ابن صفی کی ضرورت


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اردو لٹریچر سے میری دوستی اسی دن سے ہوگئی تھی جب اردو پڑھنا سیکھ لی ۔ ابتدا ءمیں ٹارزن، عمرو عیار اور اس طرز کی کہانیاں پڑھیں۔ کچھ بڑا ہوا تو اشتیاق احمد کے جاسوسی ناولوں دوستی ہوگئی۔جب نوجوانی میں قدم رکھا تو اردو کے کئی نامور ادیبوں کی تحریریں نظر سے گذریں لیکن جب سے ابن صفی کو پڑھا ، کوئی دوسرا نظروں میں جچا ہی نہیں۔ اردو ادب میں ابن صفی کا کوئی مقام نہیں سمجھا جاتا لیکن ابن صفی کی تحریریں کسی کے سرٹیفکیٹ کی محتاج نہیں۔
ابن صفی 26 جولائی 1928 کو الہ آباد کے ایک گاؤں نارا میں پیدا ہوئے اور ۱۹۸۰ کو ان کا انتقال ہوگیا۔ اس دوران انہوں نے سیکڑوں جاسوسی ناول عمران سیریز اور فریدی سیریز کے لکھے۔انہوں نے جاسوسی کے فن کو اپنے ناولوں میں سمو دیا۔
ایک سب سے اہم پہلو جس کی بنا پر میں یہ آرٹیکل لکھنے پر مجبور ہوا وہ یہ کہ ابن صفی نے فحش نگاری کے خلاف جہاد کیا۔ جب انہوں نے ناول نگاری کی ابتدا کی تو اردو ادب پر فحاشی کا عنصر غالب تھا۔ ان کے بے تکلف دوستوں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ جنسیات کا سہارا لئے بغیر کوئی ادیب کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ابن صفی نے ان سے اختلاف کیا اور ستھرے ادب کے پرچار کو ایک چیلنج کے طور پر لیا۔ابن صفی شاید اپنے مشن میں سو فیصد کامیاب نہ ہوئے ہوں لیکن ان کی کاوشوں پر اللہ تعالیٰ نے انہیں پورےبرصغیر میں عزت اور شہرت سے سرفراز کیا ۔ وہ اپنے مشن میں اس شان سے کامیاب ہوئے کہ انکے ناولوں نے پاکستان اور ہندوستان میں فروخت کے ریکارڈ توڑ دئے ۔
آج بھی اردو ادب کو ایسے ہی کسی مجاہد کی ضرورت ہے جو مقبولیت کے لئے کسی فحش نگاری کا محتاج نہ ہو۔ آج اردو ادب کی تمام اصناف پر جنسیات کا غلبہ ہے۔ افسانہ ، ناول، ڈائجسٹ کی کہانیاں ، اخباری مضامین اور دیگر تحریروں میں جنسیات کسی نہ کسی حوالے سے حاوی ہیں۔ دوسری طرف الیکٹرانک میڈیا میں ڈرامے اور فلمیں تو اس روانی سے فحش نگاری کے سابقہ ریکارڈ توڑ رہے ہیں کہ کوئی نفیس آدمی انہیں نہیں دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔
یہ فحش نگاری مغرب کی نقالی میں کی جاتی ہے لیکن مغربی کو میڈیا پر تشدد ، عریانیت ، فحش زبانی اور جنسی مناظر دکھانے کے جو اصول ہیں ان کوہمارے ہاں کو پوری طرح ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا۔ مغربی ممالک میں اگر کوئی پروگرام ان خصوصیات کا حامل ہوتا ہے تو اس پر پی جی،وی، ایس، ایل ، این اور دیگر علامتوں سے ابتدا ہی میں بتا دیا جاتا ہے تاکہ مہذب اور پاکیزہ شخصیت والے لوگ ان خرافات سے اپنے آپ کو اور اپنے معصوم بچوں کو بچا سکیں۔
بہر حال ، آج ایسے صحافی،ڈرامہ پروڈیو سر، افسانہ وناول نگار، کہانیوں کے مصنف، فلم ساز اور ڈائریکٹروں کی ضرورت ہے جو اس فحش نگاری کے خلاف جہاد کریں ۔ جو قوم کے حال اور مستقبل کو چند ٹکو ں کی خاطر نہ بیچیں، جو شائستہ زبان ، مہذب لباس اور اعلیٰ اخلاقی کیریکٹر سے آراستہ کرداروں کو قوم کا رول ماڈل بنائیں اور لوگوں میں ستھری تفریح کی عادت پیدا کریں۔
آج دوبارہ ابن صفی کی ضرورت ہے جو ٹرینڈ سیٹ کرےناکہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوکر رزق میں حرام مال کی ملاوٹ کرے۔ اور اگر نہیں تو پھر ایسے مصنفین اور پروڈیوسرز اپنے گھر کو بھی اس برہنگی کی آگ سے نہیں بچا سکتے۔
پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com
aqilkhans@gmail.com

Advertisements

9 responses to this post.

  1. کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا-ابن صفی پر ایک تازہ کتاب
    مکمل تفصیلات معہ تصاویر یہاں ملاحظہ کیجیے:
    http://www.wadi-e-urdu.com/a-new-book-on-ibne-safi-june-2012/a-new-book-on-ibne-safi-june-2012/

    جواب دیں

  2. احقر کا قومی زبان میں شائع ہوا مضمون، ابن صفی-شہرت اب سرحدوں کے پار:
    http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=14511

    راشد

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s