آخری مضمون ۔ ذکر الٰہی پر قرآن کا تبصرہ

 

[نوٹ: ذکر الٰہی پر پی ڈی ایف فارمیٹ میں مکمل مقالہ ڈائون لوڈ کرنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں۔] http://wp.me/aX8P5-cc

اللہ کے ذکر کا حکم
الف۔اللہ کا ذکر ایک بڑا عظیم کام ہے۔[ 29: 45]
ب۔ذکر کثیر کی ہدایت
اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو[41:33]
ج۔اللہ کو بھلانا اپنے آپ کو بھلانا ہے
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ایسا کر دیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے یہ بد کردار لوگ ہیں ۔[19:59]
د۔ ذکر کا مقصود خشیت ہے
کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو (خدائے) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت ان کے دل نرم ہوجائیں[16:57]
2۔مومنین کا تذکر کے بارے میں رویہ
۱لف۔گناہ کے بعد ذکر الٰہی
اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے ہیں[135:3]
ب۔ ہر حال میں ذکر
جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) اے پروردگار تو نے اس (مخلوق) کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا۔ تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔[191:3]
ج۔ ذکر سےایمان کی اضافہ
مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔[۲:۸]
د۔ذکر الٰہی میں غفلت سے گریز
(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خرید و فروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں[37:24]
3۔منافقین اور مشرکین کا ذکر
الف۔ان کاذکر ایک چال ہے
منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم[142:4]
ب۔تذکر میں اخلاص نہ ہونا
اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہو جاتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں[45:39]
4۔تذکر کے مثبت نتائج
الف۔ دلوں کا اطمینان۔
(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں[28:13]
ب۔تقوٰی کا حصول
خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہو جاتے ہیں یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں[23:39]
ج۔ برے کاموں سے اجتناب
(اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے جانتا ہے[49:29]
د۔ اچھی صفات کا حصول
یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز آداب سے پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں[۳۵:۲۲]
5۔ تذکر سے گریز کرنے والوں کو وعید
الف۔شیطان کا تسلط
اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کر لے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے۔[ 43: 36]
ب۔ دنیا و آخرت کی تباہی
اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اڑھائیں گے[124:20]
ج۔ذکر سے روکنے والے عوامل
۔ مومنو تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔ [9:63]
د۔ شیطان کی کامیابی
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہئے [91:5]

ذکر الٰہی پراسائنمنٹ


۱۔ ایک ہفتے میں صبح اٹھنے اور رات کو سونے کی دعا مفہوم کے ساتھ یاد کریں ۔
۲۔ایک مہینے میں ان دس دعائوں کے ترجمے یاد کریں جو آپ کو عربی میں یاد ہیں۔
۳۔ چھ ماہ میں قرآن میں بیان کردہ تمام دعائیں مفہوم کے ساتھ یاد کریں۔
۴۔تفکر کے لئے سورہ رحمٰن کو غور سے پڑھیں اور اس میں اللہ کی بیان کردہ صفات کے نام لکھیں۔
۵۔سورہ نبا کا مطالعہ کریں اور مختلف تفاسیر کو پڑھنے کے بعد متعین صورت میں بیان کریں کہ اس میں آخرت کے کون کون سے دلائل بیان کئے گئے ہیں۔
۶۔ آیت الکرسی کا ترجمہ پڑھیں اور بیان کریں کہ یہ اللہ کے ذکر میں یہ کس طرح معاون ہوسکتی ہے؟
۷۔وہ کون کون سے مواقع ہیں جب آپ کو اللہ تعالیٰ یاد آتے ہیں؟ ان کی وجہ بیان کریں۔
۸۔اللہ کے ذکر کرنے کے مختلف طریقے لکھیں اور آپ اپنے لئے کوئی ایک طریقہ منتخب کریں۔
۹۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بیس دعائیں ترجمے کے ساتھ لکھیں اور ان کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں بیان کریں۔
۱۰۔ذکر کی تعریف ، اقسام اور اسباب اپنے الفاظ میں بیان کریں ۔

Advertisements

One response to this post.

  1. U have tried 2 write all the suras of remembrance of Allah Almighty. U have put in a lot of effort n may Allah Almighty reward u.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s