کو اسلام کی طرف بلایا، انھوں نے تامل کیے بغیر میری آواز پر لبیک کہا۔‘‘ (ابن ہشام) اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے اس کی ترویج میں نمایاں حصہ لیا، لوگوں کو انفرادا ی طور پر اور علانیہ اسلام کی طرف بلایا۔ عثمان بن عفان، عبد الرحمان بن عوف، طلحہ بن عبید اﷲ، سعد بن ابی وقاص، زبیر بن عوام اور ابو عبیدہ بن جراح ابوبکر کی کوششوں ہی سے مسلمان ہوئے۔ ابو بکر نے نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذاتی نصرت و حمایت بھی کی۔ ایک باربیت اﷲ میں قریش آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر جھپٹ پڑے اور کہا: تم نے ہمیں برے انجام کی دھمکی دی ہے اور ہمارے معبودوں کے متعلق بری باتیں کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ان میں سے ایک نے آپ کی چادر کے دونوں پلو پکڑ کر کھینچ لیے (اور گلا گھونٹنے لگا)۔ ابوبکر آپ کا دفاع کرنے کھڑے ہو گئے۔ روتے جاتے اور فرماتے: کیا تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اﷲ ہے؟ تب انھوں نے آپ کو چھوڑا۔ ابو بکر معرو ف مال دار تاجر تھے، نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔ اسی میں سے غلام خرید کر آزاد کرتے اور مسلمانوں کو قوت پہنچاتے۔ ایک روزدیکھا کہ نو مسلم بلال کو ان کے آقا نے کڑی دوپہر میں تپتی ریت پر لٹایا اور سینے پر بھار ی پتھر رکھ کر کہا کہ اسلام چھوڑنے کا اعلان کرو ورنہ ایسے ہی مار ڈالوں گا۔ ابو بکر نے انھیں فوراً مہنگے داموں خرید کر آزاد کر دیا۔ ایک اور اذیتیں پانے والے مسلمان غلام عامر بن فہیرہ کو خرید کر نہ صرف آزاد کیا، بلکہ اپنی بکریاں چرانے کی ملازمت بھی دے دی۔ ہجرت کے بعدپانچ ہزار درہم لے کر مدینہ پہنچے تو وہاں بھی یہ پیسے اسی مصرف میں لاتے رہے۔
واقعۂ معراج کے موقع پر ابو بکر نے حیرت انگیز قوت ایمانی کا مظاہرہ کیا۔ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے فرمایا کہ رات انھوں نے بیت المقدس کا سفر کیا، مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی اور پھر سیر آسمان کو گئے۔ مشرکین مکہ نے آپ کا مذاق اڑایا، مکہ سے شام تک ایک ماہ کی مسافت ہے۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ محمد ایک رات میں دو ماہ کا سفر طے کر کے لوٹ آئیں؟ کچھ مسلمان بھی متردد ہوئے، لیکن ابوبکر نے ان کو گم راہ ہونے سے بچالیا۔ انھوں نے کہا کہ جو اﷲ لمحوں میں آسمان سے وحی اتار دیتا ہے، اس کے لیے کیا دشوار ہے کہ رات بھر میں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو اتنی مسافت طے کرا دے؟ حق کی بلا تاخیر تصدیق کرنے پر پیغمبر علیہ السلام نے ابو بکر کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔
جب قریش نے بنو ہاشم کا بائیکاٹ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے کنبے کو شعب ابی طالب میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا تو آپ نے اپنے صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ ایک سو کے قریب صحابہ نے حبشہ کی راہ لی جن میں عثمان بن عفان، جعفر بن ابو طالب اور زبیر بن عوام شامل تھے۔ ابو بکر نے ایک عرصہ سختیاں جھیلیں، جب ان کے لیے عبادت بھی دشوار ہوگئی تو انھوں نے براہ یمن حبشہ جانے کا قصد کیا۔ برک غماد پہنچے تھے کہ قارہ کے سردار ابن دغنہ سے ملاقات ہوئی۔ اس نے پوچھا: ’’کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘ فرمایا: ’’چاہتا ہوں، کہیں الگ جا کر عبادت کروں۔‘‘ ابن دغنہ نے کہا: ’’تم جیسا شخص نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ ان کو واپس لے آیا اور قریش کو اپنی ضمانت دے کر لوٹا۔ ابو بکر جب تک مکہ میں مقیم رہے، حمزہ اور عمر کے ساتھ مل کر قریش کو ایذارسانی سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ ظن غالب ہے کہ انھوں نے بنو ہاشم کا مقاطعہ ختم کرانے کی دوڑ دھوپ کی جس کا نتیجہ قدرے دیر بعد ہوا اور کفار ہی کے کچھ انصاف پسندوں نے یہ بائیکاٹ ختم کرایا۔
بیعت عقبہ کے بعد یثرب میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس شہر کی طرف ہجرت کرنے کا اذن عطا فرمایا۔ اس موقع پر ابو بکر نے بھی ہجرت کی اجازت مانگی۔ آپ نے فرمایا: ’’ابھی ایسا نہ کرو، شاید اﷲ ہجرت کے لیے تمھارا کوئی ساتھی پیدا کر دے۔‘‘ یہ آپ کا اپنی طرف اشارہ تھا۔ اسی روز انھوں نے دو اونٹنیوں کا انتظام کر لیااور اپنے پیارے نبی کی معیت میں مکہ سے کوچ کا انتظارکرنے لگے۔ آخر ایک شام آپ حسب معمول ابو بکر کے گھر آئے اور فرمایا: ’’مجھے مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم ہوا ہے۔‘‘ ابوبکر نے بے تابی سے کہا: ’’یارسول اﷲ! ساتھی کی ضرورت ہو توآپ کا ساتھ موجود ہے۔‘‘ اسی رات قریش کے نو جوانوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ آپ نے حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹایا اور قریش کے لوگوں کو غفلت میں پا کر اپنے گھر سے نکلے اورابو بکر کے گھر پہنچے۔ وہ جاگ رہے تھے، فوراً دونوں گھر کی عقبی کھڑکی سے نکلے اور جنوب کی سمت تین میل سے زیادہ کی مسافت طے کر کے غار ثور پہنچے۔ یار غار نے پہلے غارکو اچھی طرح سے دیکھا، کہیں کوئی سانپ، بچھو یا موذی جانو رنہ ہو تب اپنے صاحب کو اندر آنے دیا۔ صبح ہوتے ہی قریش نے آپ دونو ں کی تلاش میں آدمی دوڑائے۔ ابو بکر گھبرائے تو آپ نے فرمایا، ’لا تحزن ان اﷲ معنا‘ ’’مت غم کرو،بے شک اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ (توبہ۹: ۴۰) ڈھونڈنے والے نے غارکے دہانے پر مکڑی کا جالا بنا دیکھا تو واپس پلٹ گیا۔ غار کے اندر ابو بکر نے آپ سے فرمایا: ’’اگر ان میں سے کوئی آپ کے قدموں کو دیکھتا تو وہ ہمارا پتا پا لیتا۔‘‘ آپ نے جواب میں فرمایا: ’’اے ابوبکر، ان دوکے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اﷲ ہے؟‘‘ (بخاری،رقم۳۶۵۳) ابو بکر کے صاحب زادے عبد اﷲ رات کو آکر مکہ کی خبریں سناتے پھر دن واپس جا کرمکہ والوں کے بیچ گزارتے۔ ابو بکرکا آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ صبح ان کی بکریاں چراتے ہوئے جبل ثور لے جاتا تو دونوں ان بکریوں کا دودھ پی لیتے۔ اسما بنت ابو بکر دونوں کا کھا نا تیار کرتیں، انھوں نے توشہ دان میں کھانا ڈال کر اپنے بھائی عبداﷲ کودیا، باندھنے کو کچھ نہ ملا تو اپنا کمر بند (نطاق) پھاڑ کر اس سے باندھ دیا، اسی وجہ سے ان کا لقب ذات النطاقین (دو کمر بندوں والی) پڑگیا۔ تین دن گزرے، مشرکین کا جوش کچھ ٹھنڈا پڑا توانھوں نے یثرب کا ارادہ کیا۔ ابو بکر کے گھر سے دو اونٹنیاں آگئیں، ایک اور اونٹ خریدا گیا، ان میں سے ایک پر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے، دوسرے پر ابوبکر سوار ہوئے اور تیسرے پر عامر بن فہیرہ بیٹھے۔ عبد اﷲ بن اریقط ان کا گائیڈ بنا، کافر ہونے کے با وجود آپ نے اس پر اعتماد کیا۔ طلحہ بن عبید اﷲنے ابو بکر کوشام سے سفید کپڑے بھیجے، نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اور ابو بکر یہی کپڑے پہن کر مدینہ پہنچے۔
انیس کہتے ہیں کہ ابوبکر مدینہ میں حبیب بن یساف کے مہمان ہوئے، جبکہ ایوب بن خالد کا کہنا ہے کہ وہ خارجہ بن زید کے ہاں ٹھہرے۔ یہ وہی خارجہ ہیں جنھیں ہجرت کے بعد مدینہ میں مواخات قائم فرماتے ہوئے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابو بکر کا اسلامی بھائی قرار دیا۔ ان کی زمینوں پر ابو بکر نے کاشت کاری کی، بعد میں انھی کی بیٹی حبیبہ سے ابو بکر کا نکاح ہوا۔ ہجرت کے چند روز بعد ابوبکر کو بخار ہوگیا، یہ مدینہ کی مرطوب آب و ہوا کا اثرتھا۔ محمد بن جعفرکی روایت ہے: ’’ابو بکر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات تک سنح میں مقیم رہے‘‘ جو مدینے میں خارجہ کے قبیلے بنو حارث بن خزرج کا محلہ تھا۔ یہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے گھر سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ مشہور تابعی فقیہ عبید اﷲ بن عبداﷲ فرماتے ہیں: ’’جب آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینے میں گھروں کے لیے زمین تقسیم فرمائی تو ابو بکر کے گھر کے لیے مسجد نبوی کے پاس جگہ متعین فرمائی، مسجد کے مغرب میں واقع ان کے گھر سے چھوٹا سا دریچہ مسجد میں کھلتا تھا۔ اور صحابہ کے گھروں کے بھی ایسے دریچے مسجد میں آنے جانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ آپ نے اﷲ کے حکم سے سارے راستے بند کرائے اور فرمایا: ’’اس مسجد میں کوئی دریچہ نہ کھلا رہنے پائے سوائے دریچۂ ابو بکر کے۔‘‘ (بخاری، رقم۳۹۰۴) رہا حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا گھر تو اس کا بڑا دروازہ ہی مسجد کے اندر تھا، اسے بند کرنا ممکن نہ تھا۔ حضرت ابو بکر کے مسجد نبوی کے پڑوس والے گھر میں ان کی دوسری بیوی ام رومان، بیٹی عائشہ اور ان کے تمام بیٹے مقیم تھے۔ بعد میں کسی ضرورت کے لیے انھوں نے یہ گھر ام المومنین حفصہ رضی اﷲ عنہا کو چار ہزار درہم میں بیچ دیا۔ حضرت عثمان کے دور خلافت میں اسے سیدہ حفصہ سے خرید کر مسجد کی توسیع میں شامل کر لیاگیا۔ اب بھی مسجد نبوی کے مغربی کونے میں ترکوں کے عہد کی تحریر ’ہذہ خوخۃ ابی بکر‘ (یہ ابو بکر کے گھر کا دریچہ ہے) لکھی نظر آتی ہے۔
سیدناابوبکر آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ دینی حمیت رکھتے تھے۔ وہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوں میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کو شان دار فتح حاصل ہوئی او ر مشرکوں کے سترقیدی ان کے ہاتھ لگے۔ انھوں نے ابو بکر کو بلایا اوررشتہ داری کا واسطہ دے کر جان بخشی کرانے کی درخواست کی۔ ابو بکر نے وعدہ کرلیا۔ سیدنا عمر کی رائے تھی، ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے، لیکن ابوبکر نے اصرار کر کے ان کو زرفدیہ کے عوض رہا کرا لیا۔ جنگ بدر میں ابو بکر و علی کے بارے میں کہا گیا کہ ایک کا ساتھ جبرئیل نے اور دوسرے کا میکائیل نے دیا۔ جنگ احد میں مسلمانوں کو ابتدائی طور پر فتح ملی، لیکن جب انھوں نے رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہدایات کو فراموش کر کے اپنی متعین جنگی پوزیشنیں چھوڑ دیں تو کفار کو غلبہ پانے کا موقع مل گیا، چنانچہ جہاں ستر صحابہ شہید ہوئے وہاں سنگ باری سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر بھی زخم آئے اور آپ کے دو دانت شہید ہو گئے۔ اس دوران میں ابوبکران بارہ ثابت قدم صحابیوں میں شامل تھے جنھوں نے آپ کا دفاع کیا۔ ۶ھ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ چلنے کا حکم ارشاد کیا۔ قریش نے یہ خبر سن کر تہیہ کیا کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر فرو کش ہوئے اور مکہ والوں پر واضح کیا کہ ہمارا مقصد صرف عمرہ ادا کرنا ہے۔ تب مذاکرات کے بعد وہ مشہور معاہدہ طے پایا جسے صلح حدیبیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی کچھ شرائط مسلمانوں کو نا گوار گزریں خاص طور پر حضرت عمر کا رد عمل بہت سخت تھا۔ ابو بکر رضی اﷲ عنہ اس موقع پر بھی مطمئن اور پر سکون تھے، انھیں پختہ یقین تھا کہ آپ کا کوئی عمل بھی حکمت سے خالی نہیں اور یہ معاہدہ لازماً مسلمانوں کے حق میں بہتر ثابت ہو گا۔ چنانچہ سورۂ فتح نازل ہونے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں نے ذی قعد۷ھ میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی معیت میں عمرہ ادا کیا۔ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں ابو بکر کو مرکزی سیاہ پرچم عنایت کیا اور کھانے کو خیبر کی کھجوروں کے سو ٹوکرے عنایت فرمائے۔ آپ نے انھیں نجد کے سریہ میں امیر بنا کر بھیجا۔ ۹ھ میں حج فرض ہوا توآپ نے دین اسلام کا پہلا حج ادا کرنے کے لیے ابوبکر کو امیر الحج مقرر فرمایا۔ وہ تین سو مسلمانوں کو لے کر مکہ پہنچے اور آں حضرت کی ہدایت کے مطابق خطبۂ حج میں اﷲ کا اظہار برأ ت سنایا: ’انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا‘ ’’بلا شبہ مشرک تو نا پاک (عقیدہ والے) ہیں، لہٰذااس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ پھٹکیں۔‘‘ (توبہ۹:۲۸) اگلے برس۱۰ھ میں آپ خود حج کرنے مکہ تشریف لے گئے، یہ حجۃالوداع تھا کیونکہ اس کے بعد آپ کی وفات ہوگئی۔
ایک بار حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ سے دریافت فرمایا: ’’تو نے ابو بکر کے بارے میں بھی کوئی شعر کہا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: ’’ہاں۔‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’کہو، میں سن رہا ہوں۔‘‘ انھوں نے یہ دو شعر پڑھے:
وثانی اثنین فی الغار المنیف وقد
طاف العدو بہ اذ صعد الجبلا
’’بلند غار (ثور) میں دو افرا دمیں سے دوسرا ،دشمن اس کے گرد چکر لگاچکا تھا جب وہ ا س پہاڑ پر چڑھا۔‘‘
وکان حب رسول اﷲ قد علموا
من البر ےۃ لم یعدل بہ رجلا
’’وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیار ادوست ہے، سب نے جان لیا ہے۔ دنیا میں کوئی آ دمی اس کے برابر نہیں ہے۔‘‘
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کھل کر مسکرائے حتیٰ کہ آپ کی ڈاڑھیں نمایاں ہو گئیں۔ پھر فرمایا: ’’تو نے سچ کہا حسان، ابو بکر ایسے ہی ہیں جس طرح تو نے کہا۔‘‘ یہ واقعہ ہے کہ آپ کو عورتوں میں عائشہ اور مردوں میں ابوبکر سب سے زیادہ محبوب تھے۔ عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ میں نے (غزوۂ ذات سلاسل کے موقع پر) آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’آپ کو کون سا انسان سب سے بڑھ کر محبوب ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’عائشہ۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’مردوں میں سے کون؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ان کے والد (ابوبکر)۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’ان کے بعد؟‘‘ جواب فرمایا: ’’عمر۔‘‘ (مسلم،رقم ۶۱۷۷) آپ کا ارشادہے: ’’سنو، میں ہر دوست کی دوستی سے بے نیاز ہوں، اگر میں نے دوست بنانا ہوتا تو لازماً ابوبکر کو دوست بناتا۔ تمھارا ساتھی رسول تو اﷲ کا دوست ہے۔‘‘ (مسلم، رقم۶۱۷۶) ’’ابو بکرمیرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔‘‘ (بخاری، رقم۳۶۵۶) فرمان نبوی ہے: ’’میری امت میں امت پر سب سے بڑھ کررحم کھانے والے ابو بکر ہیں۔‘‘ (مسند احمد، مسند انس بن مالک) ایک عورت نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کسی شے کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے اسے حکم فرمایا: ’’میرے پاس پھر آنا۔‘‘ اس نے کہا: ’’یا رسول اﷲ، آپ کا کیا ارشاد ہے، اگر میں دوبارہ آئی اور آپ کو نہ پایا؟‘‘ یہ آپ کی وفات کا کنایہ تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’اگر تو نے مجھے نہ پایا تو ابو بکر کے پاس چلی جانا۔‘‘ (بخاری،رقم۷۲۲۰)
حجۃ الوداع سے فارغ ہونے کے بعد کچھ عرصہ گزراکہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے شام پر فوج کشی کے لیے ایک لشکر کی تیاری کا حکم فرمایا۔آپ نے اسامہ بن زید کو سپہ سالار بنایا اورابو بکر وعمر جیسے بڑے بڑے صحابہ کو لشکر کے ساتھ جانے کے لیے ارشاد فرمایا۔ ابھی یہ لشکر مدینہ سے کچھ دور جرف کے مقام تک پہنچا تھا کہ آپ کی علالت کی خبر آ گئی، چنانچہ وہیں پڑاؤ ڈال دیا گیا اور ابو بکر وعمر مدینہ لوٹ آئے۔ جب رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے آئے۔ آپ نے فرمایا: ’’ ابو بکر کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ حضرت عائشہ نے کہا: ’’یارسول اﷲ، ابوبکر رقت رکھتے ہیں۔ جب آپ کی جگہ (نماز پڑھانے) کھڑے ہوں گے، لوگوں کو (تلاوت) سنا نہ پائیں گے۔ آپ عمر سے کیوں نہیں کہتے؟‘‘ پھر عائشہ نے حضرت حفصہ سے کہا: یہی بات تم آپ کے گوش گزار کرو۔ حفصہ سے یہ مشورہ دوبارہ سننے پر آپ نے فرمایا: ’’تم تو بالکل یوسف کی ساتھی عورتیں ہو (اپنے دل کی بات چھپا کر رکھتی ہو۔ جس طرح زلیخا نے عورتوں کی ضیافت بظاہر ان کی عزت افزائی کے لیے کی، مقصد انھیں حسن یوسف سے مرعوب کر کے اپنی محبت کی صفائی پیش کرنا تھا ایسے ہی عائشہ نے ابو بکر کی نرم دلی کا ذکر کرکے امامت عمر کو سونپنے کی تجویز دی، مقصد ان کو بار خلافت سے بچانا تھا)۔ ابو بکرکو کہو، لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ جب ابو بکر نے نماز پڑھانی شروع کی، آپ نے اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس کی، آپ دو آدمیوں کا سہارا لے کرچلے، پاؤں مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ مسجد میں داخل ہوئے، ابو بکر نے آپ کی آہٹ سنی تو پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ نے اشارہ فرمایا: ’’تم اسی طرح کھڑے رہو۔‘‘ اور خود ابو بکر کے بائیں طرف بیٹھ گئے۔ آپ بیٹھ کر نماز پڑھانے لگے، ابو بکر کھڑے ہوئے آپ کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تیرہ روز بیمار رہے، جب مرض میں کمی محسوس کرتے، خود امامت فرماتے اور جب شدت ہوتی تو ابو بکر جماعت کراتے۔ ایک بار ابو بکر مدینہ میں نہ تھے، بلال نے عمر کو آگے کر دیا۔ آپ نے حجرۂ مبارک سے حکم بھیجا: ’’اﷲ اور مسلمان یہ پسند کرتے ہیں کہ ابو بکر نماز پڑھائیں۔‘‘ ابوبکر نے آپ کی زندگی میں سترہ نمازیں پڑھائیں۔ آپ نے مرض الموت میں عائشہ سے فرمایا: ’’اپنے باپ اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے بارے میں ایک تحریر لکھا لوں۔ مجھے اندیشہ ہے، کوئی معترض اعتراض کرے اور (خلافت کی) تمنا کرنے لگے۔ اﷲ اور اہل ایمان ابو بکر ہی کو چاہتے ہیں۔‘‘ عائشہ سے پوچھا گیا: ’’اے ام المومنین، اگرجا نشین مقرر کرنا ہوتا تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کس کاتقرر فرماتے؟‘‘ ان کا جواب تھا: ’’ابوبکر۔‘‘ پھر سوال ہوا کہ ’’ابو بکر کے بعد؟‘‘ جواب آیا، ’’عمر۔‘‘ پھر دریافت کیا گیا: ’’عمر کے بعد؟‘‘ عائشہ نے فرمایا کہ ’’ابوعبیدہ بن جراح۔‘‘
آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا انتقال پیر کے دن دوپہرکے وقت ہوا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ابو عبیدہ بن جراح کے پاس آئے اور کہا: ’’اپنا ہاتھ پھیلائیں، میں آپ کی بیعت کرتا ہوں، اس لیے کہ آپ رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس امت کے امین ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا: ’’ جب سے تم مسلمان ہوئے ہو، تم میں ایسی غفلت میں نے نہیں دیکھی۔ کیا تم میری بیعت کرو گے جبکہ تمھارے بیچ ثانی اثنین صدیق مو جود ہیں۔‘‘ اور صحابہ بھی بیعت کے لیے ابوعبیدہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے یہی جواب دیا۔ آپ کے انتقال کے بعدانصار سعد بن عبادہ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ ابو بکر، عمر اور ابوعبیدہ بن جراح بھی وہاں پہنچے۔ حباب بن منذر انصاری نے جوبدر میں حصہ لے چکے تھے، تجویز پیش کی: ’’ایک امیر ہم میں سے ہو، ایک تم میں سے۔ قریش کے ساتھیو، بخدا ہم تمھیں خلافت کے لیے نااہل نہیں سمجھتے، لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اقتدار کے مالک بن بیٹھیں گے جن کے بھائیوں اور باپوں کو ہم نے قتل کیا ہوگا۔‘‘ عمر کی حباب کے ساتھ تکرا ر ہوگئی تو ابوبکر نے گفتگو شروع کی: ’’حکمران ہم ہوں گے، تم مدد گار ہو گے۔ یوں خلافت ہمارے درمیان آدھی آدھی بٹ جائے گی۔‘‘ انصار میں سب سے پہلے بشیر بن سعد نے بیعت کی۔ عمران کے پاس گئے اور کہا: ’’ اے گروہ انصار، تم نہیں جانتے، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابوبکر کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا؟‘‘ انھوں نے کہا: ’’ہاں، بالکل۔‘‘ پھر عمر نے کہا: ’’تم میں سے کسے اچھا لگتاہے کہ ابو بکر سے آگے بڑھے؟‘‘ ان کا جواب تھا: ’’اﷲ کی پناہ کہ ہم ابوبکر سے آگے ہوں۔‘‘ پھر صحابہ حضرت ابو بکر کی بیعت میں مشغول ہو گئے جو پیر کا باقی دن اور منگل کی صبح سقیفۂ بنی ساعدہ اور مسجد نبوی میں جار ی رہی۔ جب ابو بکر کی خلافت کا فیصلہ ہو گیا تو بیعت میں پس و پیش کرنے والوں کو ابو بکر نے خود آمادہ کیا۔ منگل کے دن آپ کو غسل دیا گیا اور بد ھ کی رات تدفین عمل میں آئی۔
مطالعۂ مزید: الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، السیرۃ النبویہ (ابن ہشام)، فتح الباری(ابن حجر)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، رحمۃللعالمین (قاضی سلیمان منصور پوری)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (پنجاب یونیورسٹی)، الصدیق ابوبکر (محمد حسین ہیکل)، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (جواد علی)
یعقوبی کے بیان کے مطابق مہاجرین میں سے عباس بن عبدالمطلب، فضل بن عباس، زبیر بن عوام، خالد بن سعید، مقداد بن عمرو،سلمان فار سی،ابو ذرغفاری ، عمار بن یاسر،برا بن عازب اور ابی بن کعب نے ابوبکر کی بیعت نہ کی۔ ایک روایت کے مطابق حضرت علی نے چالیس روز بعد اور دوسری کے مطابق چھ ماہ بعد بیعت کی جب فاطمۃ الزہرا نے وفات پائی۔ اہل سنت علما کا اصرار ہے کہ علی اور زبیر سمیت تمام صحابہ ابو بکر کی بیعت پر متفق ہو گئے تھے۔ ابن کثیر کا کہنا ہے کہ زبیر بن عوام اور علی بن ابو طالب نے فوراً اسی دن یا دوسرے دن بیعت کر لی۔ وہ ابو بکر کی اقتدا میں نماز پڑھتے، ان کے مشوروں اور ان کی مہمات میں شامل ہوتے۔ علی کا چھ ماہ گزرنے کے بعد بیعت کرنے کا جو ذکر آتا ہے، وہ ان کی بیعت ثانیہ ہے جو میراث کے مسئلہ پر ابو بکر اور فاطمہ میں ہونے والی شکر رنجی دور کرنے کے لیے کی گئی۔سعید بن زید سے پوچھا گیا کہ کیا کسی شخص نے ابو بکر کی بیعت کی مخالفت بھی کی ؟ان کا جواب تھا: ’’مرتدین کے علاوہ کسی نے نہیں یا وہ جومرتد ہونے لگے تھے اگر اﷲ ان کو انصار سے نہ بچا لیتا ۔‘‘ان سے اگلا سوال کیا گیا کہ کیا مہاجرین میں سے کوئی (بیعت کیے بغیر) بیٹھا بھی رہا؟ انھوں نے جواب دیا:’’کوئی نہیں۔‘‘
اگلے روز مسجد نبوی میں بیعت عامہ کے بعد ابوبکر نے لوگوں سے خطاب کیا۔حمد وثنا کے بعد انھوں نے فرمایا:
’’لوگو، میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا کام کروں توتم میری مدد کرو اور اگر برا کام کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ تم میں سے کم زور میرے نزدیک طاقت والاہے حتیٰ کہ میں اسے اس کا حق دلا دوں ۔ تم میں سے طاقت ور کم زور ہو گا حتیٰ کہ میں اس سے حق لے لوں۔کوئی قوم اﷲ کی راہ میں جہاد نہیں چھوڑتی، مگر اﷲ اسے ذلت میں بے یار و مدد گار چھوڑ دیتا ہے ۔کسی قوم میں بے حیائی عام نہیں ہوتی، مگر اﷲ ان میں مصیبتیں عام کر دیتا ہے۔ تب تک میری بات مانو جب تک میں اﷲ اور رسول کی اطاعت کروں۔ اور جب میں اﷲ اور رسول کی نا فرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہ ہو گی۔ اب نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ اﷲ تم پر رحم فرمائے گا۔‘‘
اسامہ پیغمبر اکرم کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ کے بیٹے تھے ،انھیں جنگ احد میں صغر سنی کی وجہ سے واپس کر دیا گیا تھا البتہ، جنگ حنین میں انھوں نے داد شجاعت دی تھی۔جب غزوۂ موتہ میں رومیوں کے ہاتھوں زید کی شہادت ہوئی تو آپ نے اسامہ کو رومیوں کی سرکوبی کے لیے بھیجے جانے والے لشکر کا امیر مقرر فرمایا۔۸ ربیع الاول ۱۱ھ کو آپ نے اپنے دست مبارک سے ان کے ہاتھ میں علم دیا۔ کچھ لوگ ایک بیس سالہ بچے کی سپہ سالاری پر مطمئن نہ تھے،ان کی چہ میگوئیوں کی خبر آں حضور کو مرض الموت میں ملی چنانچہ جس روز آپ کا بخار اترا ،آپ نے منبر پر چڑھ کر فرمایا: ’’اسامہ امارت کا اہل ہے اور اس کا باپ بھی امارت کے لائق تھا۔‘‘ آپ کی وفات کے روز اسامہ نے کوچ کی اجازت مانگی ،آپ کو شدید ضعف تھا پھر بھی آپ نے اجازت دے دی او ر دعا بھی فرمائی۔پھر جب جرف کے مقام پر اسامہ کو سانحۂ وفات کی خبر ملی تو وہ لوٹ آئے اور آپ کوغسل دینے میں شریک ہوئے۔ بیعت مکمل ہونے کے بعد ابو بکر نے پہلا حکم یہ جاری کیا کہ اسامہ کا لشکر روانہ کیا جائے تو معترضین پھر حرکت میں آ گئے ۔انھوں نے ابو بکر سے کہا کہ ہر طرف بغاوت کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور یہ حالات مسلمانوں کے لیے پر خطر ہیں۔لشکر روانہ نہ کریں یا اسامہ کی بجائے ایسے شخص کو سپہ سالار مقرر کریں جو عمر میں بڑاہو۔ابو بکر نے ثابت قدمی سے فرمایا: ’’اگر شکاری پرندے مجھے اٹھا کر لے جائیں ،تمام عرب مجھ پر پل پڑے تو بھی میں رسو ل اﷲ کا حکم پورا کرنے سے پہلے کوئی کام نہ کروں گا۔‘‘ عمر نے اس سلسلے میں بات کی تو ان کو جواب دیا: ’’اے ابن خطاب، اسامہ کو رسول اﷲ نے امیر مقرر فرمایا ہے اور تم کہتے ہو،میں اسے اس کے عہدے سے ہٹا دوں۔‘‘پھر انھوں نے حکم دیا کہ مدینہ کا جو شخص بھی اس لشکر میں شامل تھا پیچھے نہ رہے ،وہ جرف جا کر لشکر میں مل جائے۔‘‘وہ خود وہاں پہنچے اور لشکر کو روانہ کیا۔اسامہ گھوڑے پر تھے اور ابو بکر پیدل چل رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اے خلیفۂ رسول اﷲ، آپ بھی سوار ہو جائیے۔ابو بکر نے جواب دیا: کیا ہوا اگر ایک گھڑی میں نے اپنے پاؤں اﷲ کی راہ میں غبار آلود کر لیے ؟‘‘انھوں نے اسامہ سے درخواست کی کہ اپنے ایک سپاہی عمر کو میری معاونت کے لیے چھوڑ جاؤ۔آخر میں فوج کو یہ نصیحتیں فرمائیں: خیانت نہ کرنا،چوری اور بد عہدی نہ کرنا، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا ،مقتولوں کے اعضا نہ کاٹنا، کھجور اور پھل والے درخت نہ کاٹنا،کھانا اﷲ کا نام لے کر کھانا۔ اﷲ تمھیں شکست اور وباسے محفوظ رکھے ۔‘‘ اسامہ نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اور ابو بکر کی ہدایات پر پوری طرح عمل کیا۔ آہل اور قضاعہ قبائل پر حملوں میں بے شمار رومی مارے گئے اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا۔ اسامہ نے سرحدی جھڑپوں پر اکتفا کیا اوروہ اندرون روم میں گھسے بغیر واپس آگئے، اس لیے کہ موجودہ زمانے کی اصطلاح کے مطابق یہ مہم چڑھائی نہیں، بلکہ ایک تادیبی کارروائی تھی ۔لشکر واپس آیاتو ابو بکر اور کبار صحابہ نے مدینہ سے باہر نکل کر اس کا استقبال کیا۔ جیش اسامہ کے رعب اور دبدبے کا یہ اثر ہوا کہ مرتدین مدینہ پر فوری حملہ کرنے سے باز رہے۔
پیغمبر علیہ السلام کی وفات کے بعد عربوں کی بدوی فطرت بیدار ہو گئی۔ وہ مرکز مدینہ سے آزاد ہو کر ارتداد کی تیاریاں کرنے لگے۔زیادہ دن نہ گزرے کہ ابو بکرکو امرا کی طرف سے اطلاعات ملنے لگیں کہ باغیوں کے ہاتھوں سلطنت کا امن خطرے میں ہے ۔بعض قبائل تو صریح مرتد ہو گئے، جبکہ دوسروں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ مدینہ کے نواح میں بسنے والے قبیلوں عبس، ذبیان، بنو کنانہ، غطفان اور فزارہ نے موقف اختیار کیاکہ زکوٰۃ جزیہ کے مانند ہے۔ یہ خاص نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے تھی ،اہل مدینہ اسے طلب کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ وہ خلافت ابو بکر کو بھی نہ مانتے تھے۔ ان کاکہنا تھا کہ جیسے رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم نے قبول اسلام کے بعد یمن کے عامل بازان کو اس کے عہدے پر برقرار رکھا تھا، ہم کو بھی اپنے علاقے میں خود مختاری دی جائے۔ ان حالات میں جبکہ مدینہ کے بیش تر افراد جیش اسامہ کے ساتھ جا چکے تھے ،ابو بکر کی شوریٰ میںیہ رائے اکثریت اختیار کر گئی کہ منکرین زکوٰۃ سے جنگ نہ کی جائے۔عمر نے کہا: ’’ہم ان لوگوں سے کیسے لڑ سکتے ہیں جو کلمہ گو ہیں؟‘‘ابو بکر نے کہا: ’’بخدا، میں صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں فرق کرنے والوں سے ضرور لڑوں گا۔اگر یہ مجھے ایک رسی بھی دینے سے انکار کریں جو وہ رسول اﷲ کے زمانے میں ادا کیا کرتے تھے تو میں ان سے جنگ کروں گا۔‘‘تب عمر کو یقین ہو گیا کہ ابو بکر کو جو شرح صدر عطا ہوا ہے، وہی حق ہے۔ ان پڑوسی قبائل نے فوجیں اکٹھی کر کے ابرق اور ذو القصہ کے مقامات پر پڑاؤ ڈال دیا۔وہ وفود کی شکل میں مدینہ آئے اوراداے زکوٰۃ سے مستثنیٰ کرنے کا مطالبہ کیا ، ان کی آمدکا مقصد مدینہ کی جاسوسی کرنا بھی تھا۔ابو بکر نے ان کے ارادوں کو بھانپ لیا۔ چنانچہ انھوں نے اہل مدینہ کو جمع کر کے فرمایا: ’’دشمن کو تمھاری کمزوریوں کا علم ہے ۔وہ تم سے ایک منزل۱؂ کے فاصلے پر خیمہ زن ہے۔ ہم نے اس کے شرائط ماننے سے انکار کیا ہے، اس لیے وہ تم پر ضرور حملہ کرے گا۔‘‘ تین ہی روز گزرے کہ منکرین زکوٰۃ نے مدینہ پر چڑھائی کر دی۔ مدینہ کے ناکوں پر ابو بکر کی طرف سے متعین کردہ علی،زبیر،طلحہ اور ابن مسعودنے فوراً ان کو خبر کی۔جب ان حملہ آوروں پر مسلمانوں کی جانب سے اچانک جوابی یلغار ہوئی تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے ۔مسلمان ان کے پیچھے ذو حسا تک پہنچے تووہاں موجود منکرین کے ساتھی مقابلے پر اتر آئے۔ رات بھر لڑائی کے بعد جب انھوں نے مسلمان سواروں کے اونٹوں پر کمندیں پھینکنی شروع کیں تو اونٹ بھاگ کھڑے ہوئے اور مدینہ جا کر دم لیا۔منکرین کی یہ فتح عارضی ثابت ہوئی، کیونکہ رات کے پچھلے پہرابو بکر مدینہ سے تازہ دم سپاہی لے کر میدان کارزارآن پہنچے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے ان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ جنگ ذو القصہ جنگ بدر سے بہت مشابہت رکھتی ہے ،اس میں بھی قلیل التعداد مسلمانوں نے بھاری اکثریت رکھنے والے دشمن کو شکست دی۔ابو بکر نے عزم وایقان کا جو مظاہرہ کیا، انھی کے شایان شان تھا، کیونکہ انھوں نے آغاز اسلام ہی سے رسول اﷲ کی کامل پیروی کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔وہ منکرین کو دو باتوں کی پیش کش کرتے ،ذلت وخواری قبول کر لویا جنگ اور جلا وطنی کے لیے تیار ہو جاؤ ۔جیش اسامہ کی واپسی کے بعدابوبکر اس لشکر کی خود قیادت کرتے ہوئے ابرق پہنچے، جہاں بنو عبس، بنو بکراور ذبیان کے ساتھ ان کا آخری معرکہ ہوا۔انھوں نے ذبیان کو ہمیشہ کے لیے ابرق سے نکالنے کا اعلان کیا اور وہاں کی اراضی اور چراگاہیں مسلمانوں میں تقسیم کر دیں ۔مذکورہ منکر زکوٰۃ قبیلے شکست کے بعد بھی باز نہ آئے ،ان کی قبائلی عصبیت نے انھیں حقائق ماننے سے باز رکھا۔ انھوں نے اپنی شرم ناک شکست کا بدلہ اپنے زیر دسترس مسلمانوں کو قتل کر کے لیا اور خود بنو اسد کے مدعی نبوت طلیحہ بن خویلد سے جا ملے۔ منکرین زکوٰۃ کی شکست کے بعد لوگ زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے جوق در جوق مدینہ آنے لگے۔ سب سے پہلے صفو ان تمیمی اور عدی بن حاتم طائی آئے۔
بنو اسد میں طلیحہ ،بنو تمیم میں سجاح اور بنو یمامہ میں مسیلمہ کذاب نے دعواے نبوت کیا۔ لقیط بن مالک عمان میں اور اسود عنسی یمن میں شورش کے ذمہ دار تھے۔اسود نامی کاہن جنوبی یمن میں رہتا تھا،شعبدہ بازی کرتے کرتے ا س نے نبوت کا دعویٰ کردیا اور اپنا لقب رحمان الیمن رکھا۔وہ یمن ،حضرموت ،بحرین اور عد ن پرقابض ہو گیا۔ اس کا نعرہ تھا:’یمن یمنیوں کا ہے ، اجنبیوں کو نکال دو‘۔ تب رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم حیات تھے اور رومیوں کے خلاف لشکر اسامہ کی تیا ری میں مصروف تھے،آپ نے اسود کے خلاف کارروائی کو موخر فرمایا ،اسی دوران میں آپ کا انتقال ہوا اور اسود کو اس کے قریبی ساتھیوں ہی نے قتل کر دیا۔یہ پہلی خوش خبری تھی جو خلیفۂ اول ابو بکر کو ملی۔مسیلمہ نے آں حضرت کو خط بھیجا تھاکہ نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش کی۔یہ لوگ اسلام میں رسوخ نہ رکھتے تھے،شام وایران سے متصل ہونے کی وجہ سے ان میں بت پرستی اور آتش پرستی کے اثرات تھے پھرانھیں خود مختاری کا شوق بھی تھا، اہل یمن تو حجازیوں سے پہلے سے نفرت کرتے تھے ۔ مکہ کے عامل عتاب بن اسید لوگوں کے اسلام سے منحرف ہونے کا اندیشہ کرتے ہوئے روپوش ہو گئے، جبکہ وہاں کے باشندوں کو سہیل بن عمرو نے مرتد ہونے سے روکا۔ اسی طرح طائف کا قبیلہ بنو ثقیف مرتد ہوناچاہتا تھا ، وہاں کے گورنر عثمان بن ابو العاص نے ان کو باز رکھا۔
مرتدین سے جنگ کرنے سے پہلے ابو بکر نے ان کو خطوط ارسال کیے ۔انھوں نے لکھا: ’’رسول اﷲبشارت و انذار کا کام مکمل کر چکے تو انھیں اﷲ نے اپنے پاس بلا لیا۔اب تم میں سے جو لوگ جہالت کے باعث اسلام سے پھر گئے ہیں، اگر وہ اپنی دین مخالف سر گرمیوں سے باز آگئے تو ان کی جان بخشی کر دی جائے گی۔جو آماد�ۂ فساد ہوں گے، ان سے جنگ کی جائے گی، ان کو بری طرح قتل کر کے ان کی عورتوں اور بچوں کوقیدی بنا لیا جائے گا۔ان کا اذان دیناان کے اسلام کی علامت سمجھا جائے گا۔‘‘بہت سے مرتدین نے اسلام کی طرف رجوع کر لیا۔ اب ارتداد پر قائم سرکشوں کی سرکوبی کا مرحلہ آیا۔اسامہ کا لشکر اچھی طرح آرام کر چکاتو ابوبکر اسے لے کرمدینہ سے نکلے ۔ذوالقصہ پہنچ کر انھوں نے لشکر کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا ،ہر حصے کوالگ پرچم دے کر الگ ا میر مقرر کیا۔ ابو بکر نے بنو اسد کے طلیحہ بن خویلد کی طرف خالد بن ولید کو،بنو حنیفہ کے مسیلمہ کی طرف عکرمہ بن ابو جہل کو،یمامہ او رقضاعہ کی طرف شرجیل بن حسنہ کو، اسود عنسی ‘عمرو بن معدی کرب اور قیس بن مکشوح کی طرف مہاجر بن ابو امیہ کو ، تہامہ کی طرف سوید بن مقرون کو،حطم بن ضبیعہ اور قیس بن ثعلبہ کی طرف علا بن حضرمی کو،عمان کے لقیط بن مالک کی طرف حذیفہ بن محصن کو ،مہرہ کی طرف عرفجہ بن ہرثمہ کو،قضاعہ کی طرف عمرو بن عاص کو، بنو سلیم اور بنو ہوازن کی طرف معن بن حاجز کواور شام کی سرحدوں کی طرف خالد بن سعید کو بھیجا۔ انھوں نے دستوں کو ہدایت کی کہ جن قبیلوں پر ان کا گزر ہو ،وہاں کے مسلمانوں کو لشکر میں شامل کرتے جائیں ،کوئی سپہ سالار فتح حاصل کرنے کے بعد مرکز مدینہ کے حکم کے بغیر اپنی پوزیشن نہ چھوڑے۔
عبس ،ذبیان،بنو بکر ،بنوطی، غطفان اور بنو سلیم مدعی نبوت طلیحہ سے جا ملے تھے ،یہ سب بزاخہ میں اکٹھے ہو گئے۔ طلیحہ نے دعویٰ کیا کہ محمد کی طرح مجھ پر بھی وحی آتی ہے ۔اس نے کچھ مقفیٰ عبارتیں بنا کر لوگوں کو سنائیں اور لوگوں کو رکوع وسجود سے منع کر دیا۔ادھر عدی بن حاتم طائی زکوٰۃ ادا کر کے مدینہ سے لوٹے اور اپنے قبیلے طے کو اسلام کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا ۔قبیلہ والے مان گئے تو عدی نے سنح پہنچ کر خالد بن ولید کو تین دن کے لیے بزاخہ پر حملہ کرنے سے روکا۔اس دوران میں عدی نے طلیحہ کے لشکر میں موجود اپنے پانچ سو آدمیوں کو واپس بلا لیا۔خدا کی قدرت کہ طلیحہ کو شبہ تک نہ ہوااور یہ آدمی لشکر خالد کے سپاہی بن گئے۔اب خالد کا ارادہ انسر جا کر قبیلۂ جدیلہ سے جنگ کرنے کا تھا۔عدی نے کہا: اگر طی قبیلہ پرندہ ہوتا توجدیلہ ا س کا پر بنتا۔کچھ روز مہلت دے کر مجھے جدیلہ جانے دیں، شایداﷲاس قبیلے کو بھی ارتداد سے بچا لے۔ چنانچہ ایسا ہی ہواور جدیلہ کے ایک ہزار سوار مرتدین کے جتھے سے ٹوٹ کر جیش خالد میں شامل ہو گئے۔ادھر بزاخہ میں موجود طلیحہ اب بھی مقابلے پر تیار تھا، کیونکہ ابو بکر کا جانی دشمن عیینہ بن حصن سات سو فزاری لیے اس کے ساتھ تھا۔ اس نے سپہ سالاری سنبھالی جب کہ طلیحہ خیمے میں کمبل اوڑھے وحی کا انتظار کرتا رہا۔ اسلامی لشکر کا دباؤ بڑھا اور جھوٹے نبی کی وحی میں تاخیر ہوئی توعیینہ نے اپنی قوم کو پکارا: اے بنو فزارہ! طلیحہ کذاب ہے ،بھاگ کر اپنی جانیں بچاؤ۔باقی لشکر طلیحہ کے گرد اکٹھا ہو گیا،اس نے اپنے لیے ایک گھوڑے اور اپنی بیوی نوارکے لیے اونٹ کا انتظام کیا ہوا تھا۔یہ کہہ کر وہ بھاگ کھڑا ہوا کہ تم بھی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جانیں بچاؤ۔وہ شام پہنچا اور بنو کلب میں سکونت اختیار کر لی۔ اس کے اکثر ساتھی مسلمان ہو گئے تو وہ بھی اسلام لے آیا، عمر کی خلافت میں اسے بیعت کا موقع ملا۔خالد بن ولید ایک ماہ بزاخہ میں مقیم رہے ۔انھوں نے مسلمانوں کا قتل کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایااور قرہ بن ہبیرہ، فجاہ سلمیٰ اور ابو شجرہ جیسے مرتدوں کو بیڑیاں پہنا کر مدینہ بھیج دیا۔ابو بکر نے فجاہ کو جلانے کا حکم دیا، کیونکہ اس نے افواج اسلامی کے ہتھیار مسلمانوں ہی کے خلاف استعمال کیے تھے،باقی لوگوں کو انھوں نے معاف کر دیا۔ بزاخہ کے ہم سایہ میں رہنے والے بنو عامر بھی مسلمان ہو گئے جبکہ طلیحہ کا ساتھ دینے والے غطفان، طی، ہوازن اور سلیم کے کچھ لوگ ام زمل سلمیٰ بنت مالک کے پاس جا پہنچے۔یہ بنو فزارہ کے سردار عیینہ کی چچی ام قرفہ فاطمہ بنت بدر کی بیٹی تھی۔ام قرفہ کو خود آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قتل کرایا تھا ،یہ لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتی تھی۔ام زمل لونڈی بن کر عائشہ کے حصے میں آئی جنھوں نے اسے آزاد کردیا۔آزادی کے بعد اس نے اپنی ماں کے قتل کا بدلہ لینا اپنا مقصد بنا لیا۔مسلمانوں کی فوج کا ام زمل کی فوج سے ٹکراؤ ہوا،پورے سو آدمیوں کو جہنم واصل کرنے کے بعد وہ ام زمل تک پہنچے ۔اس کے خاتمے کے بعد اس کی فوج بھی تتر بتر ہو گئی۔
شمال مشرقی عرب کی بغاوتوں کو فرو کرنے کے بعد ابو بکر جنوبی عرب کی طرف متوجہ ہوئے جہاں بنو تمیم مقیم تھے۔ یہ لوگ قبر پرست تھے ،ان میں سے کچھ عیسائی ہو چکے تھے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسی قبیلے نے سب سے پہلے جزیہ دینے سے انکار کیا۔آپ نے عیینہ بن حصن کو ان کے پاس بھیجا،وہ ان کو مطیع کر کے مدینہ لے آئے۔اس موقع پر بنو تمیم مسلمان ہو گئے،آپ نے اس قبیلے کی مختلف شاخوں کے لیے الگ الگ امیر مقرر فرمائے۔ مالک بن نویرہ بنو یر بوع کاسردار تھا،آپ کی وفات کے بعداس نے ابو بکر کی خلافت ماننے او رآپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔سجاح بنت حارث بھی بنو یربوع سے تعلق رکھتی تھی ،اس کی شادی اپنے ننھیال تغلب میں ہوئی تھی۔یہ بہت ذہین تھی ،کہانت کے ساتھ اسے لوگوں کی رہبری کرنا آتا تھا۔اسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی تو اس نے نواحی قبائل کا دورہ کیا اور انھیں مدینہ پر ہلا بولنے کے لیے آمادہ کرنے لگی ۔اس کا خیال تھا، وہ نبوت کا دعویٰ کرے گی تو تمام بنو تمیم اس پر ایمان لے آئیں گے اور وہ مدینہ پر دھاوا بول دے گی ۔کہا جاتا ہے کہ ایرانی عمال اس کی پشت پر تھے۔ ان کی منصوبہ بندی کے مطابق یہ عرب میں فتنہ وفساد کی آگ بھڑک اٹھنے تک مقیم رہی اور مقصد پورا ہونے کے بعدعراق واپس چلی آئی ۔ مالک بن نویرہ نے اسے مدینہ پر حملہ کرنے سے باز کیا۔ پھر وکیع بھی سجاح سے مل گیا اور ان تینوں نے اپنے ہی قبیلے بنو تمیم کے دوسرے سرداروں پر حملہ کر دیا۔جلد ان دونوں کومحسوس ہوا کہ انھوں نے اس عورت کا ساتھ دے کر بڑی غلطی کی ہے۔سجاح تمیم سے نا مراد پلٹی،مدینہ کو جاتے ہوئے نباج پہنچ کر اوس بن خزیمہ سے شکست کھائی تو یمامہ آن پہنچی۔یہاں کے نبی مسیلمہ کو اپنی نبوت کی فکر پڑ گئی تواس نے دونوں نبوتوں کو جمع کرنے کے لیے سجاح کو دام میں پھنسایا او راس سے شادی کر لی۔مہر مسیلمہ کی زرعی آمدن کا نصف مقرر ہوا، سجاح کے لیے عشا اور فجر کی نمازوں میں تخفیف کر دی گئی۔ادھر مالک بن نویرہ اکیلا رہ گیا تھا، کیونکہ اس کا دست راست وکیع مسلمان ہوکر زکوٰۃ ادا کر چکا تھا۔خالد بن ولید بنو اسد و غطفان کی سرکوبی سے فارغ ہو چکے تھے ،انھوں نے تمیم کا رخ کرنے کا ارادہ کیا ۔انصار پہلے تو بزاخہ میں رہ گئے پھر خالد کے ساتھ آن ملے۔مالک نے اپنی کم زور پوزیشن کا جائزہ لیا تو اپنی قوم کو منتشر کر دیااور خود روپوش ہو گیا۔ خالد کا بھیجا ہوا ایک دستہ مالک کو گرفتار کر لایا۔مالک نے اسلام کا اقرار کیا اور مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھی، لیکن زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، چنانچہ خالد نے ا س کو قتل کرا دیا۔ان کا مالک کو قتل کرانا بہت نزاع کا باعث بنا ۔ابو قتادہ انصاری جو مالک کو گرفتار کرنے والوں میں شامل تھے، کہتے ہیں کہ اس نے زکوٰۃ کا اقرار بھی کیا تھا،دوسرے راوی اس اقرار کو نہیں مانتے ۔پھر جب خالد نے اسلامی احکام اور مروج جاہلی رسوم، دونوں کے علی الرغم مالک کی بیوہ لیلیٰ سے اس کی عدت گزرنے سے پہلے ہی شادی کر لی تو ان پر الزام لگا کہ انھوں نے اس خوب رو عورت سے شادی کی خاطر اس کے شوہر کو مروایا۔ابو قتادہ تو ا س قدر ناراض ہوئے کہ یہ قسم کھا کر مدینہ لوٹ گئے کہ آیندہ کبھی خالد کے جھنڈے تلے نہ لڑیں گے۔انھوں نے ابوبکر کو یہ واقعہ سنایا تو انھوں نے توجہ نہ دی پھر وہ عمر کے پاس گئے۔ عمر نے ابو بکر کومشورہ دیا ، اس الزام کی بنا پر خالد کو معزول کر دیا جائے۔ان کو گوارا نہ ہوا کہ ایک لغزش کی وجہ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقرر کردہ قائد کو معزول کر دیں، چنانچہ ان کا جواب تھا: ’’میں اس تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا جسے اﷲ نے کافروں پر مسلط کیا ہو۔‘‘خالد مدینہ پہنچ کر ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعے کی تفصیلات ان کے گوش گزار کیں۔ابوبکر نے مالک کے قتل کے متعلق ان کی معذرت قبول کی، لیکن اس کی بیوی سے شادی پر ناراضی کا اظہار کیا اور اسے طلاق دینے کا حکم دیا۔ابو بکر کا طرز عمل خود نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس عمل کی پیروی تھا جب خالد نے بنو خزیمہ کے قیدیوں کو قتل کرنے میں جلدی کی تھی۔آپ نے مقتولوں کی دیت ادا فرمائی، بنو خزیمہ کا ایک ایک برتن واپس کیا ،اﷲ کے حضور خالد کے عمل کی برأتپیش کی، لیکن خالد کو معزول نہ فرمایا۔ مالک بن نویرہ کے قتل کا معاملہ طے کرنے کے بعدابوبکر نے خالد کو یمامہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا جہاں مسیلمہ بنو حنیفہ کے چالیس ہزارجنگ جو اشخاص کے ساتھ مقیم تھا،وہ بطاح پہنچے اور ابوبکر کی کمک کا انتظار کرنے لگے۔
مطالعۂ مزید:الطبقات الکبریٰ(ابن سعد)،الامامہ والسیاسہ(ابن قتیبہ)،تاریخ الامم والملوک(طبری)، البدایہ والنہایہ(ابن کثیر)،تاریخ الاسلام (ذہبی)،اردو دائر�ۂمعارف اسلامیہ(پنجاب یونیورسٹی) ، الصدیق ابو بکر (محمد حسین ہیکل) ، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام(جواد علی)،عبقرےۃ الصدیق (عباس محمود العقاد)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا صدمہ اس قدر جاں کاہ تھا کہ اسے خو د برداشت کرلینااور آپ کے بعد آپ کی دل گیر امت کو درست سمت میں لے کر چلناایسا کارنامہ تھا جوحضرت ابو بکر ہی سر انجام دے سکتے تھے۔ وفات کی صبح آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم حجرۂ عائشہ سے مسجد میں تشریف لائے ،لوگوں سے کچھ باتیں کیں اورجیش اسامہ کی کامیابی کی دعا فرمائی ۔ آپ کے حجرے میں واپس جانے کے بعد ابو بکر آپ کی صحت کی طرف سے مطمئن ہوکراپنے گھر چلے گئے۔ دوپہر کے وقت آپ کی وفات کی خبر آئی تو ایک شخص ابو بکر کو واپس بلا لایا ۔ مسجد میں عمر تلوار لیے جوش کے عالم میں کہہ رہے تھے: ’’جو کہے گا ،رسول اﷲ فوت ہو گئے ہیں، میں اس تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں گا ۔‘‘ابو بکر سیدھے حجرے میں گئے ،رخ مبارک سے کپڑا ہٹایا ، رخسار کوبوسہ دے کر فرمایا: ’’کیا ہی با برکت تھی آپ کی زندگی اور کیا ہی با برکت ہے آپ کی موت ۔‘‘پھر باہر آئے اور منبر پر چڑھ کر فرمایا: ’’اے لوگو، جو محمد کی پوجا کرتا تھا، جان لے، محمد تو فوت ہوچکے ہیں ۔جو اﷲ کی عبادت کرتا ہے، اسے معلوم ہوناچاہیے، اﷲ زندہ ہے،کبھی نہ مرے گا۔‘‘انھوں نے سورۂ آل عمران کی آیت تلاوت کی: ’وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم‘ (۱۴۴)’’محمد تو بس ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے بہت رسول گزر چکے ہیں۔تو بھلا کیا یہ مر جائیں یا مار دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟‘‘ یہ آیت سن کر سب کو یوں لگا جیسے یہ ابھی اسی موقعے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ حضرت عمر کو بھی یقین ہو گیا ،ان پراتنا شدید اثر ہواکہ بے سدھ ہو کر گر گئے۔ایک رقیق القلب مومن کا ضبط نفس اس موقع پر مسلمانوں کے کام آیا، وہ انتشار سے محفوظ ہو کر حقائق کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔
آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا سانحۂ انتقال ہو چکا تھا، لیکن اصحاب نبی جسد مبارک کی تدفین کے بجائے خلیفہ کے انتخاب میں مصروف تھے۔مہاجرین وانصارکے بیچ کیوں کشمکش ہوئی اور اوس وخزرج کی باہمی چپقلش نے ابو بکر کے انتخاب میں کیا کردار ادا کیا؟ ان سوالوں کا جواب پانے کے لیے تاریخ سے مدد لینا ہو گی۔
صعل و عمالقہ یثرب کے قدیم باشندے تھے، داؤدو موسیٰ علیہما السلام کے زمانے میں اسرائیلی اور یہودی آباد ہوئے۔ عربوں میں سے بنو انیف اور بنو مرید کی آمد بعدمیں ہوئی ۔ارم کا سیلاب آنے کے بعد عمرو بن عامر بن حارثہ کی اولاد بکھر گئی تواس کے دو بیٹوں اوس اور خزرج نے مدینہ میں ڈیرا ڈالا،وہ اپنی ماں کی نسبت سے بنو قیلہ کہلاتے ہیں۔ پہلے وہ یہود کے پڑوسی اور حلیف بنے پھر انھی سے ان کی جنگیں ہوئیں۔شروع میںیہود غالب آئے ،بعد میں اوس و خزرج ہی کا پلہ بھاری رہا۔ یہود پر کامیابی پانے کے بعد معمولی باتوں پر اوس وخزرج میں لڑائیوں کا آغاز ہواحتیٰ کہ سمیر، سرارہ،بنو وائل،بنو مازن، حاطب، فجار اور بعاث کی جنگیں ہوئیں۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کے بعد ان کی کشمکش ختم ہوئی اور وہ مسلمان بھائی بن گئے۔
اوس وخزرج میں بڑے دلیر سردار پیدا ہوئے،اوس کے سعد بن معاذ، عمرو بن معاذاور سعد بن خیثمہ بدر ،احد اور خندق کی جنگوں میں شہید ہوگئے۔ خزرج کے سرداروں میں سے سعد بن عبادہ ، رافع بن مالک،مرداس بن مروان، ابو قتادہ بن ربعی اور مالک بن عجلان مشہور ہوئے۔ حسان بن ثابت خزرج کے اور قیس بن خطیم اوس کے شاعر تھے۔
اپنی اس تاریخی حیثیت کی بنا پر اور مشکل وقت میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو پناہ دینے کی وجہ سے ان کے دلوں میں یہ خیال پختہ ہو چکا تھا کہ اچھے وقت کے ثمرات حاصل کرنے کے زیادہ حق دار بھی وہی ہیں۔ حنین و طائف کے معرکوں کے وقت ان کے اس دعوے کا اظہار ہواجب آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم میں نو مسلم قریشیوں کو ترجیح دی تو انھوں نے اعتراض کیا: ’’خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مکہ والے لے گئے۔‘‘تب آپ نے انھیں جمع کر کے فرمایا: ’’میں نے وہ مال قریش کو محض تالیف قلب کے لیے دیاتاکہ وہ اسلام پر پختہ ہو جائیں ۔تمھیں تالیف قلب کے لیے دینے کی ضرورت نہ تھی۔اے انصار، کیا تم اس پر راضی نہیں کہ دوسرے لوگ اونٹ او ربکریاں لے جائیں اور تم اپنے ساتھ رسول اﷲ کو لے جاؤ۔‘

مسیلمہ ۹ھ میں بنو حنیفہ کے ایک وفد کے ساتھ مدینہ آ یا۔وفد کے ارکان نے آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا ،مسیلمہ سامان کی حفاظت پر مامور تھا ،آپ کے پاس نہ پہنچا، لیکن بظاہر مسلمان ہو گیا ۔آپ نے بھی اس کے لیے کچھ مال بھجوایا۔وطن واپس جا کراس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور من گھڑت الہامات سنانے لگا پھراس نے آپ کو خط لکھا کہ مجھے بھی اپنی نبوت میں شریک کر لیں یا یہ منصب مجھے منتقل کردیں۔آپ نے اسے جھوٹا قرار دیا، قبل اس کے کہ آپ اس کے خلاف کسی کارروائی کا حکم فرماتے، آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یمامہ کا ایک شخص نہارالرجال بن عنفوہ بھی اس سے مل گیاجس نے مدینہ میں قیام کر کے قرآن مجید اور اسلام کی تعلیم حاصل کی تھی۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسے اہل یمامہ کو اسلامی تعلیمات سکھانے کے لیے بھیجا، لیکن و ہ الٹامسیلمہ سے مل گیا اور آپ سے جھوٹا قول منسوب کر دیا کہ مسیلمہ شریک نبوت ہے ۔یمامہ والے اس کے دھوکے میں آ گئے اورہزاروں لوگ اس جھوٹے نبی پر ایمان لے آئے۔ تاریخ میں مسیلمہ کا کوئی معجزہ مذکور نہیں۔قبائلی عصبیت نے اس کے گرد جھرمٹ ا کٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ طلحہ نمری نے گواہی دی:’’مسیلمہ، تم کذاب ہو اور محمد سچے ہیں، لیکن ہمیں اپنا کذاب دوسروں کے سچے سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘چنانچہ وہ مسیلمہ کے ساتھ لڑتے ہوئے مارا گیا ۔
جنگ یمامہ ربیع الاول ۱۲ھ (مئی ۶۳۳ء)میں عقربا کے مقام پر لڑی گئی، جہاں مسیلمہ لشکر کش تھا۔ چالیس ہزار پر مشتمل مسیلمہ کا لشکر اسلامی لشکر سے کئی گنا بڑا تھا، اس لیے ابو بکر نے خالد کے لشکر کے برابر ایک اور کمک بھیجی ۔ان کی پالیسی تھی کہ اہل بدر کو جنگوں میں نہ بھیجا جائے، لیکن اس نازک موقع پر انھوں نے بدری صحابہ کا ایک دستہ اور حفاظ کی بڑی تعدادبھی اس لشکر میں شامل کی ۔انصار کی کمان ثابت بن قیس اور برا بن مالک کے پاس تھی، جبکہ ابو حذیفہ بن عتبہ اور زید بن خطاب مہاجرین کی سربراہی سنبھالے ہوئے تھے۔خالد سے پہلے عکرمہ اور شرحبیل مسیلمہ سے شکست کھا چکے تھے، کیونکہ وہ مسیلمہ کی طاقت کا اندازہ لگائے بغیر اس سے بھڑ گئے تھے۔ابو بکر نے عکرمہ کو تو عمان اور اس کے بعد یمن بھیج دیا، لیکن شرحبیل کووہیں رکنے کی ہدایت کی۔ خالد نے بطاح سے یمامہ کی طرف بڑھناشروع کیا، ثنےۃالیمامہ کے مقام پر انھیں بنو حنیفہ کا ایک سردار مجاعہ ایک شب خون مارنے والے دستے کے ساتھ ملا ۔ انھوں نے اس کے ساتھیوں کو تو قتل کرا دیا، لیکن اسے بیڑیوں میں جکڑ کر قید کر لیا۔دوسرے دن فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔مسیلمہ کے بیٹے شرحبیل نے اپنی فوج کو خوب جوش دلایا اور بھڑکایا: ’’اے بنو حنیفہ، اگر تم شکست کھا گئے تو تمھاری عورتیں لونڈیاں بنا لی جائیں گی،اپنے حسب ونسب کی خاطر مسلمانوں سے جنگ کرو ۔‘‘بد قسمتی سے انصار ،مہاجرین اور بدووں میں یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ ان میں زیادہ دلیر کون ہے؟ اس غفلت کا نتیجہ یہ ہوا کہ یمامہ کا لشکر ان پر چڑھ دوڑا اور یہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔خالد نے مسلمان لشکر کو الگ گروہوں میں بانٹ کر کہا:’’ہم دیکھیں گے کہ کس نے زیادہ دلیری کا مظاہرہ کیا ہے؟‘‘سب سے پہلے مسیلمہ کا دست راست نہار الرجال مارا گیا اور مسلمانوں میں سے ثابت بن قیس، زید بن خطاب ،ابو حذیفہ اور ان کے غلام سالم نے جام شہادت نوش کیا۔ خالد نے دیکھا کہ مسیلمہ کے ساتھی اس کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے ہیں اور اس کی حفاظت میں موت کی پروا نہیں کر رہے تو انھوں نے اسے قتل کرنے کی ٹھانی تاکہ جنگ کا جلد خاتمہ ہو ۔جب خالد نے اس کے جلو میں کھڑے ہوئے بے شمار لوگوں کو مار ڈالاتو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوا اور اپنے تعمیر کردہ بلند فصیلوں والے حدیقۃ الرحمان میں داخل ہو گیا،اس کی قوم بنو حنیفہ بھی اس کے ساتھ اس باغ میں پناہ گزین ہو گئی۔اسلامی فوج نے باغ کے گرد پڑاؤ ڈال دیا ، کوشش کے باوجود کوئی ایسی جگہ نہ ملی جہاں سے شگاف کیا جا سکتا تو برا بن مالک نے کہا: ’’مجھے اٹھا کر اندر پھینک دو ،میں دروازہ اندر سے کھول دوں گا۔‘‘ان کے اصرار پر انھیں پھینکا گیا تو دروازہ کھلا۔بنو حنیفہ کے لا تعداد افراد تہ تیغ ہوئے تو بہت سے مسلمان بھی شہید ہوئے۔ مقتولوں کی کثرت سے باغ ایک مذبح کا منظر پیش کر رہا تھااسی وجہ سے یہ حدیقۃ الموت کہلایا۔ جنگ احد میں سید الشہدا حمزہ کو شہیدکرنے والے اور فتح مکہ کے موقع پر ایمان لانے والے وحشی نے مسیلمہ کو دیکھا تو تاک کر اسے نیزہ مارا،یوں وہ کذاب جہنم واصل ہوا۔ اس دوران میں ایک انصاری بھی اس پر تلوار کا وار کر چکے تھے۔ باقی مفروروں کو پکڑنے کے بعد خالد نے بنو حنیفہ کے قلعہ بندوں سے صلح کی۔ مجاعہ نے ان سے دھوکا کیا اور قلعوں میں بند عورتوں اور بچوں کو جنگجو مرد ظاہر کر کے پون مال اسباب،باغات اور قیدیوں کو چھڑا لیا۔اسی اثنا میں ابو بکر کا قاصد پیغام لایاکہ لڑائی کے قابل سب مردوں کو قتل کر دیا جائے، لیکن خالد نے صلح بر قرار رکھی اوربنو حنیفہ نے نئے سرے سے بیعت اسلام کی۔جنگ یمامہ میں یمامہ کے ۲۱ ہزار آدمی مارے گئے، جبکہ مسلمان شہدا کی تعداد ۱۲ سو تھی،ان میں۳۶۰ مدینہ میں رہنے والے مہاجرین وانصار اور ۳۰۰ دوسرے شہروں کے مہاجرین تھے۔ابو بکر نے کثیر تعداد میں حفاظ کے شہید ہوجانے کے بعد قرآن مجید جمع کرنے کا حکم جاری کیا۔اس معرکے سے فارغ ہونے کے بعد خالد نے مجاعہ کی بیٹی سے شادی کی تو ابو بکر بہت ناراض ہوئے ۔
اب جنوبی قبائل کی بغاوت فرو کرنے کی باری تھی۔نصف عرب پر محیط یہ لق و دق صحرا بحرین ،عمان ،مہرہ، حضرموت، کندہ اور یمن کے صوبوں پر مشتمل ہے اور ربع الخالی کے نام سے مشہور ہے۔یہاں ایران کا بہت اثر تھا ،خسرو کے عامل بدھان کے قبول اسلام تک یمن ایران کی عمل داری میں تھا۔ ابھی خالد یمامہ میں تھے کہ ما تحت سپہ سالاروں کو ان قبائل کی طرف بھیج دیا ۔بحرین نزدیک تھا ،اس لیے یہاں سے آغاز کیا گیا۔یہاں کا عیسائی بادشاہ منذر بن ساوی ۹ھ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے قاصد علا بن حضرمی کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا تھا ۔ اتفاق سے جب آں حضرت نے وفات پائی اسی ماہ منذر کا انتقال بھی ہو گیا۔ بحرین والے مرتد ہو گئے ،صرف نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ جارود بن معلی اسلام پربرقرار رہے۔انھوں نے اپنے قبیلے عبد القیس کو پھر سے اسلام پر آمادہ کر لیا، لیکن بحرین کے دوسرے قبائل حطم بن ضبیعہ کی سربراہی میں ارتداد پر قائم رہے ۔اس نے ہجر اور قطیف میں مقیم غیر ملکیوں اور غیر مسلموں کوساتھ ملا کر بنو عبد القیس کا محاصرہ کر لیا۔بھوک اور پیاس سے جاں بلب ہونے کے باوجودبنو عبد القیس پھر مرتد نہ ہوئے۔ابو بکر نے علا بن حضرمی کو بحرین کے مرتدین کے مقابلے کے لیے بھیجا ، وہ یمامہ کے پاس سے گزرے تو نئے سرے سے مسلمان ہونے والے بنو حنیفہ کی کثیر جمعیت ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ قیس بن عاصم نے جو زکوٰۃ کا انکار کرنے میں پیش پیش تھے، اپنے قبیلے سے زکوٰۃ اکٹھی کر کے علا کو پیش کی۔علا محاذ جنگ پر پہنچے تو انھوں نے مرتدین کی بھار ی تعداد دیکھتے ہوئے اسلامی لشکر کے گرد خندق کھدوائی اور پڑاؤ ڈال دیا کبھی کبھار وہ خندق عبو ر کر کے مرتدین پر حملہ کرتے اور پھر واپس آ جاتے۔ایک ماہ اسی طرح گزر گیا ،ایک رات جب مشرکین شراب میں دھت غوغا کرر ہے تھے علا پیش قدمی کر کے ان کے علاقے میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کر دیا۔بے شمار قتل ہوئے اور ہزاروں کوقیدی بنا لیا گیا،قیس بن عاصم نے حطم کا کام تمام کیا۔کچھ فرار ہو کر چند میل دور خلیج فارس میں واقع جزیرۂ دارین جا پہنچے ۔مسلمانوں کے پاس کشتیاں نہ تھیں ،انھوں نے گھوڑوں ،خچروں اور اونٹوں ہی کو سمندر میں ڈال دیااور دارین پہنچ گئے ۔مفروروں کا قلع قمع کرنے کے بعد واپس بحرین آئے تو علا نے ابوبکر کو فتح کی خوش خبری بھیجی۔
رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں عمان پر ایران کی طرف سے جیفر نامی عامل مقر ر تھا ۔آپ نے اس کی طرف عمرو بن عاص کو اسلام کا پیغام دے کر بھیجا، اسے زکوٰۃ مدینہ بھیجنے پر اعتراض تھا ۔عمرو نے زکوٰۃ اسی کے علاقے میں خرچ کرنے کی تجویز پیش کی تو وہ مسلمان ہوا۔ آپ کی وفات کے بعد مدعی نبوت لقیط بن مالک کی تحریک پر اہل عمان مرتد ہوئے تو جیفر پہاڑوں پر بھاگ گیا۔ابو بکر نے حمیر سے حذیفہ بن محصن کو عمان بھیجا ۔آپ کی ہدایت پر یمامہ سے عکرمہ بن ابو جہل اور شرحبیل بن حسنہ بھی آ گئے۔جیفر اور اس کے بھائی عباد کو پیغام بھیجا گیا کہ آ کر اسلامی لشکر سے مل جائیں۔دبا کے مقام پر شدیدلڑائی ہوئی ،ابتدا میں لقیط کا پلہ بھاری تھا، لیکن عبد القیس اور دوسرے قبائل کی طرف سے کمک پہنچی تو جنگ کا پانسا پلٹ گیا ،غنیم کے ۱۰ ہزار آدمی مارے گئے،بہت سے قید ہوئے اور کثیر ما ل غنیمت ہاتھ آیا۔
عکرمہ بھاری جمعیت لے کر مہرہ پہنچے ،وہاں دو حریفوں میں اقتدار کی کشمکش چل رہی تھی ۔انھوں نے کمزور فریق کو اسلام کی دعوت دی پھران نو مسلموں کو اپنے ساتھ ملاکر طاقت ور گروہ پر حملہ کر دیا۔ گھمسان کا رن پڑا اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔عکرمہ نے فتح کی خوش خبری اور خمس بھیجنے کے ساتھ حلیف جماعت کے سربراہ کو بھی ابو بکر کی خدمت میں مدینہ روانہ کیا۔ اب وہ ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے یمن کی طرف بڑھے۔
یمن کی بغاوت کا پہلا سبب وہاں کسی مرکزی حکومت کا موجود نہ ہونا تھا۔بازان کے بیٹے شہر اور دوسرے عمال میں منقسم حکومت مدعی نبوت اسو دعنسی کے جانشینوں کی سازشوں کے سامنے نہ ٹھہر سکتی تھی۔آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اٹھنے والی ارتداد کی لہر نے بھی اثر دکھایا ۔اس بغاوت کا دوسرا سبب نسلی تھا ،ابو بکر نے شہر بن بازان کے قتل کے بعد ایرانی النسل فیروز کو صنعا کا حاکم مقرر کیا، اس لیے عربی النسل قیس حمیری اس کا مخالف ہو گیا۔دوسری طرف مدینہ سے یمن کو جانے والے راستے پر آبادعک اور اشعر قبائل نے مسلمانوں کے لیے یہ راستہ مسدود کر دیا تھا۔ طائف کے حاکم طاہر بن ابو ہالہ نے ابو بکر کی اجازت سے ان قبائل سے ایک خوں ریز جنگ کے بعد اس طریق الاخابث کو مسلمانوں کے لیے وا کردیا۔ قیس نے یمن میں مقیم ایرانی نسل کے باشندوں کے خلاف جنھیں انبا کہا جاتا تھاعرب قبائل کو ابھارا۔ ذو الکلاع حمیری نے اس کاساتھ نہ دیا تو اس نے اسود عنسی کے قتل میں شامل باقی عرب سرداروں سے رابطے کیے ا ور انتہائی خفیہ طور پرفوج ترتیب دے کر صنعا پر حملہ کر ادیا۔خودوہ صنعا میں رہا ،اس نے فیروزاور اس کے دو ساتھیوں داذویہ اور جشنس کو قتل کے ارادے سے اپنے گھر بلایا،داذویہ کے قتل میں وہ کامیاب ہوگیا، لیکن فیروز اورجشنس بھاگ نکلے ۔فیروز کے جانے کے بعد حکومت اس کے ہاتھ آ گئی۔اس نے اپنے مطیع ہوجانے والے انباکو کچھ نہ کہا، لیکن باقیوں کو عدن کی بندر گاہ یا خشکی کے راستے واپس خلیج فارس بھیج دیا۔اقتدار سے محروم ہونے کے بعد فیروز نے اسلام پر قائم قبیلوں کو ساتھ ملا کر صنعا پر کامیاب حملہ کیااورخلیفۂ اول کی طرف سے اپنی امارت پھر سنبھال لی۔ دارالحکومت سے باہر یمن ابھی پر سکون نہ ہوا تھا۔بغاوت یمن کی تیسری وجہ یمن و حجاز کا دیرینہ عناد تھا۔ اسے زبید قبیلے کے عمرو بن معدی کرب نے خوب انگیخت کیا جو شاعر ہونے کے ساتھ جنگجو بھی تھا۔اس نے قیس بن عبد یغوث کو اپنے ساتھ ملا لیا اور نجران کے عیسائیوں کے سو اتمام قبائل کو آماد�ۂ بغاوت کر لیا۔ اس اثنا میں عکرمہ یمن پہنچ چکے تھے ،دوسری طرف سے مہاجر بن امیہ ابوبکر کا عطا کردہ علم تھامے پہنچ گئے،وہ مکہ ،طائف اور نجران سے سینکڑوں جنگی لیاقت رکھنے والے افراد کو ساتھ لائے تھے ۔ادھر سے فروہ بن مسیک ان سے مل گئے۔ اﷲ کی مدد ایسی آئی کہ قیس اور عمرو میں پھوٹ پڑ گئی اور عمرو مسلمانوں کے ساتھ آ ملے ۔انھوں نے قیس کو پکڑ کر مہاجر کے سامنے پیش کر دیا،مہاجر نے دونوں کو گرفتار کر کے ابو بکر کی خدمت میں بھیج دیا ۔ابوبکر نے داذویہ کے قصاص میں قیس کو قتل کرنا چاہا، لیکن کوئی شہادت نہ ملی ،جبکہ عمرو نے مملکت اسلامیہ کا نیک شہری بن کر زندگی گزارنے کا وعدہ کیا تو دونوں چھوٹ کر اپنے قبیلوں میں واپس پہنچ گئے ۔ عمرونے مسلمان ہونے کے بعد اسلام کے لیے قابل قدر خدمات سر انجام دیں۔ابوبکر نے اقتدار کی کشمکش میںیمنی عربوں کے مقابلے میں ایرانی نسل کے فیروز اور شہر کو اس لیے ترجیح دی کہ وہ قبول اسلام میں سبقت کرنے والے تھے مزید یہ کہ شہر بن بازان خود رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے تقرری حاصل کر چکے تھے۔
اسود عنسی نے دعواے نبوت کیا تو کندہ کے لوگوں نے اس کا ساتھ دیا۔اسی دوران میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو ارتداد کے شعلے بھڑک اٹھے ۔آپ کے مقرر کردہ کندہ کے عامل زیاد بن لبیدنے اس فتنے کو فرو کرنے کے لیے مسلما ن قبائل کو ساتھ ملایا اور قبیلۂ عمرو بن ربیعہ پر حملہ کر دیا ۔انھوں نے مردوں کو قتل کرنے کے بعدعورتوں کو قیدی بنا لیا ۔ واپسی میں وہ کندہ کے رئیس اشعث بن قیس کے قبیلے کے پاس سے گزرے تو عورتوں نے اشعث کو دہائی د ی،تیری خالاؤں کی عزتیں خطرے میں ہیں۔باجودیکہ اشعث آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر چکا تھا اور ابو بکر کی بہن ا م فروہ سے اس کی منگنی ہو چکی تھی،اس موقع پر اس کی قبائلی عصبیت بیدار ہو گئی۔اس نے اپنی قوم کو بھڑکا کر زیاد کی فوج پر ہلا بول دیا اور اپنی عورتوں کو چھڑا لیا۔جب اس نے کندہ اور حضرموت میں بغاوت کی آگ بھڑکانی شروع کی تو صنعا سے مہاجر اور عدن سے عکرمہ زیاد کی مدد کو پہنچ گئے۔ اشعث کو شکست ہوئی تو وہ بھاگ کر قلعۂ نجیر میں بند ہو گیا۔قلعے کے تین رستوں پر یہ تینوں مسلمان جرنیل بیٹھ گئے تو قلعہ کی رسدمکمل بند ہو گئی۔بالآخر۶ سو قلعہ بند اپنے پیشانی کے بال کاٹ کر قلعے سے نکلے اور مسلمانوں سے لڑنے کی کوشش کی، لیکن بھاری اسلامی فوج کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔تب اشعث کو اپنی جان بچانے کی سوجھی ،اس نے اپنے ۹ اہل خانہ کی جاں بخشی کے بدلے قلعے کے دروازے کھول دیے،اپنا نام لکھنا وہ بھول گیا ۔مسلمانوں نے اندر داخل ہو کرلڑائی میں حصہ لینے والے ہر شخص کو قتل کر دیااور ایک ہزار کے لگ بھگ عورتوں کو قیدی بنا لیا۔ مال خمس اور قیدیوں کے ساتھ اشعث مدینے پہنچا تو ابو بکر نے اس کو قتل کرنا چاہا،اس نے اسلام پر قائم رہنے کا وعدہ کیا تو اس کی جان بچی اور ابو بکر کی بہن اس کے ساتھ رخصت ہو گئیں۔۱۲ھ (۶۳۳ء) میں ردہ کی تحریک دبا دی گئی،صرف ربیعہ بن بجیرسے جنگ ۱۳ھ میں ہوئی۔
ظہور اسلام سے قبل عرب تجارتی اغراض سے ایران ،عراق اور شام جاتے رہتے تھے۔ان میں بہت سے نقل مکانی کر کے ان ممالک کے سرحدی اور صحرائی علاقوں میں بس چکے تھے۔ان میں سے شام میں مقیم ر ومیوں میں گھل مل گئے، جبکہ عراق کی سرحدوں پر بسنے والے الگ تھلگ رہے ۔ ایران میں خانہ جنگی اور طوائف الملوکی شروع ہوئی تو لخمی آگے بڑھے اور انھوں نے دریاے فرات کے کنارے انبار اورحیرہ کے شہر آباد کر کے مملکت حیرہ کی بنیاد رکھی، اس مملکت میں وہ عرب بھی آباد ہوئے جو بخت نصر قیدی بنا کر عراق لایا تھا ۔ تیسری صدی کے وسط میں جذیمۃالابرش نے حیرہ سے عین التمر اور صحراے شام تک کے علاقے پر قبضہ کر کے خود مختار حکومت قائم کر لی۔ شام کی سرحد پرآباد عرب قبیلے غسان کی سلطنت قائم تھی،چھٹی صدی میں اسے عروج حاصل ہوا۔ کہا جا سکتا ہے کہ عرب کی حدود جنوب میں خلیج فارس اور خلیج عدن تک اور شمال میں موصل اورآرمینیا تک پھیلی ہوئی تھیں ۔ عراق و شام ایران و روم کی کشمکش میں پس رہے تھے،کبھی ایرانی ان پر غالب آ جاتے کبھی رومی ۔ان دونوں بڑی طاقتوں (Super Powers)نے اپنی اپنی سرحدوں پر آباد عرب صحرا نشینوں کو ڈھال(Buffer Zone)کے طور پر استعمال کیا تاکہ ان کا باہم جنگ و جدال ختم ہو۔ بعثت نبوی کے وقت بھی ان کی لڑائیاں جاری تھیں۔آپ نے محسوس فرما لیا تھا کہ عرب قبائل میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب قبائل حلقۂ اسلام میں آجائیں، اس لیے آپ نے شام کو جانے والی شاہراہ پر لشکر کشی کی۔اسی نکتے پر ابو بکر نے عمل کیااور وہ اسامہ کا لشکر بھیجنے پر مصر رہے۔خلافت ابو بکر کا پہلا سال مرتدین سے نمٹنے میں گزرا جب وہ اس میں کامیاب ہوئے توان بڑی طاقتوں (Super Powers)کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی پہلی توجہ روم پر تھی، کیونکہ روم پر حملے کاآغاز خود نبی صلی اﷲ علیہ وسلم غزوۂ تبوک میں شرکت کر کے فرما چکے تھے پھر ایران کی مسافت کچھ زیادہ تھی اور ایران سے ملحقہ قبائل میں ارتداد کا فتنہ ابھی ابھی فرو ہوا تھا۔ وہ اسی سوچ میں تھے کہ بکر بن وائل کے مثنیٰ بن حارثہ شیبانی جو علا بن حضرمی کے ساتھ مل کر مرتدین سے جنگ کر چکے تھے ،چند افراد کے ساتھ عراق پہنچے اوروہاں آباد عربوں کو ایران کی غلامی چھوڑ کر اسلامی حکومت کی حمایت کرنے پر آمادہ کیا ۔پھر وہ مدینہ آئے اور ابوبکر کو اطمینان دلایاکہ شام کے بجائے عراق کو فتح کرنا سہل تر ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی حکام وہاں کے کسانوں کی ساری فصل لو ٹ کر لے جاتے ہیں، اس لیے وہ ان کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ابو بکر فوج کشی پرتیار ہوگئے، لیکن انھوں نے مدینہ کے اہل رائے سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا۔ شوریٰ کے فیصلے کے مطابق خالد بن ولید کویمامہ سے بلایا گیا اور اس بارے میں ان کی رائے طلب کی گئی ۔انھوں نے تر ت مشورہ دیا کہ اگر مثنیٰ کے پلان کے مطابق فوراً ایران میں پیش قدمی نہ کی گئی تو الٹا ایرانی بحرین اور ملحقہ علاقوں پر تسلط جمانے کی کوشش کر کے اسلامی خلافت کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔چنانچہ ابو بکر نے مثنیٰ کو عرب قبائل سے رابطے کرنے کے لیے واپس بھیجنے اور مدینہ سے جلد اسلامی لشکر بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔کچھ دوسری روایات کے مطابق مثنیٰ مدینہ آئے نہ عراق پریورش کی پیش بندی ہوئی، بلکہ مثنیٰ اکیلے ہی لشکر لے کرعراق میں گھس گئے اور جب ہرمز کی فوجوں سے ان کا سامنا ہوا تو ابو بکر نے خالد بن ولیداورعیا ض بن غنم کو ان کی مدد کے لیے بھیجا۔انھوں نے غریب کاشت کاروں سے اچھا سلوک کرنے کی بطور خاص ہدایت کی ۔ خالد کے ساتھ صرف ۲ ہزار سپاہی تھے ،ان کے بیش تر ساتھی یمامہ کی جنگ میں کام آ چکے تھے ۔انھوں نے دار الخلافہ سے کمک مانگی تو ابو بکر نے فرد واحد قعقاع بن عمرو تمیمی کو بھیج دیا اور کہا: ’’جس لشکر میں قعقاع شامل ہو، وہ شکست نہیں کھا سکتا ۔‘‘ انھوں نے ان مقامی افراد کو بھرتی کرنے کا حکم بھی بھیجا جو مرتد نہیں ہوئے اور مرتدین کے خلاف جنگوں میں شریک رہے۔خالد نے مضر اور ربیعہ کے قبیلوں سے۸ ہزار مسلمان اپنے لشکر میں شامل کیے اور عراق روانہ ہوئے، مثنیٰ کے ساتھ ۲ ہزار افراد پہلے سے تھے ۔ خالد نے ہرمز پر حملہ کرنے سے پہلے وہاں کی حکومت ایران کے مقرر کردہ حاکم ہرمز کو خط لکھا: ’’اسلام قبول کرلو یا ذمی بن کر اسلامی سلطنت میں شامل ہو جاؤ۔ ‘‘پھر انھو ں نے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا اورہر حصے کوا لگ راستے سے حفیر پہنچنے کی ہدایت کی۔ادھر ہرمز تیزی سے اپنی فوج لے کر حفیر پہنچااور پانی پر ڈیرے ڈال دیے ۔ فوجیں آمنے سامنے آئیں تو ہرمز نے خالد کو دوبدو مقابلے کے لیے للکارا،جب وہ آگے پہنچے تو ایک دستے نے ان پر حملہ کردیا، لیکن قعقاع نے بر وقت کارروائی کر کے خالد کوبچا لیا ۔ اسی دور ان میں خالد ہر مز کی گردن اڑا چکے تھے ،سپہ سالار کی موت سے ایرانیوں کی ہمت جواب دے گئی اور وہ جم کر مقابلہ نہ کر سکے ۔کثیر مال غنیمت کا پانچواں حصہ ،ہرمز کی ایک لاکھ درہم مالیت کی ٹوپی اورایک ہاتھی خلیفۂ اول کی خدمت میں مدینہ بھیجے گئے۔ اس جنگ کاظمہ میں ایک ایرانی شہزادی کا قلعہ بھی فتح ہوا۔
مطالعۂ مزید: الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)،الصدیق ابو بکر (محمد حسین ہیکل) ،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (پنجاب یونیورسٹی)

ُٖٖٖیہ ۱۲ہجری، ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی خلافت کا دوسرا سال ہے ۔مثنیٰ تیزی سے شکست خوردہ ایرانیوں کا تعاقب کر رہے تھے،اسی دوران میں انھیں اطلاع ملی کہ ایرانی بادشاہ اردشیر نے قارن بن قریانس کی قیادت میں ایک بڑا لشکر ترتیب دیا ہے جو ان کے مقابلے کے لیے مدائن سے آ رہا ہے ۔ اس لشکر نے مذار کے مقام پر پڑاؤ ڈالا،مثنیٰ بھی اپنی قلیل فوج کے ساتھ اس کے قریب مقیم ہو گئے اور خالد کو خط لکھ کرحالات سے مطلع کیا۔خالد اس اندیشے سے کہ قارن مثنیٰ کی مختصر فوج کو تباہ نہ کر دے، تیزی سے سفر کرتے ہوئے مذار پہنچے ۔کاظمہ سے بھاگے ہوئے جرنیل قباذ اور انوشجان اپنی ذلت کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔خالد نے دشمن کو پہل کرنے کا موقع نہ دیا،لڑائی شروع ہوئی تومسلمان دلیری سے لڑے۔ ایرانی سپاہ کے تینوں جرنیل باری باری قتل ہو گئے،ان کے۳۰ ہزار سپاہی مارے گئے۔بے شمار ایرانی کشتیوں پر سوار ہو کر بھاگ گئے اور بہت سوں کو قید کر لیا گیا ،ان میں حسن بصری کے والد بھی تھے۔خالد نے مال غنیمت کا پانچواں حصہ سعید بن نعمان کودے کر ابو بکر کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا اور مقامی آبادی پر جزیہ عائد کر دیا۔
ادھرشاہ ایران ارد شیر نے دجلہ و فرات کے کنارے عراق کی سرحد پر بسنے والے عرب قبائل اور عیسائی قبیلے بکربن وائل کی فوج ترتیب دی اور اسے ولجہ روانہ کر دیا،بہمن جاذویہ کی سربراہی میں ایک بڑاایرانی لشکر اس کے ساتھ تھا ۔ خالد بھی مقابلے کے لیے پہنچ گئے،صفر ۱۲ھ میں ولجہ میں دونوں لشکر وں کا سامنا ہوا۔لڑائی طول پکڑ گئی تو خالد نے دو دستوں کو ایرانی لشکر کے عقب میں چھپ جانے کا حکم دیا،انھوں نے عقب سے کارروائی کی توایرانی گھیرے میں آ گئے اور بازی مسلمانوں کے ہاتھ رہی۔اب عراق کے عربی النسل عیسائیوں کی باری تھی ،وہ الیس کے مقام پر اکٹھے ہوئے۔ خالد بھی اپنا لشکر لے کرپہنچے اور عیسائیوں کو تیاری کا موقع دیے بغیر جنگ شروع کر دی۔ ان کا سالار مالک بن قیس مارا گیا، لیکن ایرانی جرنیل جابان کے دلیری دلانے پر وہ ڈٹ گئے۔انھیں بہمن جاذویہ کی کمک کی امید تھی جو نہ پہنچی ،انجام کار یہ لشکر بھی شکست سے دو چار ہوا۔ خالد نے بھاگنے والوں کو گرفتار کرنے اور مزاحمت کرنے والوں کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا ۔انھوں نے ایرانی اور عیسائی فوج کی مدد کرنے والے قریبی شہر منیشیا(امغیشیا) کو بھی فتح کیا ،یہاں سے کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ہر سوار کو الیس میں ملنے والے حصے کے علاوہ ۱۵۰۰ درہم دیے گئے۔اس کے بعد خالد نے خمس اور قیدی مدینہ روانہ کیے ،ابو بکر نے جنگ کے واقعات سن کر فرمایا: 146146عورتیں اب خالدجیسا بیٹا جنم نہیں دے سکتیں۔145145 بیمار شاہ اردشیر شکست کے صدمے کی تاب نہ لا سکا اور چل بسا۔
اب خالد نے حیرہ کا قصد کیا جہاں ازاذبہ حکمران تھا۔اس نے اندازہ لگا لیا کہ اسلامی فوجیں دریا میں سفر کرتے ہوئے حیرہ پہنچیں گی، اس لیے اپنے بیٹے کو دریا پر بند باندھنے کے لیے بھیج دیا ۔ خالد منیشیا (امغیشیا)سے روانہ ہوئے تھے کہ ان کی کشتیاں پانی کم ہو جانے کی وجہ سے دریا میں پھنس گئیں ۔جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ ایرانیوں کا کام ہے تو انھوں نے کشتیوں کو وہیں چھوڑا اور خود ایک دستہ لے کر دریا کے دہانے کی طرف بڑھے ۔ وہاں از اذبہ کا لڑکا دریاکے پانی کا رخ پھیرنے کی نگرانی کر رہا تھا ،انھوں نے فوراً حملہ کر کے اسے اور اس کی فوج کو قتل کر ڈالا اور خود وہاں رک کر دریا کا پانی جاری کرایا۔اب کشتیاں سفر کر کے خورنق پہنچیں، ازاذبہ خوف زدہ ہو کر بھاگ چکا تھا، خالد نے خورنق اور نجف پر قبضہ کر لیا۔ اپنے حکمران کے برعکس اہل حیرہ نے مزاحمت کا رستہ اختیار کیا،وہ شہر کے چار قلعوں میں محصور ہو گئے اور مسلمانوں پر سنگ باری شروع کر دی ۔جب ان پر جوابی تیروں کی بوچھاڑ ہوئی اور ان کے بے شمار افراد مارے گئے تو وہ گھبرائے اورخالد کی طرف سے عائد کردہ ایک لاکھ نوے ہزار درہم سالانہ جزیہ دینے کی شرط مان کر صلح کرلی۔ یہ ربیع الاول ۱۲ھ کا واقعہ ہے۔ خالد کے اصرار پر بھی عراق میں رہنے والے عرب عیسائیوں نے اسلام قبول نہ کیا۔ اہل حیرہ نے جزیے کے علاوہ کچھ تحفے بھی دیے جو خالد بن ولیدنے مال غنیمت کے ساتھ ابو بکر کی خدمت میں بھیج دیے۔ انھوں نے خالد کو ہدایت کی کہ تحائف کی قیمت جزیہ میں شامل کر کے بچنے والی رقم اہل حیرہ کو واپس کر دی جائے۔خالد نے حیرہ کو مسلمانوں کی چھاؤنی اور مفتوحہ علاقے کا دار الخلافہ بنایا،نظم و نسق، البتہ مقامی سرداروں کے پاس رہنے دیا۔
کچھ امن ہوا تو آس پاس کے سردارا سلامی حکومت سے صلح پر آمادہ ہوئے۔ پادری صلوبا بن نسطونا نے فرات کے کنارے کی بستیوں بانقیا اور بسماکا ۱۰ ہزار سالانہ لگان دینے کی ذمہ داری لی۔فلالیج سے ہرمز دجرد تک کے علاقے کے لیے ۲۰ لاکھ درہم پر مصالحت ہوئی۔خالد نے ان علاقوں میں امرا اور فوجی دستے مقرر کیے۔وہ ایک سال تک حیرہ میں مقیم رہے، یہ ان کی بے کاری کا زمانہ تھا، کیونکہ ابو بکرکا حکم تھا جب تک عیاض بن غنم دومۃ الجندل کی مہم سے فارغ نہ ہو جائیں، وہ حیرہ نہ چھوڑیں ۔خالد بار بار کف افسوس ملتے ،اس وقت ایرانی حکومت کمزور ہے اور یہ فتح ایران کا بہترین موقع ہے،اگر خلیفہ کا حکم نہ ہوتا تو ہم یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہ رہتے۔ تنگ آکر انھوں نے ایرانی عمال اورشاہی نمایندوں کو خط لکھے: 146146اسلام قبول کر لو یا جزیہ ادا کرو۔145145 اسی اثنا میں ایرانی فوج حیرہ کے قریب انبار اور عین التمر میں اکٹھی ہو گئی،اب خالد نے کارروائی کی ٹھانی۔ انھوں نے قعقاع بن عمرو کو حیرہ چھوڑا اور انبار روانہ ہو گئے۔شہر کی مضبوط فصیل اور اس کے گرد کھدی ہوئی گہری خندق کے باعث محافظ فوج پر تیر اندازی کار گر نہ ہوئی۔خالدنے شہر کے گرد چکر لگایا ،ایک مقام پر جہاں خندق کی چوڑائی کم تھی، انھوں نے بیمار اور ناکارہ اونٹ ذبح کر اکراس میں ڈلوا دیے، یوں راستہ پٹ گیا ۔خالد کی کمان میں ایک دستہ خندق کے پار ہوا اور فصیل پھاند کرشہر کا دروازہ کھول دیا۔ایرانی فوج کے سپہ سالار شیر زاد نے گھبرا کر جان بخشی کی درخواست کی اور انبار مسلمانوں کے حوالے کر کے شہر سے نکل گیا۔ خالد نے زبرقان بن بدر کو یہاں کا والی مقرر کیا اور عین التمر پہنچ گئے، جہاں ایرانیوں کی بھاری فوج کے ساتھ بنو تغلب ،نمر اور ایاد کے قبائل جمع تھے۔عقہ بن ابو عقہ نے ایرانی حاکم مہران سے کہا: عربوں سے عرب ہی لڑ سکتے ہیں، اس لیے ہمیں مسلمانوں سے نبٹنے دو۔ مہران نے یہ سوچ کر عرب بدووں کو آگے کر دیا کہ ایرانی دوسری دفاعی لائن بن جائیں گے۔ ابھی لڑائی شروع ہوئی تھی کہ مسلمانوں نے کمند پھینک کر عقہ کو گرفتار کر لیا،اس کی بدو فوج بھاگ نکلی ۔مہران نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ بھی قلعہ چھوڑ کر بھاگ لیا۔باقی فوج اور بدو قلعہ بندہو گئے،کچھ دن محاصرے کے بعد وہ غیر مشروط صلح پر آمادہ ہو گئے جس کے بعد عقہ کی گردن اڑا دی گئی۔ان دونوں شہروں کی فتح کے بعد خالد نے ولیدبن عقبہ کو خمس اور فتح کی خوش خبری کے ساتھ مدینہ بھیجا۔انھوں نے ان حالات کی وضاحت کی جن کی وجہ سے انھیں خلیفۂ اول کے احکامات کو نظر انداز کرنا پڑا۔ابو بکر خود بھی عیاض کی سست روی سے تنگ آ چکے تھے چنانچہ انھوں نے ولید کو دومۃ الجندل جا کر عیاض کی مدد کرنے کو کہا۔
عیاض دومۃ الجندل کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو شہر والوں نے ان کا راستہ مسدود کیا ہوا تھا،اس طرح دونوں فریق ایسی جنگ میں پھنس چکے تھے جس کا فیصلہ ہوتا نظر نہ آ رہا تھا۔ ولید نے عیاض کو خالد سے مدد لینے کا مشورہ دیا، چنانچہ انھوں نے جب خط لکھ کرخالد سے مدد چاہی تو وہ فوراً دومۃ الجندل آنے کے لیے تیار ہو گئے۔ خالدعین التمر سے چلے تو شام اور نفود کے لق ودق صحرا ان کے راستے میں پڑے، لیکن۳۰۰ میل کا یہ فاصلہ وہ ۱۰ روز سے پہلے طے کر گئے۔ دومۃ الجندل کی فوج دو حصوں میں منقسم تھی ، ایک کا سربراہ وہاں کا حاکم اکیدر بن عبد الملک اور دوسرے کا جودی بن ربیعہ تھا۔ اکیدر غزوۂ تبوک اور ردہ کی تحریک کے دوران میں خالد کی حربی صلاحیتوں سے خوب واقف ہو چکا تھا،اس لیے وہ مقابلے سے الگ ہو گیا ،اسے گرفتار کر کے مدینہ بھیج دیا گیا۔بے شمار قبائل دومۃ الجندل والوں کی مدد کو آئے ہوئے تھے ،شہر کا قلعہ پر ہو گیا توعرب عیسائیوں نے قلعہ سے باہر ڈیرے ڈال دیے۔ لڑائی شروع ہوئی تو خالد نے جودی اور اقرع بن حابس نے ودیعہ کو پکڑ لیا،ان سالاروں کی فوج قلعے کو بھاگی ،وہاں پہلے ہی گنجایش نہ تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اتنے آدمی قتل ہوئے کہ قلعے کا دروازہ لاشوں سے پٹ گیا۔ پھر خالد نے دروازہ اکھڑوایا اور اندر مقیم باغیوں کی گردنیں اڑا دیں۔غلبہ مکمل ہونے کے بعد انھوں نے اقرع کو واپس انبار بھیج دیا اور خود دومۃ الجندل ٹھہر گئے۔ اس شہر کی فتح بڑی جغرافیائی اہمیت رکھتی تھی، کیونکہ یہیں سے عراق و شام کو راستے جاتے تھے۔ پیچھے حیرہ اور عراق والے آمادۂ بغاوت ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے خالد کو واپس جانا پڑا۔وہاں جا کر انھوں نے قعقاع تمیمی کو حصید کی طرف بھیجا جنھوں نے حصید کے ساتھ خنافس پر بھی قبضہ کر لیا۔
اب خالد اور ان کے جرنیلوں نے مصیخ (مضیح)کا رخ کیا ،تین اطراف سے ہذیل کی سوئی ہوئی فوج پر حملہ ہوا، تمام فوج ماری گئی، لیکن ہذیل بھاگ نکلا۔اس جنگ مصیخ(مضیح) میں اسلامی فوج کے ہاتھوں دو مسلمان عبداﷲ (عبدالعزیٰ) اور لبیدمارے گئے جو وہاں مقیم تھے۔ ابو بکر کو یہ اطلاع ملی تو ان کا خون بہا ادا کرنے کا حکم دیا۔عمر نے اصرار کیا کہ خالد کو اس غلطی کی سزا دی جائے، لیکن خلیفۂ اول نے فرمایا: دشمن کی سرزمین میں قیام پذیر مسلمانوں کے ساتھ یہ معاملہ ہو جانا ممکن ہے ۔ اس کے بعد خالد نے قعقاع اور ابو لیلیٰ کے ساتھ مل کرثنی کے مقام پر بنو تغلب پر اور زمیل کے مقام پر عتاب بن فلان پر سہ طرفی حملہ کیا ، ان کا کوئی مرد نہ بچ سکا، جبکہ عورتوں کو قید کر لیا گیا ۔
عراق و شام کی فتح ابو بکر کا منشا نہ تھا ،وہ سرحدوں کو ایرانی اور رومی حملہ آوروں سے محفوظ کرنا چاہتے تھے، لیکن جب خالد بن ولیدنے اپنی گزشتہ مہموں سے فارغ ہونے کے بعد دریاے فرات کے شمالی علاقوں میں پیش قدمی شروع کی اورشہر زیرکرتے ہوئے فراض پہنچ گئے تو شام کا راستہ کھل گیا۔انھیں فراض میں ایک ماہ قیام کرنا پڑا،اس دوران میں فرات کے پرے رومیوں نے ایرانی حکومت اور عرب قبائل تغلب ، ایاد اور نمر کی مدد سے ایک بڑا لشکر ترتیب دیا اور مسلمانوں کو پیغا م بھیجا،تم دریا عبور کرو گے یا ہم اسے پار کر کے تمھاری طرف آئیں؟ خالد نے انھیں اپنی طرف آنے کی دعوت دی اوراس سے پہلے لشکر کو خوب منظم کر لیا ۔لڑائی شروع ہوئی توانھوں نے دشمن کی فوج کو چاروں طرف سے گھیر کر اچانک حملہ کر دیا۔ تابڑ توڑ حملوں کی تاب نہ لاکرعیسائیوں اور ایرانیوں نے راہ فرار پکڑی۔مسلمانوں نے بھاگتی ہو ئی فوج کا تعاقب کیا،دشمن کے ایک لاکھ آدمی اس معرکے میں کام آئے۔ فراض میں مزید۱۰ روز ٹھہر نے کے بعد خالد نے فوج کو واپس حیرہ کوچ کرنے کا حکم دیا۔ یہ ذی قعد ۱۲ھ کا واقعہ ہے۔ حج کا موسم قریب آ چکا تھا ،خود انھوں نے یہیں سے بیت اﷲ جانے کا ارادہ کیا، لیکن اپنے سفر کو انتہائی خفیہ رکھا تاکہ ان کی غیر موجودگی میں ایرانی فوج کو اپنی شکست کا بدلہ لینے کا موقع نہ مل جائے۔خالد تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے واپس آئے اور اپنے لشکر کے پچھلے حصے (ساقہ) میں شامل ہو گئے۔ و اقدی اور بلاذری نے جنگ فراض کا سرے سے ذکر نہیں کیا۔
شام کی سرحد پر اسلامی فوج کے سپہ سالار خالد بن سعید تھے ،انھوں نے سیدنا ابوبکر کی ہدایت کے مطابق سرحدی قبائل کو ساتھ ملا کر مکمل دفاعی تیاریاں کر رکھی تھیں۔ ادھرقیصر روم ہرقل نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے جنگی تیاریاں شروع کر دیں،سرحدوں پر مقیم عرب قبائل بنو بکر ، بنو عذبرہ ،بنو عدوان اور بنو غسان نے اس کا ساتھ دیا۔ یہ سن ۱۳ھ تھا۔ خالد بن سعید نے مدینہ خط لکھ کر خلیفۂ اول سے حملے میں پہل کرنے کی اجازت چاہی۔ان کی فوج رومی افواج سے کہیں زیادہ کمزور تھی، اس لیے ابو بکر نے کبار مہاجرین و انصار پر مشتمل شوریٰ طلب کی اور شام کی طرف مزید فوجیں بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ عمر نے مکمل تائید کی، جبکہ عبدالرحمان بن عوف نے پوری قوت سے حملہ کرنے کی بجائے چھاپہ مار کارروائی کرنے کی تجویز پیش کی۔ عثمان نے ابو بکر کے فیصلے کی حمایت کی تو باقی اہل شوریٰ بھی متفق ہو گئے۔ مدینہ کے باشندے رومیوں کی سلطنت اور ان کی جنگی طاقت سے مرعوب تھے، لیکن جب وہ خلیفۃ المسلمین کی ترغیب پر جوق در جوق شام کو جانے والے لشکر میں شامل ہو گئے تو اہل یمن کو بھی شمولیت کی د عوت دی گئی۔ چنانچہ ذوالکلاع حمیری، قیس مرادی ،جندب دوسی اور حابس طائی اپنا اپنا دستہ لے کر مدینہ پہنچ گئے ۔اسی اثنا میں ابو بکر نے خالد بن سعید کو شام کی سرحد عبور کرنے کی اجازت دے دی، البتہ حملے میں پہل کرنے سے روکا۔ خالد بن سعید نے مختصر فوج اور بدوی قبائل کے ساتھ تیما سے شام کی حدود میں پیش قدمی شروع کی ۔ رومیوں نے غسانیوں اور دوسرے سرحدی قبائل کو اپنی پہلی دفاعی لائن بنایا ہوا تھا۔سرحدوں پر مقیم فوجی حواس باختہ ہو کر بھاگے ،خالد نے ان کا چھوڑا ہوا سامان قبضے میں لیا اور ابو بکر کو اطلاع دی ۔انھوں نے جواب بھیجا،آگے بڑھتے جاؤ، لیکن جب تک فوجیں نہ پہنچ جائیں خود حملہ کرنے سے پر ہیز کرو۔بحر مردار کے مشرقی ساحل پر واقع قسطل کے مقام پر ایک اور رومی لشکر سے ان کی مڈ بھیڑ ہوئی،وہ بھی شکست سے دوچار ہوا۔ قیصر کے خود آگے نہ آنے سے شامی عیسائیوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ انھیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، اس لیے وہ لڑائی سے کنارہ کش ہو گئے۔
سب سے پہلے ولید بن عقبہ خالد کی مدد کو پہنچے،عکرمہ بن ابو جہل حضرموت کی بغاوت سے فارغ ہو کر مدینہ پہنچے تھے،ابو بکر نے ان کی زیر قیادت ایک نیا لشکر 146146جیش بدال145145 مرتب کیااور اسے بھی شام روانہ کر دیا۔ خالد بن سعید دو بار فتح حاصل کرنے کے بعد حد سے زیادہ پر اعتماد ہو چکے تھے ،انھوں نے مزید کمک کاانتظار کیے بغیر رومی فوج پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا لیا ۔رومی سپہ سالار باہان تجربہ کار جنگجو تھا، اپنی فوج لے کر دمشق کو چل پڑا،خالد نے اس کا پیچھا کیا۔ مرج الصفر کے مقام پر وہ پلٹا اور مسلمانوں کا محاصرہ کر کے ان کی پشت کا راستہ کاٹ دیا۔اسی دوران میں ایک دستہ فوج سے الگ ہوگیا ، باہان نے حملہ کر کے سب افراد کو شہید کر دیا ۔خالد کا بیٹا سعید بھی ان میں شامل تھا ، بیٹے کی شہادت کی خبر سنی تو خالد نے ہمت ہار دی ،عکرمہ کو قیادت سپرد کرتے ہوئے وہ اور ولیدایسا فرار ہوئے کہ مدینے کے قریب ذو المروہ پہنچ کر دم لیا ۔ابو بکر نے ان کو مدینہ آنے سے منع کر دیا،البتہ ان کے ساتھ آئے ہوئے فوجیوں کو شرحبیل بن حسنہ اور معاویہ بن ابو سفیان کی قیادت میں واپس بھیج دیا۔خلیفۂ اول نے یزید بن ابو سفیان اور ابوعبیدہ بن الجراح کی سربراہی میں نئے لشکر بھی شام بھیجے۔جرف کے مقام پرسپاہیوں کو رخصت کرتے ہوئے انھوں نے ان کو خالص اﷲ کی خاطرجہاد میں حصہ لینے کی نصیحت کی۔راستے میں بدووں اور عیسائیوں کی جانب سے کچھ مزاحمت پیش آئی ۔ابو عبیدہ نے اہل بلقا کو زیر کرنے کے بعدصلح پر مجبور کیا ، یہ شام کے علاقے میں پہلی صلح تھی۔ابو عبیدہ نے دمشق کے راستے میں اورشرحبیل نے طبریہ کے قریب ایک سطح مرتفع میں پڑاؤ ڈالا،یزید نے بصرہ کا محاصرہ کیا اور عمرو بن عاص نے جبرون فتح کرنے کی ٹھانی۔قیصر روم ہرقل کو مسلمانوں کی فوج آنے کی خبر ہوئی تو اس نے ہر اسلامی لشکر کے لیے الگ فوج روانہ کی ۔اسلامی لشکر کی کل گنتی ۳۰ ہزار تھی اور یہ ۶ سے۸ ہزار تک کی ٹکڑیوں میں بٹا ہوا تھا، جبکہ رومی افواج کی کل تعداد ۲ لاکھ ۴۰ ہزار تھی۔ ۹۰ ہزار پر مشتمل سب سے بڑا لشکر ہرقل کے بھائی تیودوریک(تذارق) کی قیادت میں عمروبن عاص کی فوج کے خلاف صف آرا تھا،ابو عبیدہ کے مقابلے میں قیقار(قیقلان) بن نسطوس کا ۶۰ ہزار کا لشکر تھا ، یزید کے مقابلے کے لیے چرچہ بن تدرا( جرجہ بن توذر)، جبکہ شرحبیل کی طرف دراقص کو بھیجا گیا۔ عمرو بن عاص نے تجویز پیش کی کہ تمام اسلامی فوجیں یک جا ہو کر دشمن کا مقابلہ کریں اور سیدنا ابوبکر نے بھی یہی مشورہ بھیجا۔ چنانچہ چاروں اسلامی لشکر اکٹھے ہوئے اور دریاے یرموک کے بائیں کنارے پڑاؤ ڈال دیا ۔ادھر رومی فوجیں اکٹھی ہوکر دریا کے دائیں کنارے ایک وسیع میدان میں اتر یں جو تین اطراف سے اونچی پہاڑیوں سے گھرا ہوا تھا۔ باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا جس پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔ عمرو بن عاص چلائے، مسلمانو! خوش خبری ہو، محصور فوج شاذونادر بچتی ہے۔صفر، ربیع الاول اور ربیع الثانی ،تین ماہ گزر گئے ،رومی باہر آ سکے نہ مسلمان قلت تعداد کی وجہ سے میدان میں گھس سکے۔ابو بکر نے عمر ،علی اور دیگر اہل رائے سے مشورہ لیا،آخر کاراوائل ۱۳ ھ میں لشکر کی قیادت تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا، نگاہ خالد بن ولید پر پڑی۔خلیفۂ اول نے خالد کو خط لکھ کر پہلے تو خفیہ حج کرنے پر سرزنش کی، پھر یرموک پہنچنے کا حکم دیا ۔خالد عراق سے ہلنا نہ چاہتے تھے، کیونکہ ساسانی دار الخلافہ مدائن کو فتح کرنا ان کا مطمح نظر تھا،وہ بہت جز بز ہوئے اور اسے عیسر بن ام شملہ (عمر بن خطاب) کا مشورہ قرار دیا ۔ابو بکر نے نصف فوج مثنیٰ بن حارثہ کی قیادت میں عراق چھوڑنے کا حکم بھی دیاتھا۔ خالد بن ولید نے مثنیٰ کی منت سماجت کرکے جلیل القدر صحابہ اور نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں وفود کی صورت میں پیش ہونے والے اصحاب کو اپنے لشکر میں شامل کیا اور شام روانہ ہو گئے۔ راستے میں ایک لق ودق صحرا پڑتا تھا جس کے آس پاس رومیوں کے حمایتی عرب قبائل بستے تھے۔ انھوں نے وہ رستہ چھوڑا اور پہلے دومۃ الجندل پہنچے پھر وادئ سرحان کا رخ کیا ،راہ میں پڑنے والی قراقرکی بستی فتح کی۔ پھر رومیوں سے مڈ بھیڑ سے بچنے کے لیے انھوں نے فوج کا بڑا حصہ عام راستے سے بھیج دیا اور خودچند سو افراد ساتھ لے کر ایک پرخطر اوردشوار گزار راستے پر ہو لیے ۔رافع بن عمیرہ راہبر تھا،اس نے ہر شخص کو بہت سا پانی ساتھ رکھنے کو کہا۔ پھر بیس اونٹنیاں لیں، پیٹ بھر کر پانی پلانے کے بعد ان کے ہونٹ باندھ دیے۔پانچ دنوں کے سفر میں روزانہ چار اونٹنیاں ذبح کی جاتیں اور ان کے پیٹ سے پانی نکال کر گھوڑوں کو پلایا جاتا۔آخری روز ایک خاص قسم کی جھاڑی کے پاس زمین کھود کر چشمہ نکالا گیا اور لشکر سیر ہوا۔شام کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد خالد نے سویٰ اور تدمر کی بستیاں فتح کیں، قصم میں آباد بنو قضاعہ سے صلح کی ،مرج راہط میں غسانیوں کو گرفتار کیااور بصریٰ کو ابو عبیدہ، شرحبیل اور یزید کی فوجوں کے ساتھ مل کر فتح کیا ۔اب تمام فوجیں یرموک پر جمع ہو چکی تھیں،مزید کئی ہفتے گزر گئے، لیکن فوجوں میں حرکت نہ ہوئی۔ اسی اثنا میں ہرقل نے خالد بن سعید پر فتح پانے والے جرنیل باہان کو بھی یرموک بھیج دیا، اس کے ساتھ کئی پادری آئے تھے جو عیسائیت کے خاتمے کی دہائی دے کر رومی اور عرب عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے۔ ایک دن مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ کیل کانٹوں سے لیس رومی لشکر صبح ان پر حملہ کرنے والا ہے۔ مسلمان کمانڈروں کا اجلاس ہوا،ہر ایک نے اپنی تجاویز دیں۔ خالد بن ولید کی باری آئی تو انھوں نے کہا کہ ہم رومیوں پر کامیابی تبھی پا سکتے ہیں جب ایک کمان کے تحت متحد ہو کر لڑیں۔ان کے پاس تمام لشکر کی قیادت نہ تھی ، ابوبکر سے کہہ سکتے نہ از خود سپہ سالاری حاصل کر سکتے تھے، اس لیے سب جرنیلوں کو باری باری کمان سنبھالنے کا مشورہ دیا ۔پہلے د ن ان کی باری آئی۔ انھوں نے اسلامی لشکر کو ۳۸ دستوں میں تقسیم کیا،ہر دستہ کم و بیش ایک ہزار فوجیوں پر مشتمل تھا ۔قلب میں ابوعبیدہ بن الجراح کی قیادت میں ۱۸ دستے، میمنہ پر عمرو بن عاص کی کمان میں ۱۰ دستے اور میسرہ پر یزید بن ابو سفیان کی سربراہی میں ۱۰ دستے تھے۔ہراول دستے پرقباب بن اشیم مقرر تھے۔ابو الدردا کو قاض�ئ لشکر، عبداﷲ بن مسعود کو امیربند وبست اور ابو سفیان کو واعظ بنایاگیا۔ مذکورہ بالا بیان طبری کا ہے ،دوسری طرف بلاذری کہتے ہیں کہ ابوبکر نے خالد کو شام میں مقیم تمام اسلامی افواج کا سر براہ بنا کر بھیجا تھا۔یہ روایت قرین قیا س لگتی ہے، کیونکہ کوئی فوج بھی چار مختلف کمانوں کے ماتحت ہو کر جنگ نہیں لڑ سکتی ۔
خالد محض حربی صلاحیتوں میں طاق نہ تھے، سچے مومن بھی تھے۔ انھوں نے اس موقع پر تقریر کی: 146146فوجیں اﷲ کی مدد سے زیادہ ہوتی اور سپاہیوں کی بزدلی سے کم ہوتی ہیں۔مومنوں کے لیے اﷲ نے جنت کے دروازے کھول دیے ہیں۔145145 رومی ہراول دستے پر متعین جرنیل چرچہ نے خالد سے گفتگو کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ خالد لشکر سے باہر آئے اور اس کی بات سننے لگے ۔رومی فوجیوں نے سمجھا کہ چرچہ کو مدد کی ضرورت ہے ،انھوں نے زور آور حملہ کر دیا۔ مسلمان پیچھے کو ہٹنے لگے تو قلب کے کمانڈر عکرمہ کو جوش آیا ،انھوں نے ۴۰۰ بہادر شاہ سواروں سے موت کی بیعت لی اور رومی فوج پر حملہ کر دیا۔ رومی لڑکھڑا گئے ۔ اس موقع پر اﷲ کی نصرت غیر متوقع طریقے سے نازل ہوئی۔ چرچہ نے اسلام قبول کر لیا ، اپنا دستہ لے کر مسلمان فوج میں شامل ہو گیااور اسی روز جام شہادت نوش کیا ۔اب خالد بن ولید نے اپنی فوج کو آگے بڑھ کر حملہ کرنے کا حکم دیا ۔پیچھے واقوصہ کی ہول ناک گھاٹی اور گہری کھائیاں تھیں،ادھر سے مسلمان تیغ زنی کرر ہے تھے پھر بھی رومی جان توڑ کر لڑے ۔ان کی زد میں آنے والا کوئی مسلمان نہ بچا، تاہم سورج غروب ہوا تو ان میں ضعف کے آثار نظر آنے لگے۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی صورت حال دیکھ کر خالد نے ان کو نکلنے کا راستہ دے دیا تاکہ فوج کا کچھ حصہ نکل جائے اور وہ باقی دشمن پر کاری ضرب لگا سکیں ۔راستہ کھلا دیکھ کر رومیوں کے سوار سر پٹ گھوڑے دوڑاتے ہوئے فرار ہو گئے تو مسلمان پیدل دستوں پر ٹوٹ پڑے ، وہ خندقوں میں گھسے تو وہاں ان کا پیچھا کیاآخر کار واقوصہ کی گھاٹی کی با ری آئی ۔رومیوں نے میدا ن جنگ میں ثابت قدم رہنے کے لیے بیڑیاں باندھی ہوئی تھیں،وہ دھڑا دھڑ گھاٹی میں گرنے لگے۔ایک گرتا تو ساتھ بندھے ہوئے دس بھی گرجاتے۔اہل تاریخ کا بیان ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار رومی اس گھاٹی میں گرے ۔ رات بھرجنگ ہوتی رہی۔ ہرقل کا بھائی تیودریک اور سپہ سالار قیقار (قیقلان)، دونوں مارے گئے، جبکہ باہان نے بھاگ کر جان بچائی۔جنگ یرموک میں ۳ ہزار مسلمانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ عکرمہ بن ابو جہل اور ان کا بیٹا عمرو بھی شہدا میں شامل تھے۔
یرموک میں گھمسان کی جنگ جاری تھی کہ مدینہ سے ایک قاصد ابوبکر کی وفات کی خبر اور خلیفۂ ثانی عمر کا فرمان لایا جس کی روسے خالد بن ولید کو معزول کر دیا گیا اور ابو عبیدہ کو نیا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے اوپر بیان کردہ بلاذری کی روایت کی تائید ہوتی ہے ،اس لیے کہ اگر خالد بن ولید پوری اسلامی افواج کے سر براہ نہ تھے تو انھیں معزول کرنے کے کیا معنی؟ابن اسحاق نے جنگ یرموک سے پہلے اجنادین پر ہونے والے ایک اور معرکے کا ذکر کیا ہے جو جمادی الاولیٰ ۱۳ھ میں پیش آیا ،اس میں فتح کی بشارت سیدنا ابوبکر کو تب ملی جب وہ آخری سانسیں لے رہے تھے۔
خالد بن ولید عراق سے نکل آئے تو توقع کے مطابق عراقی بدووں اور ایرانی شہنشائیت نے جوشہر ایران (بازان) بن ارد شیر کی بادشاہی پر متفق ہو چکی تھی، اپنی اپنی شکستوں کا بدلہ لینے کی ٹھانی۔ہرمز جاذویہ۱۰ ہز ار فوج کی معیت میں ایک خوف ناک ہاتھی پر سوار ہوکر مثنیٰ بن حارثہ کے مقابلے کو آیا ۔ مثنیٰ نے گوارا نہ کیا کہ ہرمزجاذویہ ان سے مقابلہ کرنے حیرہ آئے ،وہ خود اپنی فوج لے کر مدائن سے ۵۰ میل ادھر بابل کے کھنڈروں میں پہنچ گئے ۔جاذویہ مسلمانوں کو ایران سے نکالنے کا ارادہ لے کرآیا تھا ۔ اس کا ہاتھی دیکھ کر مسلمان ہیبت زدہ ہو گئے تھے، اس لیے مثنیٰ نے سب سے پہلے اسی کو نشانہ بنایا۔ہاتھی مرنے کے بعد مسلم فوج نے نئے جوش سے ایرانی لشکر پر حملہ کیا ،انھیں شکست دی اور مدائن کے دروازوں تک بھگاتے ہوئے لے گئے۔ اس شکست کے صدمے سے شہنشاہ کو ایسا بخار چڑھا کہ اپنی جان دے دی۔ اس کے مرنے کے بعداس کی جا نشینی کے جھگڑے شروع ہوگئے۔مثنیٰ شاہی خاندان کی پھوٹ سے خوش تھے، انھوں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھاکر مدائن فتح کرنے کا اردہ کر لیا۔بہت سوچ بچار کے بعد انھوں نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کوخط لکھا، جس میں فتوحات کی خوش خبری دینے کے علاوہ ان سے ارتداد سے توبہ کرنے والے مسلمانوں کو اسلامی فوج میں شامل کرنے کی اجازت چاہی۔کافی عرصے تک خط کا جواب نہ آیاتو وہ خود مدینہ روانہ ہو گئے۔ابوبکر مرض الموت میں مبتلا تھے تاہم توجہ سے ان کی باتیں سنیں اور اپنے مقرر کردہ جانشین سیدنا عمر کو حکم دیا کہ کل کا دن ختم ہونے سے پہلے فوج مثنیٰ کے ساتھ روانہ کر دی جائے۔
مطالع�ۂ مزید:الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)،البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)،تاریخ الاسلام (ذہبی)، الصدیق ابوبکر (محمد حسین ہیکل) ،سیرت الصدیق۔ (حبیب الرحمان شروانی

جنگ یمامہ میں ۱۲۰۰ مسلمان شہید ہوئے ، ان میں سے ۳۹ صحابہ حفاظ قرآن تھے۔ ابھی ایران و روم کے ساتھ جنگوں کا سلسلہ جاری تھا، حضرت عمر نے یہ سوچ کر کہ کہیں زیادہ تعداد میں حفاظ شہید ہونے سے قرآن کا متن غیرمحفوظ نہ ہو جائے، ابوبکر کو مشورہ دیا، قرآن کو اکٹھاکر لیا جائے۔ ان کا جواب تھا: ’’تم ایک کام کیسے کرسکتے ہو جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ؟‘‘ عمر نے اس موضوع پر ابو بکر سے کئی بار گفتگو کی تو وہ قائل ہو گئے اور عمر کی رائے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔پھر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے آخری ایام میںآپ سے پورا قرآن سیکھنے والے صحابی زید بن ثابت کو بلا کر کہا: ’’تم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو وحی لکھ کر دیا کرتے تھے، اب ہر جگہ سے معلوم کر کے قرآن مجید جمع کرو۔‘‘ چنانچہ زیدنے کھجور کی چھالوں،چمڑے کے ٹکڑوں ،بکری کے شانے کی ہڈیوں اور سفید پتھر کے ٹکڑوں پر تحریر آیات اکٹھی کیں اور حفاظ سے رجوع کیا ۔ اس سعی کے بعد قرآن چمڑے پر یا اس زمانے کے کاغذ پر تحریر ہوکریکجا ہوا تو ابوبکر کے پاس رکھوا دیا گیا،ان کی وفات کے بعدیہ عمر کے پاس رہا پھر ام المومنین حفصہ بنت عمر کے پاس آ گیا۔ (بخاری، رقم۴۹۸۶)
ایسی روایات بھی موجود ہیں کہ جمع قرآن کا کارنامہ خلافت فاروقی میں انجام پایا، لیکن اگر بخاری کی اس روایت کو ترجیح دی جائے تو ممکن ہے کہ جمع قرآن کا بیش تر کام خلیفۂ اول کے زمانے میں ہوا ہو اور دوسرے خلیفۂ راشد کے عہد میں اسے اس مصحف کی حتمی شکل دی گئی ہو جوان کی شہادت کے بعد سیدہ حفصہ کے پاس آگیا۔ آج قرآن مجید جس ترتیب سے تلاوت کیا جاتاہے یہ وہی ترتیب ہے جو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کو تلقین فرمائی اور عہد صدیقی میں اس کی تدوین ہوئی۔ ابوبکر نے قرآن کی آیات اور سورتیں ترتیب دینے میں اپنی رائے سے کام نہ لیا جیسا کہ مستشرقین اور بعض مسلمان مورخین کاخیال ہے ۔ قرآن کی ترتیب تو توقیفی تھی، ابوبکر کے حکم سے محض اس کے متن کو اس طرح ضبط تحریر میں لایا گیا جس طرح نبی صلی اﷲ علیہ وسلم حفاظ صحابہ کو تلقین فرماتے تھے۔ خلیفۂ ثالث عثمان نے ابوبکر کے مصحف ہی کو سامنے رکھ کر متن میں قرأتوں کے اختلاف کو طے کیا،یوں یہ مصحف مصحف عثمانی کہلایا۔ ابو بکر نے جمع قرآن کا جو کارنامہ انجام دیا وہ ان کے ہمیشہ یاد کیے جانے والے کارناموں، مرتدین کی سرکوبی اور عراق و شام کی فتوحات سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے، اس لیے کہ آج جبکہ مملکت اسلامیہ پارہ پارہ ہو چکی ہے ،قرآن مجید جوں کا توں محفوظ ہے اور اپنے حق ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔
ابو بکر پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ملت اسلامیہ کے لیے اہم ترین مقام رکھتے تھے ۔یہ بات اس وقت کے کفار خوب جانتے تھے اور آج کے مسلمان اور منکر سبھی اس بات سے واقف ہیں۔ غزوۂ احد میں ابو سفیان نے میدان جنگ خالی دیکھا تو پہاڑی پر چڑھ کر پکارا،کیا محمد موجود ہیں؟ جب اسے جواب نہ ملا تو تین بار ابو بکر کا نام لیا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ دوسری پوزیشن انھی کی ہے ۔ابو بکر کی زندگی اخلاق محمدی سے آراستہ تھی ۔قارہ کے سردار ابن دغنہ نے قریش کے روبروابوبکر کی تعریف کرتے ہوئے کہاتھا: ’’ابوبکر فقیر و محتاج کو کما کر دیتے ہیں، صلۂ رحمی کرتے ہیں، محتاجوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہ حق میں آنے والی مصیبتوں میں مدد کرتے ہیں۔‘‘ (بخاری، رقم ۲۲۹۷) یہ قریباً وہی الفاظ ہیں جو سیدہ خدیجہ رضی ا ﷲ عنہانے رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمائے تھے، جب پہلی وحی نازل ہونے کے بعدآپ پر لرزہ طاری تھا۔یہ تفصیل تفضیل ابو بکر کی ایک بڑی دلیل ہے۔
خلافت ملنے کے بعد ابو بکرکپڑے کی کچھ چادریں پکڑ کر بازار جانے لگے ،راستے میں عمر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے؟ ابوبکر نے کہا: انھیں بیچنے بازارجا رہا ہوں ۔عمر نے کہا: آپ کے کاندھوں پر مسلمانوں کی ذمہ داری کا بوجھ ہے، آپ یہ کارو بار کیسے کر سکتے ہیں؟ سوال آیا: بال بچوں کو کہاں سے کھلاؤں؟ باہم مشورے سے دونوں بیت المال کے انچارج ابو عبیدہ کے پاس پہنچے۔ انھوں نے امیر المومنین کے لیے ۶ ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔یہ روایت بھی ہے کہ جب امور خلافت کے ساتھ کپڑے کا کاروبار سنبھالنا مشکل ہو گیاتو انھوں نے خود وظیفہ مقرر کر نے کی درخواست کی۔پورے زمانۂ خلافت میں سنح میں ابو بکر کا دیہاتی مکان جومحض ایک خیمے جتنا تھا اور بالوں سے بنا یا گیا تھا، جوں کا توں رہا۔وہ گھر جو مسجد نبوی اور ابو ایوب انصاری کے پڑوس میں تھا، اس میں بھی کوئی تبدیلی نہ آئی۔ خلافت کے پہلے چھ ماہ سنح سے پیدل مدینہ آتے رہے پھر وہ وسط مدینہ میں واقع مکان میں منتقل ہو گئے۔
ابو بکر ایسا کام سرے سے نہ کرتے جو رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہ کیا ہواور وہ عمل ہر گز نہ چھوڑتے جو آپ نے کیا ہو۔ قرآن وسنت ان کی حکومت کی بنیادتھے،قرآن میں رہنمائی ملتی نہ فرمان رسول ہوتا توصحابہ کے مجمع میں آکر دریافت کرتے اور ان کے اجماع پر کاربند ہو جاتے۔ آں حضرت کے بعد ان سے بڑھ کر اجتہاد کرنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ اﷲ کے سامنے جواب دہی کے شدید احساس نے ان کو جادۂ مستقیم سے ہٹنے نہ دیا ، کوئی قدم اٹھانے سے پہلے خوب مشورہ کرتے،اﷲ سے رہنمائی کی دعا مانگتے اور جب عزم پختہ ہو جاتا تو انھیں کو ئی تردد نہ ہوتا ۔انھیں ایک مسئلہ درپیش آیا جس کے بارے میں انھوں نے کتاب اﷲ میں اصل پائی نہ سنت رسول میں رہنمائی تو فرمایا: میں اپنی رائے اور سوجھ بوجھ کو کام میں لاؤں گا۔ اگر درست فیصلہ ہوا تو اﷲ کی جانب سے ہو گااور اگر غلط ہوا تو میری طرف سے ہوگا۔ میں اﷲ سے مغفرت مانگتا ہوں۔ انھوں نے کئی اجتہادات کیے جن میں سے دادا،دادی کی میراث،کلالہ کی تفسیر اورشراب خور کی حد اہم ترین ہیں۔
ایک شخص نے ابو بکر کو ’یا خلیفۃ اﷲ‘کہہ کر پکارا تو انھوں نے اسے منع کیا اورفرمایا: میں خلیفۃ اﷲ نہیں، بلکہ خلیفۃ رسول اﷲ ہوں۔ یہ جملہ ابوبکر کے دور حکومت کی صحیح تصویر کشی کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو رسول اﷲ کا خلیفہ اس معنی میں کہتے تھے کہ رسول اﷲ کی لائی ہوئی شریعت کے اوامر و نواہی کے نفاذ اور آپ کی امت کی قیادت کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر آن پڑی تھی۔ چنانچہ انھوں نے اس فرض سے عہدہ بر ا ہوتے ہوئے ملت اسلامیہ کو وحدت کی راہ پر گامزن کر دیا۔ اﷲ اور رسول کے احکام پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ یہ سلطنت اپنے شہریوں کی اجتماعی رائے کی پابند تھی۔ خلیفۃ اﷲ ہونے کا انکار کرنے کا مطلب تھا، قدیم ایران و مصر اور ہندوستان کی مشرکانہ تہذیبوں کے تصور حکمرانی کی نفی کر دی جائے جو بادشاہ کو خدائی نمائندہ سمجھتے تھے ۔بادشاہوں کی تقدیس اور ان کے حکم کو وحی و الہام سمجھنا ایسا تصور ہے جو یورپ میں سترھویں صدی عیسوی تک پایا گیا، لیکن ابو بکر نے صدر اسلام ہی میں اس کا خاتمہ کر دیا، کیونکہ دین توحید اس کی قطعاً گنجایش نہیں رکھتا ۔ عمر خلیفہ بنے تو انھوں نے اپنے لیے امیر المومنین کا لقب پسند کیا۔
خلیفۂ اول ابو بکر نے بیت الما ل کی ذمہ داری ابو عبیدہ بن جراح کو سونپی جنھیں آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے امین الامت کا لقب عطا فرمایا تھا۔منصب قضا پر عمر بن خطاب کو بٹھایا جن کا بے لاگ انصاف مشہور ہے، کاتب یا سیکریٹری جنرل نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے کاتب خاص زید کو مقرر کیا۔ ان عہدے داروں کے باقا عدہ دفتر تھے نہ متعین اوقات کار۔ ضرورت پیش آنے پر اپنا کام انجام دیا اورپھر دوسری طرف متوجہ ہو گئے ۔ابوبکر کی پالیسی تھی، رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کی تقرریوں کو بر قرار رکھا جائے، چنانچہ جب عمر نے مالک بن نویرہ کو قتل کر کے اس کی بیوہ سے میدان جنگ میں شادی رچانے پر خالد کو معزول کرنے کا پرزورمشورہ دیاتو انھوں نے ان کی جگہ کسی اور کو لانے سے انکار کر دیا۔ابو بکرکی مہر خلافت پر نعم القادراﷲ نقش تھا۔
مدینہ کے محصولات میں خمس بڑی مد تھی ،وہ اس مال کو حق داروں تک پہنچانے میں بہت جلدی کرتے۔ بیت المال پہلے ابو بکر کے سنح والے گھر میں تھا ،جب وہ مدینہ منتقل ہوئے تو یہ بھی مدینہ منتقل ہو گیا ۔ اس پر کوئی چوکیدار مقرر نہ تھا، کیونکہ وہ اس میں قابل ذکر مال موجود نہ رہنے دیتے تھے جس کی حفاظت کی ضرورت محسوس ہوتی۔ زیادہ سے زیادہ اس پر ایک قفل ڈال دیا جاتا۔ ابو بکرکی وفات کے بعدخلیفۂ ثانی عمر، عبدالرحمان بن عوف اور عثمان بن عفان کے ساتھ ان کے چھوڑے ہوئے بیت المال میں داخل ہوئے تو اسے بالکل خالی پایا ۔فقط ایک کپڑے کی تھیلی ملی جس میں ایک درہم پڑا ہوا تھا ۔
اپنی خلافت کے پہلے سال ابوبکر حج کرنے نہ گئے، انھوں نے عمر رضی ا ﷲ عنہ کوامیر حج بنا کر بھیجا ۔رجب ۱۲ھ میں انھوں نے عمرہ کیا،مکہ میں اپنے والد ابو قحافہ سے ملاقات کی جو اسلام لانے کے بعد وہیں مقیم ہو گئے تھے۔ پھر اسی سال (۱۲ھ) میں ابو بکر امیر المومنین کی حیثیت سے حج کرنے آئے ،دار الخلافہ میں ان کی غیرموجودگی کے وقت عثمان بن عفان نائب رہے۔اجل نے انھیں اپنی خلافت کا تیسرا حج ادا کرنے کا موقع نہ دیا۔یہ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کے خواب کے مطابق تھا جو آپ نے ابو بکر کو سنایا۔ فرمایا: ’’ اے ابوبکر، میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم دونوں سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں اور میں تم سے اڑھائی سیڑھیاں آگے نکل آیا ہوں۔‘‘انھوں نے جواب دیا،خیر ہو یا رسول اﷲ، اﷲ آپ کو سلامت رکھے یہاں تک کہ آپ وہ کچھ دیکھ لیں جو آپ کو خوش کرے اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائے۔ آپ نے تین دفعہ خواب دہرایا اور ابو بکر نے تینوں بار یہی جواب دیا ۔چوتھی دفعہ ابو بکر نے کہا: ’’یا رسول اﷲ، اﷲ آپ کو اپنی رحمت و مغفرت کی طرف اٹھا لے گا اور میں آپ کے بعد اڑھائی سال جیوں گا۔‘‘کچھ مورخین کاکہنا ہے کہ ابو بکر نے اپنی خلافت کے دوران میں حج نہیں کیا۔
ابو بکر کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ پہلی بیوی قتیلہ بنت عبدالعزیٰ سے عبداﷲ (وفات ۱۱ھ) اور اسماء (وفات ۷۴ھ)، دوسری بیوی ام رومان بنت عامرسے عبدالرحمان (وفات ۵۳ھ) اور عائشہ (وفات ۵۸ھ)، چوتھی بیوی اسماء بنت عمیس سے محمد(قتل کی تاریخ: ۳۸ھ) اور پانچویں بیوی حبیبہ سے ام کلثوم نے جنم لیا۔ ان کی بیویوں کو ان سے کوئی شکایت نہ ہوئی، البتہ نان و نفقے کی کمی ضرور رہی۔ اولاد کی حسن تربیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ عائشہ کو جو کم عمری میں بیاہ کر باپ کے گھر سے رخصت ہوئیں، بے شمار اشعار، ضرب الامثال اور خطبے زبانی یاد تھے۔ عربوں کے واقعات اور ان کی تاریخ پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ ان کی دوسری بیٹی اسماء ذات النطاقین گھرداری کی خوبیوں کا مرقع تھیں۔ باپ نے ان کی مشقت بھری زندگی دیکھی تو ایک خادمہ بھیج دی۔ اسماء کی عمر سو برس سے زیادہ تھی اور وہ نابینا ہوچکی تھیں جب حجاج نے ان کے بیٹے عبد اﷲ بن زبیر کومکہ میں محصور کر دیا۔ اس نے صلح کے بدلے گورنری اور ما ل و دولت دینے کی پیش کش کی ۔وہ بوڑھی ماں سے مشورہ کرنے آئے ، انھوں نے جگر تھام کر اپنے بیٹے کو جرات دلائی اور مصالحت سے منع کر دیا۔ ابو بکر کے بیٹے عبداﷲ اور عبدالرحمان شعر و ادب کا اچھا ذوق رکھتے تھے اور خود بھی شعر کہتے تھے۔ عبدالرحمان نے بدر و احد کی جنگوں میں مسلمانوں کے خلاف حصہ لیا اور بعد میں مسلمان ہوئے۔
ابوبکر زمانۂ جاہلیت میں بھی امانت دار تھے، لوگوں کی امانتوں کی حفاظت کرتے اورانھیں وقت پرادا کرتے پھر خلافت کی امانت کبریٰ کو خوب ادا کیا۔ خود فرماتے ہیں: ’’ہم نے مسلمانوں کے کھانے میں سے چونی بھوسی استعمال کی اور ان کے موٹے جھوٹے کپڑوں سے تن ڈھانکا۔‘‘ مکہ میں وہ ۴۰ ہزار درہم کے مالک تھے، اسلام کی راہ میں انفاق کرتے کرتے یہ رقم گھٹ کر ۵ہزاردرہم رہ گئی جب انھوں نے مدینہ ہجرت کی۔ ہجرت کے فوراً بعدسہیل و سعد کی زمین پر مسجد نبوی تعمیر ہوئی تو زمین کی قیمت ابو بکر نے اداکی۔ رفتہ رفتہ ان کا سب مال اﷲ کی راہ میں خرچ ہو گیا۔ ابوبکرپر کامل اعتماد ہونے کی وجہ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان کے مال کو بے تکلف اپنے مال کی طرح خرچ فرماتے تھے۔
سیدنا ابو بکر نے خلافت کی ذمہ داریاں انتہائی تقویٰ و امانت کے ساتھ اداکیں۔وہ کسی بھی درجے میں خیانت نہ کرناچاہتے تھے، احتیاط کا یہ عالم تھا کہ ان کی اہلیہ نے حلوہ کھانے کی فرمایش کی تو مسلمانوں کے بیت المال پر بوجھ ڈالنا منظور نہ کیا، بلکہ روزانہ ملنے والے وظیفے میں سے کچھ رقم پس انداز کی تب حلوہ لیا۔زہد و ور ع کا حال یہ کہ ایک روز درخت پرچڑیا دیکھی تو کہا: او پرندے، تیری زندگی کیا خوب ہے۔درخت کے پھل کھاتا ہے اور اس کے سایے میں وقت گزارتا ہے ۔حساب کتاب کا کچھ کھٹکا نہیں۔ کاش، ابوبکر تجھ جیسا ہوتا۔ایک دن نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے چند سوالات دریافت فرمائے: ’’آج روزہ کس نے رکھا ؟جنازے میں شرکت کس نے کی؟ محتاج کو کھانا کس نے کھلایا؟ بیمار کی تیمار داری کس نے کی؟‘‘ سب کے جواب میں ابو بکر ہی نے ہاں کہا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ اوصاف جس میں جمع ہو جائیں، جنتی ہے۔‘‘ خلیفہ بننے کے بعدابوبکر عمرہ کرنے گئے تو لوگ احتراماً ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ انھیں ہٹا کر کہا: اپنی اپنی راہ چلو ۔ابو بکراپنا کام خود کرتے ،اونٹ پر سواری کرتے ہوئے نکیل ہاتھ سے گرپڑتی تو خود اتر کر نکیل اٹھاتے۔ لوگوں نے کہا: ہم سے کیوں نہیں کہتے ؟جواب دیا: میرے محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم کا مجھ کو حکم ہے،انسان سے کچھ نہ مانگوں۔خلافت سنبھالنے سے پہلے وہ سنح سے مدینہ آ کر غریب عورتوں کی بکریاں دوہا کرتے، خلیفہ بنے تو ایک عورت نے کہا: آج ہمارے گھرمیں بکریاں دوہنے والا کوئی نہ رہا ۔ان کا جواب تھا: میں اب بھی تمھارے جانور دوہتا رہوں گا۔مدینہ کے کنارے پر ایک اندھی محتاج بڑھیا رہتی۔ سیدنا عمر اس ارادے سے جاتے کہ اس کی کچھ خدمت کریں۔ وہاں پہنچتے تو معلوم ہوتا ،کوئی آدمی خدمت کر کے جاچکا ہے۔ ایک روز وہ کھوج لگانے کے لیے چھپ کر کھڑے ہو گئے۔وقت مقررہ پر انھوں نے آنے والے شخص کودیکھا تو وہ ابوبکر تھے۔محلے میں نکلتے تو بچے بابا بابا کہہ کرابو بکر سے لپٹ جاتے ۔ایک سال سردیوں میں انھوں نے کمبل خریدکر مدینہ کے غربا میں بانٹے۔
ابو بکر اپنے گورنروں کی کارر وائیوں پر نگاہ رکھنے کے ساتھ رعایا کے حالات سے با خبر رہتے ۔مظلوم کی فوراً داد رسی کرتے۔ ان کی نصیحتوں میں ان کی طبعی خصوصیت صداقت کے ساتھ ان کی دانش جھلکتی ہے۔ ایک کمانڈر کو نصیحت کی کہ لوگوں کی پردہ دری نہ کرنا، بلکہ ان کے ظاہری حالات پر اکتفا کرنا۔جہاں فساد نظر آئے اس کی اصلاح کرنا۔ عکرمہ سے کہا کہ جب کچھ کرنے کا وعدہ کرو تو اسے کر گزرو۔کسی جرم کی سزا میں حد سے تجاوز نہ کرنا۔رعایا کو وعظ فرمایا: ’’سنو، اگر تم مجھ سے تقاضا کرو کہ میں اس طرح کام کر وں جس طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عمل فرماتے تھے تو میں نہ کر سکوں گا۔ آپ کو اﷲ نے وحی سے نوازکر معصوم بنایا تھا،میں تم سے بہتر انسان نہیں ہوں، لہٰذا مجھے کچھ چھوٹ اور رعایت دو۔اگر میں درست راہ پر چلوں تو میری پیروی کرواور اگر مجھے کج راہ ہوتے پاؤ تو سیدھا کر دو۔‘‘ عراق میں مجتمع فوجوں کو ابو بکر نے جو نصیحت کی اسے پڑھ کر ان کے پختہ ایمان کا پتا چلتا ہے۔تم اﷲ کے مددگار ہو،جو اﷲ کی مدد کرے، اﷲ اسے فتح دیتا ہے ۔ہزاروں کی جمعیت اگر معصیت کی راہ اختیار کر لے تو بے دست وپا ہو جاتی ہے، لہٰذا گناہوں سے خبردار رہو۔ ابوبکر خود مختصر گفتگو کرتے اور دوسروں کو بھی اختصار کلام کی ہدایت کرتے۔یزید بن ابو سفیان کو فرمایا: طویل کلامی بات ذہن سے محو کر دیتی ہے۔
ابو بکر کے چند جامع کلمات: موت سے محبت کرو، زندگی عطاکی جائے گی۔امانت سب سے بڑی سچائی ہے اور خیانت سب سے بڑا جھوٹ۔صبر نصف ایمان اور یقین پورا ایمان ہے۔تعزیت کے بعد مصیبت مصیبت نہیں رہتی۔ اگر کوئی نیکی رہ جائے تو اسے پانے کی کوشش کرواور جب پا لو تو آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ جس سے مشورہ چاہواس سے کچھ نہ چھپاؤ ورنہ اپنی قبر خود کھودو گے۔
حدود اﷲ کے باب میں ان کی احتیاط اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ فرمایا: اگر میں خود کسی کو خدا کی کوئی حد توڑتے ہوئے دیکھوں تو اس وقت تک سزا نہیں دے سکتا جب تک دوسرا گواہ نہ ہو۔ایک قائد کو وصیت کی کہ ان کا ظاہر قبول کرلو اور باطن ان پر چھوڑ دو ۔ایاس بن عبد یالیل فجاہ کے نام سے مشہور ہے ،ابو بکر کے پاس آیا اور مرتدوں سے مقابلے کے لیے اسلحہ مانگا۔اسے اسلحہ مل گیاتو اس نے ڈاکا زنی اور غارت گری کا پیشہ اختیار کر لیا ، پھر جب وہ گرفتار ہو کر خلیفۂ اول کے پاس لایا گیا تو آپ نے اسے بقیع کے مقام پر بھڑکتے ہوئے الاؤ میں جھونکنے کا حکم دیا ۔یہ واحد واقعہ ایسا ہے جسے ابو بکر کے بردباری ،تحمل اور دور اندیشی پر مبنی دور حکومت کے غیر موافق کہا جا سکتا ہے۔ مستشرقین نے اس واقعہ کو خوب اچھالا ہے، حالانکہ اس فیصلے کی بنیاد قرآن مجید میں پائی جاتی ہے: ’انما جزاؤا الذین یحاربون اﷲ ورسولہ و یسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیہم وارجلہم من خلاف او ینفوا من الارض‘ ’’جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ بری طرح قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھا دیے جائیں یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں یا انھیں مملکت سے جلا وطن کر دیا جائے۔‘‘ (المائدہ۵:۳۳) تقتیل میں جلانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اسلامی مملکت کا اسلحہ لے کر اسے مملکت ہی میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کرنے سے بڑا فساد کیا ہو سکتا تھا، لیکن ابو بکر نے اس ڈاکوکو دی جانے والی سزا کو اپنی فروگزاشت سمجھا۔ وہ اس واقعے پر افسوس کرتے رہے اور ایک بار کہا: کاش میں نے فجاہ سلمی کو جلانے کی بجائے قتل کر دیا یا زندہ چھوڑ دیاہوتا۔ عمرو بن عاص نے شام سے بنان کا سر کاٹ کر بھیجا تو ابو بکر نے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ آیندہ محض فتح کی اطلاع ارسال کی جائے،ہر گز کسی کا سر میرے پاس نہ بھیجا جائے۔
ابو بکر کا بدن دبلا اورقدرے آگے کو جھکا ہوا تھا۔پہلووں میں گوشت کم تھا جس کی وجہ سے تہ بند نیچے لٹک آتا۔ رنگ سفید، گال کمزور اور ڈاڑھی خشخشی تھی۔ پیشانی فراخ اور اونچی تھی، آنکھیں گہری اور روشن تھیں، بال گھنگریالے تھے۔ ابو بکر کی آواز دردناک تھی، وہ سنجیدہ اور کم گو تھے۔ بالوں کو مہندی اوروسمہ لگاتے جس سے ان کی ڈاڑھی گہری سرخ نظر آتی۔ یہ معمول انھوں نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعداپنایا،اس وقت نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ میں صرف ابو بکر ہی تھے جن کے بال کھچڑی تھے۔ اتنے لاغر و نحیف ابو بکرکو مشرکوں نے ابوالفصیل (اﷲ میاں کی گائے) کا نام دیا تھا۔ انھی کے کاندھوں پر بار خلافت پڑا تو وہ ابوالفحول (شیرنر) ثابت ہوئے۔ خالد بن ولید نے بھی جنگ ارتداد میں بعض مواقع پر نرم پالیسی اختیار کرنا چاہی، لیکن ابو بکر نے پورا قصاص لینے کی ہدایت کی۔ عمر نے منکرین زکوٰۃ سے نرمی برتنے کا مشورہ دیا تو بھی وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ ان کے لیے رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی سند کافی ہے کہ ’’جسمانی طور پر کم زور اور اﷲ کے معاملے میں انتہائی طاقت ور۔‘‘ بوڑھے ہو کر وہ اور ضعیف ہوگئے، لیکن ان کی ہر فضیلت زیادہ توانا ہو گئی۔ابوبکر زمانۂ جاہلیت میں شعر کہتے تھے: اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا شعری اثاثہ وہ تین مرثیے ہیں جو انھوں نے آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات پر کہے۔
ابو بکر نے اصحاب رسول سے نرمی اور مروت کا رویہ اختیار کیا،صحابہ کو ابوبکر سے ایک ہی شکایت ہوئی کہ انھوں نے مال کی تقسیم میں السابقون الاولون،مردوں،عورتوں اور غلاموں میں کوئی امتیازنہ کیا ۔اس کی وجہ خلیفۂ اول کا اصول تھا کہ مال کی تقسیم میں مساوات ہی زریں اصول ہے، البتہ مراتب اور اجر وذخر دینا اﷲ کا کام ہے۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ خلافت کے پہلے سال ابوبکر نے مال فے آزاد،غلام ،مرد، عورت سب میں برابر تقسیم کیا تو ہر ایک کے حصے ۱۰دینار آئے۔ اگلے برس یہ رقم دگنی ہو کر ۲۰ دینار ہو گئی۔ان کی پالیسی تھی کہ کبار صحابہ کو سرکاری مناصب کم سے کم دیے جائیں۔ اس کی ایک وجہ انھوں نے خود بیان کی کہ میں نہیں چاہتا ،ان(اہل بدر)کو دنیا میں ملوث کروں۔دوسرا سبب یہ تھاکہ وہ ان کواپنے پاس مدینہ میں رکھنا چاہتے تھے تاکہ انھیں مشوروں میں شامل رکھیں،کیونکہ جب معاذ بن جبل شام گئے تھے تو اہل مدینہ نے بڑا خلا محسوس کیا تھا، وہ ان سے فقہی ودینی مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔تب عمر نے انھیں روکنے کا مشورہ دیاتھا توابوبکر نے جواب دیا تھا: جو شخص جہاد کے ذریعے شہادت حاصل کرنا چاہتا ہو میں اس کو کیسے روک سکتا ہوں؟
خلافت ابو بکر میں سیدنا عمر کا بہت اہم کردار رہا، ہر کام ان کے مشورے سے انجام پاتا، تاہم ایسے مواقع بھی آئے جب ابو بکرکو تنہا کھڑا ہونا پڑاخصوصاً جیش اسامہ بھیجتے ہوئے اور منکرین زکوٰۃ کی سرکوبی کے وقت صرف ابو بکر تھے جنھیں اپنا موقف درست ہونے کا حق الیقین تھا۔انھوں نے خالد بن ولید کے بارے میں بھی عمر کے بار بار کے مشوروں کو رد کیا ۔ ان دونوں کی ہم آہنگی اور ان کی بے مثال حکومتوں کو دیکھ کر انھیں عمرین کا نام دیا گیا۔ جب ابو بکر و عمر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلتے تو آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بہت خوش ہوتے۔ آپ نے فرمایا: ’’جو دو میرے بعد آئیں ان کی پیروی کرو یعنی ابو بکر و عمر۔‘‘ (ترمذی، رقم ۳۶۶۳) حضرت علی فرماتے ہیں: ’’میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ابو بکر و عمر آئے۔ تب آپ نے فرمایا: ’’یہ نبیوں رسولوں کے علاوہ پہلے والے اور بعد میں ہونے والے اہل جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں،اے علی، ان کو نہ بتانا۔‘‘ (ترمذی، رقم ۳۶۶۵) آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ایک روزمسجد میں صحابہ کے حلقے میں تشریف فرما تھے کہ علی تشریف لائے ۔سلام کے بعد وہ بیٹھنے کے لیے جگہ ڈھونڈنے لگے ۔ابوبکر فوراً کھسک گئے اور انھیں نشست دے دی۔آپ کا چہرہ مبارک دمک اٹھا ۔ فرمایا: ’’اہل فضل کی فضیلت اصحاب فضل ہی پہچانتے ہیں۔‘‘
سخت مشقت اور اعصاب شکن معمولات نے ابو بکرکی اجل کو دعوت دی۔کوئی اور انسان اس قدر بوجھ اٹھانے کی طاقت نہ رکھتاتھا جو انھیں اپنے دور خلافت میں اٹھانا پڑا۔ اگرچہ ایسی روایت بھی پائی جاتی ہے کہ یہودیوں نے ان کو دیر سے اثر کرنے والا زہر ملا کرخزیرہ (گوشت جو پانی اور مسالے ڈال کر رات بھر پکایا گیا ہو)کھلا دیا تھا جس سے ان کی وفات ہوئی ۔ عتاب بن اسید نے بھی یہ کھانا کھایا تھا،انھوں نے اسی روز مکہ میں انتقال کیا۔ جب ابو بکر کی وفات ہوئی۔ حارث بن کلدہ طبیب تھا،اس نے چند لقمے لے کر کھانا چھوڑ دیا تھا، اس لیے ان کی جان بچ گئی۔ زہری کا کہنا ہے وہ بھی بیمار ہو کر فوت ہو گیا۔ زہر خورانی کی روایت قوی نہیں، اس لیے اسے نہیں مانا گیا۔سیدہ عائشہ اور عبدالرحمان بن ابو بکر کا بیان ہے کہ ۷ جمادی الثانی ۱۳ھ کو ہوا سرد تھی۔ ابو بکر نے غسل کر لیا تو ان کو بخار چڑھنا شروع ہو گیا۔ ایسے بیمار ہوئے کہ مسجد نہ جا سکتے تھے، چنانچہ عمر کو نماز پڑھانے کاکہا۔ ابو بکر کی وفات کا عیسوی ماہ اگست بنتا ہے ،سخت گرمی کے موسم میں ٹھنڈ لگنے والی بات عجیب لگتی ہے، لیکن عام مشاہدہ ہے کہ ہر گرمیوں میں چند دن ٹھنڈے ضرور آتے ہیں۔ ممکن ہے ،وہ دن ایسا رہا ہو۔ یہ امکان بھی ہے کہ انھیں ہجرت کے فوراً بعد ہونے والا بخار عود کر آیا ہو یا کوئی نئی بیماری لاحق ہو گئی ہو۔شدت مرض میں ابوبکر کو طبیب بلانے کا کہا گیا تو ان کا جواب تھا: طبیب نے دیکھ لیا ہے ۔لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ؟ابو بکر نے بتایا کہ وہ کہتا ہے: ’انی فعال لما یرید‘ ’’میں جو چاہتا ہوں کر ڈالتا ہوں۔‘‘ سیوطی کہتے ہیں: ابوبکر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی رحلت کے صدمے سے گھلتے رہے حتیٰ کہ ان کا انتقال ہو گیا۔
پندرہ دن کی اس بیماری میں وہ اپنا محاسبہ کرتے رہے اور امور خلافت بھی کسی قدر انجام دیے ۔انھیں احساس ہو چکا تھا کہ آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ابو بکر ذاتی طور پرمطمئن اور پرسکون تھے، لیکن مرض الموت میں بھی انھیں مسلمانوں کے معاملات سلجھانے کی فکر رہی۔ انھیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ میرے بعد مسلمان کسی انتشار کا شکار نہ ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی سقیفہ ان کو دوبارہ متحد نہ کر سکتا ۔انھوں نے اہل رائے کوجمع کر کے کہا کہ اﷲ نے تمھیں میری بیعت سے آزاد کر دیا ہے، میری زندگی ہی میں جسے چاہو اپنا امیر منتخب کر لو۔ سب نے مشورہ دیاکہ ابوبکر اپنی زندگی میں اپنا جا نشین مقرر کر جائیں۔ ابوبکر کو عمر بن خطاب پر پور ااطمینان تھا، لیکن وہ اپنی رائے مسلمانوں پر ٹھونسنا نہ چاہتے تھے۔ کچھ روز بعد انھوں نے عبدالرحمان بن عوف کو بلا کر مشورہ کیا۔ ان کا جواب تھا: عمر بہترین آدمی ہیں، لیکن ان میں سختی پائی جاتی ہے۔ ابوبکر نے فرمایا: ان کی سختی اس لیے ہے کہ وہ مجھے نرم پاتے ہیں ۔ حکومت ان کے پاس ہو گی تو وہ بہت سی باتیں چھوڑ دیں گے۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ مجھے کسی شخص پر غصہ آتا ہے تو وہ مجھے اس کی طرف سے منانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب میں کسی سے نرمی برتتا ہوں تو مجھے سختی کا مشورہ دیتے ہیں۔ پھر انھوں نے عثمان بن عفان کو بلایاجو ان کے پڑوس میں رہتے تھے اور ان کی رائے طلب کی۔انھوں نے فرمایا: عمر جیسا ہم میں کوئی نہیں ، وہ باطن میں اپنے ظاہر سے کہیں بہتر ہیں۔ ان کے بعد ابو بکر نے علی، طلحہ ، سعیدبن زید ،اسید بن حضیر اور کئی اورصحابہ سے مشورہ کیا۔ کچھ صحابہ نے ابوبکر کے مشوروں کی خبر پا کر عمر کی مخالفت کرنا چاہی ،وہ ان کے پاس حاضر ہوئے۔ طلحہ بن عبیداﷲ نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہے آپ کے ہوتے ہوئے وہ لوگوں سے کس طرح پیش آتے ہیں؟آپ نہ ہوں گے تو ان کا کیا سلوک ہو گا؟ ابوبکر کو غصہ آ گیا،شدت مرض سے لیٹے ہوئے تھے ، فوراً بٹھانے کو کہا پھر پکار کر کہا: اے اﷲ، میں نے تیرے بندوں پر ان میں سے بہترین شخص کو خلیفہ مقرر کیاہے ،طلحہ، میری طرف سے سب کویہ بتا دو۔ اگلے روز انھوں نے حضرت عثمان سے جانشین کی تقرری کویوں تحریری شکل دلائی: میں اپنے بعد عمر بن خطاب کو تمھارا خلیفہ مقرر کرتا ہوں، تم ان کی سنو اور مانو۔ اس دوران میں ان کو غشی بھی آئی۔ ان کی اہلیہ اسماء بنت عمیس انھیں سہارا دے کر دروازے تک لے آئیں تو انھوں نے مسجد نبوی میں موجود لوگوں سے اپنے فیصلے کی تائید لی۔ابو بکر نے عمر کو الگ بلا کر کچھ نصیحتیں بھی کیں۔ دوران مرض میں ایک روز ابوبکر نے دریافت کیا کہ مجھے بیت المال سے کتنا وظیفہ ملا ہے؟ حساب کیا گیا تو ۶۰۰۰ درہم ہوئے۔ انھوں نے عائشہ کو وصیت کی کہ میری فلاں زمین فروخت کر کے بیت المال کے درہم واپس کر دیے جائیں۔ یہ تحقیقات بھی کیں،بیعت کے بعد میرے مال میں کیا اضافہ ہوا؟ معلوم ہوا ایک حبشی غلام ہے جو بچوں کو کھانا کھلاتا ہے اور فرصت میں تلواریں صیقل کرتا ہے ۔ ایک اونٹنی ہے جس پر پانی آتا ہے اور پانچ درہم مالیت کی ایک چادر ہے، چنانچہ انھوں نے وصیت کی کہ میری وفات کے بعدیہ چیزیں خلیفۂ وقت کے پاس پہنچا دی جائیں۔ روایات میں ایک خچر،کچھ برتنوں اور ایک چکی کا ذکر ہے ، ابو بکر نے یہ بھی بیت المال کے حوالے کرنے کی تلقین کی۔ ابو بکر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے عالیہ ( مدینے کا بالائی علاقہ) میں ملنے والی بنو نضیر کی زمین عائشہ کو ہبہ کر چکے تھے، مرض الموت میں انھوں نے عائشہ سے یہ زمین لوٹانے کی درخواست کی تاکہ یہ سارے وارثوں کے حصے میں آ جائے ۔ ان کے ذہن میں حبیبہ بنت خارجہ سے پیدا ہونے والی ام کلثوم تھی جس نے ابھی جنم نہ لیا تھا، انھوں نے اس کے لڑکی ہونے کی پیشین گوئی بھی کر دی۔
عائشہ سے پوچھا گیا سرورعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا؟انھوں نے بتایا تین کپڑوں کا ۔ وصیت کی میرے کفن میں بھی تین کپڑے ہوں ،دو چادریں جو میرے بدن پر ہیں دھو لی جائیں اور ایک کپڑا نیا لے لیا جائے۔ عائشہ نے کہا کہ ہم تنگ دست نہیں کہ نیا کپڑا نہ لے سکیں۔جواب فرمایا: نئے کپڑوں کی زندہ لوگوں کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے ،کفن تو لہو اور پیپ کے واسطے ہے ۔عائشہ ہی کی ایک دوسری روایت میں ایک زعفران لگا ہوا کپڑا جو انھوں نے پہن رکھا تھا اور دو نئے کپڑوں کاکفن دینے کا ذکر ہے۔ ابوبکر نے اپنی اہلیہ اسماء بنت عمیس کو غسل دینے کی ہدایت کی اور کہا اگر وہ چاہیں تو ہمارے بیٹے عبدالرحمان سے مدد لے لیں۔ ابوبکر ان وصیتوں میں مصروف تھے کہ عراق سے مثنیٰ آئے اور عراق کمک بھیجنے کی درخواست کی۔انھوں نے اپنے جانشین عمر کو وہاں فوج بھیجنے کی وصیت کی اور فرمایا: میری موت کی وجہ سے مسلمانوں کے معاملات سے غافل نہ ہو جانا۔انتقال کے دن پوچھا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کس روز رحلت فرمائی تھی ؟ لوگوں نے بتایا: پیر کے دن ۔کہا: مجھے امید ہے،میری موت بھی آج ہی ہوگی۔انھوں نے وصیت کی کہ میری قبر آں حضرت کی قبر کے ساتھ بنائی جائے۔ موت کے آثار طاری ہوئے تو عائشہ پاس تھیں، انھوں نے حاتم طائی کا ایک شعر پڑھا تو ابو بکر ناراض ہوئے۔ ان کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ یہ تھے: ’رب توفنی مسلمًا والحقنی بالصالحین‘ ’’اے پروردگار، مجھے موت دیجیے مسلمان ہوتے ہوئے اور مجھے ملا دیجیے نیک لوگوں کے ساتھ۔‘‘ انھوں نے ۲۲ جمادی ا لثانی ۱۳ھ (۲۳ اگست ۶۳۴ء) کو پیر کے دن شام کے وقت وفات پائی۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کی اہلیہ اسماء اور بیٹے عبدالرحمان نے غسل دیا۔ میت اسی چارپائی پر لٹائی گئی جس پر آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے جسد مبارک کو تدفین سے پہلے رکھا گیا تھا ۔ ریاض الجنہ میں جنازہ رکھا گیا۔ حضرت عمر نے نمازپڑھائی ۔قبرنبوی کے پہلو میں بنائی گئی قبر میں عمر، عثمان،طلحہ اور عبدالرحمان بن ابوبکر نے میت کو اتارا۔ یوں وفات کے چند گھنٹوں بعداسی رات ان کی تدفین عمل میں آ گئی۔ابو بکر کے والد ابو قحافہ اپنے بیٹے کا صدمہ دیکھنے کے لیے زندہ تھے، انھوں نے چھ ماہ بعد ۹۷ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ مدینہ کی عورتیں حضرت عائشہ کے گھر اکٹھی ہو کر بین کرنے لگیں تو عمر نے ان کو زبردستی روکا۔ ۲ سال ۳ ماہ ۱۱(یا ۱۲)د ن ابو بکر کی مدت خلافت بنتی ہے۔
ابوبکر سے مروی روایتیں۱۴۲ ہیں ،ان میں سے صرف ۷بخاری و مسلم میں موجود ہیں۔قلت روایت کا سبب شاید ان کی کم گوئی ہے۔ اس کے باوجود بعض اہم روایات ان سے مروی ہیں، مثلاًطریقۂ نماز جو ابو بکر سے ابن زبیر نے سیکھا، ان سے عطا نے اور ان سے ابن جریج نے جو اپنے زمانے میں بہترین طریقے سے نماز ادا کرنے والے تھے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی مقداریں بیان کرنے والی حدیث ابوبکر سے مروی ہے۔ فن تعبیر کے امام ابن سیرین کہتے ہیں کہ اس امت میں خوابوں کی تعبیربتانے والے سب سے بڑے ماہر ابوبکرتھے۔ ابو بکر نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے روایت بیان کی، ان سے روایت کرنے والوں میں عمر بن خطاب،ان کے آزاد کردہ غلام اسلم،انس بن مالک، برا بن عازب، جابر بن عبداﷲ، جبیر بن نفیر، حذیفہ بن یمان، زید بن ارقم، زید بن ثابت، عبداﷲ بن زبیر، عبداﷲ بن عباس، عبداﷲ بن عمر، عبداﷲ بن عمرو، عبداﷲ بن مسعود، عثمان بن عفان، عقبہ بن عامر، معقل بن یسار، عبدالرحمان بن ابوبکر، علی بن ابو طالب، ابو امامہ باہلی، ابو سعید خدری، ابو موسیٰ اشعری، ابو برزہ اور ابو ہریرہ شامل ہیں۔
ابوبکر کے عمال: مکہ: عتاب بن اسید۔ طائف: عثمان بن ابو العاص۔ صنعا: مہاجر بن امیہ۔ عمان: حذیفہ بن محصن۔ حضرموت: زیاد بن لبید۔ خولان: یعلیٰ بن منبہ۔ زبید: ابوموسیٰ اشعری۔ جند: معاذ بن جبل۔ بحرین: علا بن حضرمی۔ نجران: جریر بن عبد اﷲ۔ دومۃ الجندل: عیاض بن غنم۔ عراق: مثنیٰ بن حارثہ۔ مزنیہ: جرش۔
آخر میں ایک اہم الزام کا جواب دینا ضروری ہے جو ابوبکر پر لگایا جاتا ہے۔ کیا ابو بکر نے سیدہ فاطمۃ الزہرا کو میراث سے اور حضرت علی کو خلافت سے محروم کردیاتھا؟ جس طرح فاطمہ رضی اﷲ عنہاپیغمبر علیہ السلام کی وارث تھیں اسی طرح عائشہ رضی اﷲ عنہا بھی آپ کی وراثت میں حصہ رکھتی تھیں۔ ابوبکر نے دونوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا، اس لیے کہ شریعت اسلامی میں انبیا کی وراثت جائز نہیں۔ یعقوبی کا بیان ہے: جب سیدہ عائشہ نے اعتراض کیا کہ آپ تو اپنے باپ کی وراثت حاصل کر سکتے ہیں اور میں نہیں کر سکتی تو ابوبکر زار و قطار رونے لگے گویا اس اعتراض پر محض ہمدردی ہی کی جا سکتی تھی۔ خلافت علی کے بارے میں اگر کوئی واضح ارشاد نبوی ابوبکر کے سامنے آتا تو وہ پیچھے ہٹ جاتے اور فرمان رسالت پر بے چون و چرا عمل کرتے، اس لیے کہ ان کی پوری زندگی امتثال امر سے عبارت ہے۔ پھر ابوبکر کے ہاتھ پرعلی مرتضیٰ کا بیعت کر لینا ثابت کرتا ہے کہ وہ وصی رسول نہ تھے۔
مطالعۂ مزید: الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ ابن خلدون، الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر)، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (مزی)، تاریخ الیعقوبی، الصدیق ابوبکر (محمد حسین ہیکل)، عبقرےۃ الصدیق (عباس محمود العقاد)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (پنجاب یونیورسٹی)، سیرت الصدیق (حبیب الرحمان شروان

تحریر: وسیم اختر مفتی

Advertisements

5 responses to this post.

  1. جزاک اللہ
    کاش کہ ہم اپنے اسلاف کی زندگیوں کو نمونہ بنا لیں اپنے لئے
    ہمارے ہیروز جو کہ دراصل یہی ہیں ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے اور اپنے ایمان کو
    ان کے ایمان کی مچل بنانے کی توفیق عطا ہو جائے تو بیڑہ ہی پار ہو جائے
    اللہ ہمااری خواہش کو قبول فرما اپنی بندگی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما
    اور اصحاب رسولﷺ کی زندگییوں سی زندگی گزارنے کی اور ان کے جیسے ایمان بنانے کی ہماری کوششون کو مقبول فرما

    آمین

    جواب دیں

  2. Posted by Sabir Ansari on 02/09/2012 at 10:13 صبح

    My respected brother AQEEL salaam to you.Why doyou not write IMAAM with the name of ABUBAKER SIDDIQ .You know more better that the last prophet s a w s made him IMAAM of muslims and get stood on the place of salah or NAMAAZ in his life.Please say and write IMAAM ABUBAKER SIDDIQ r a. with salaam m s ansari

    جواب دیں

  3. بہت عمدہ تحریر ہے ۔
    فدک والے معاملے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی اس دلیل کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے بھی تسلیم کیا اور اپنی خلافت میں اس جاگیر کو لینے کی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی۔۔۔
    فاسقین ، منافقین اور رافضی اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ عالم اسلام کی اس بزرگ تر ہستی پر الزام لگا کر وہ خود معاذ اللہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست پر الزام لگا رہے ہیں بلکہ وحی کے سلسلے کو ہی مشکوک بنا رہے ہیں۔

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s