گستاخ رسول کو کیا جواب دیا جائے؟


تحریر : ڈاکٹر بشریٰ تسنیم
اللہ تعالی نے ساری انسانیت پر احسان عظیم کیا کہ محسن انسانیت کو مبعوث فرمایا۔وہ رحمت اللعالمین اور
کافتہ للناس بشیر و نزیر بنا کر بھیجے گئے،یہ قومیں نہ اس احسان سے واقف ہیں نہ ان کی رحمت کی چھتری سے فائدہ اٹھا ی ہین نہ ہی ان کی خوش خبریوں پہ کان دھر رہی ہیں،نہ ان خطروں، عذابوں سے خبر دار کئے جانے پر چونک جاتی ہیں
یحسرۃ علی العباد یحسرۃ علی العباد
بد نصیب اور بد بخت قوموں اور لوگوں نے ہمیشہ رسولوں کا مذاق اڑایا ۔۔۔۔۔۔۔بنی اسرائیل کی تاریخ گواہ ہے کہ
ا نہوں نے اپنے ہر نبی کی شان میں گستاخی کی کسی کو قتل کیا،جھٹلایا،مذاق اڑایا بے سرو پا قصے گھڑے،بہتان،الزام تراشی اور کردار کشی کی۔۔
اسی کی پاداش میں وہ غضب کی مستحق ہوئیں،مگر تاریخ سے ان قوموں نے کوئی سبق نہ سیکھا بلکہ اپنی بد بختی میں اضافہ ہی کیا۔ آج دل مغموم اس لیے نہیں کہ نصاری اور یہود نے اپنے نبیوں کا اور خاتم النبین صل اللہ علیہ وسلم کو مذاق کا نشانہ بنایاہے یہ تو ان کی بری خصلت عیاں ہی ہے،آج غم اس بات کا ہے کہ خاتم النبیین کی امت کے حکمران اپنے محبوب نبی کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو یہ بتانے سے ہی گریزاں ہیں کہ ان کے جذبات اپنے نبی کے لیے کتنے نازک ہیں ان کے ایمان کا حصہ کیا ہے،اپنی جان ،مال، اقتدار، جاہ و حشمت کے کم ہو جانے، چھن جانےکا تو خوف ہے اپنے ایمان کے چھن جانے کا کوئی خوف نہیں ہے،دنیا کی محبت غالب ہے اس محبت پہ جس کے بغیر اپنے رب کو راضی کیا ہی نہیں جا سکتا
محبت کے زبانی دعوے ہی دعوے ہیں۔ جب امتحان کا وقت آتا ہے تو زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں،دل تنگ ہو نے لگتے ہیں۔ ان لوگوں کے اعصاب پہ موجودہ دور کے فرعونوں کا تو خوف ہے مگر اللہ تعالی کے عذاب کا کوئی خوف نہیں
سچی بات ہے آج نبی کی محبت کے اعلی معیا رپہ امت کا کوئی فرد یا گروہ نہیں پایا جاتاکسی کا دعویٗ محبت کسوٹی پہ نہیں رکھا جا سکتا
عوام الناس کو شعور نہیں، اور شعور دلانے والوں کو حکمت سے واسطہ نہیں محبت کیا ہوتی ہے اس کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ اور محبوب کو ایذا دینے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاھہیے۔وہ محبوب عا لم اور محبوب رب العلمین جس کو تکلیف دینے والوں پہ دنیا آخرت میں لعنت کی گئی ہے
امت مسلمہ کے حکمرانو، منبر و محراب کے پاسبانو اپنی عوام کی راہنمائی کرنے والو،ہوش کے ناخن لو،
اللہ تعالی کے محبوب نبی کی شان میں گستاخی پر سب سے زیادہ پکڑ تمہاری ہو گی،اس لیے کہ مادی وسائیل،تمہارے قبضے میں ہیں،عوام الناس کی باگ دور تمہارے ہاتھ میں ہے، دوسری قوموں سے مقابلے کا حق تمہارے پاس پے۔اپنی عوام کو درست سمت کا شعور دو ایمان کو جگاوٗ اپنی ہی املاک اور اپنے ہی لوگوں پر ظلم کرنے سے باز رکھو۔دشمنوں کو اپنے اوپر ہنسنے کا موقع نہ دو باہم دست و گریبان ہو کر دشمنوں کے کام کو آسان نہ کرو،فتنہ و فساد جو کہ
ملت کے انتشار کا باعث ہے اس میں اپنا حصہ نہ ڈالو،فتنہ تو قتل وغارت سے زیادہ برا ہے
انفرادی طور پر ہر فرد، اپنے رنج و غم کا اظہار کرےاپنے ایمان کی سلامتی مقصود ہے تو زبان سے، قلم سے، اختیارات سے اپنے نبی کی عزت و حرمت
پہ اپنے جزبات ریکارڈ کرائے۔ہوش مندی سے عقل وخرد سے راہنمائی کرنے والا کوئی نہ ملے تو اپنے رب سے پوچھے اسی نبی سے پوچھے جو کہ سردار دو جہاں ہے۔جس کی شان میں گستاخی ہوئی ہے وہ آپ سے کیا مظالبہ کرتا ہے؟کیا خواہش ہے؟وہ آپ کو اور مجھے کیسا اور کیا دیکھنا چاہتا ہے؟
کوئی عوام میں سے ہو ہا حکمران ہر ایک سے اللہ تعالی مخاطب ہے
اگر مجھ سے تعلق اور محبت بنانا ہے تو میرے نبی کی اطاعت کرو،اطاعت ہی کے ساتھ محبت مشروط ہےجب رسول کی اطاعت ہو گی تو اللہ خوش ہو گا جب اللہ خوش ہو گا تو نبی کی اطاعت آسان ہو جائیگی۔اطاعت کا پیمانہ جتنا زیادہ ہو گا اسی حساب سے اللہ کی محبت نصیب ہو جائیگی
یہود و نصاری کو اسی بات کا تو زعم تھا کہ وہ اللہ کے لاڈلے اور چہیتے ہیں اور یہی تو ان کو غم ہے، اسی بات کا تو حسد ہے کہ وہ محبت کیوں ہماری طرف منتقل ہو گئی ہے،یہ حسد ہی ہے جس کی بناٗپر وہ ہمارے اور اللہ کے درمیان محبت اور تعلق کوختم کرانا چاہتے ہیں۔
امت مسلمہ کے لوگو، حاسدوں کے حسد کو پہچانو اور اپنے اس محبوب کو ناراض نہ کرو جو کہ ہمارا اور اللہ تعالی کا مشترکہ محبوب ہے
اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والوں میں شامل ہو کر خود کو عذاب کا مستحق نہ بناوٗ
اے محبت کے دعوے دارو، زرا غور کرو
کیا محبت اور شفقت ،نگاہ کرم کو ٹھکرا دینا دوسرے کے لیے باعث تکلیف نہیں ہوتا؟
کیا خطرے سے خبردار کرنے والے کی بات کا یقین نہ کرنا،تسلیم نہ کرنا اس کودکھی نہیں کرتا؟
کیا آگ میں گرنے سے روکنے والے ہاتھ کو جھٹک دینے سے اس کو خوشی ہوتی ہے؟
کیا اپنی امت کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کے لیے ایک مضبوط رسی دینے والا اسکو چھوڑ چھاڑ دینے پہ رنجیدہ اور غمگین نہ ہو گا؟
کیا آپ کے اور میرے طرز زندگی سے وہ ہستی خوش وراضی ہو گی؟
دنیا اور اس کے جاہ و حشمت کے پیچھے بھاگنے پہ اس کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی؟
اے امت مسلمہ کے ہریشان حال لوگو
اپنے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر کوئی ایسا رد عمل ظاہر کرو
کوئی ایسا بدلہ لو، کوئی ایسی چال چلو،جو ازلی وابدی ہو ٹھوس انتقام ہو، جس کا کوئی توڑ ان کے پاس نہ ہو، جو ان کو لا جواب کر دے ان کے منہ بند کردے
حاسد سے بدلہ لینے کا یہ بہت اچھا انتقام ہے کہ جس کام سے وہ حسد کرتا ہے جس چیز سے اس کو جلن ہو تی ہے وہی کیا جائے اور خوب کیا جائے
جس مقام ومرتبہ سے اس کا کلیجہ جلتا ہے اسی کو حاصل کیا جائے،مل کر کیا جائے، اسی کو مشن بنا لیا جائے زندگی کی ترجیحات میں اسی کام کو سر فہرست رکھاجائے یہی نصب العین ہو۔
ہمارا ہر لمحہ اس نبی صل اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری میں گزرے تاکہ ہم اس منصب کا حق ادا کرسکیں جو ہمیں دنیا کی ہرقوم سے ممتاز کرتا ہے
اور یہی شان امتیاز حاسدوں کے لیے تیرو رفنگ بن جائے اور دنیا جان لے کہ
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
نوٹ: میرا اس تحریر کے اسلوب سے متفق ہونا ضروری نہیں۔پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s