(بیماری نامہ ۔(ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

اچانک سوتے ہوئے وصی کو یوں لگا کہ کسی نے اس کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا ہو۔ وہ تڑپ کر اٹھ بیٹھا۔ کچھ دیر تک آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل نہ ہوئیں۔ جب اوسان بحال ہوئےتو پتا چلا کہ پیٹ میں شدید درد اٹھا ہے۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ گیا اور بے چینی کے عالم میں ٹہلنے لگا۔
یہ رمضان کی سات تاریخ تھی، گھڑی رات کے دو بجنے کا مژدہ سنا رہی تھی۔ وہ کمرے میں پیٹ تھامے ہوئے سوچنے لگا کہ پتا نہیں وہ کل کا روزہ بھی رکھ پائے گا یا نہیں۔
"کیا ہوا ؟” اس کی بیوی نے دریافت کیا جو اسے تکلیف میں دیکھ کر اٹھ گئی تھی۔
"کچھ نہیں! بس ذرا تیزابیت ہے۔ کچھ دیر چہل قدمی سے ٹھیک ہوجائے گی”۔ اس نے جواب دیا ۔لیکن اسے اندازہ نہ تھا کہ اس رات کا درد اس کی زندگی میں بے شمار طوفان بپا کردے گا۔کچھ دیر چہل قدمی کے بعد اس کا درد ٹھیک ہوگیا۔
وہ سمجھا کہ یہ معمول کا درد ہے۔لیکن کچھ دنوں بعد پھر وہی درد اٹھا۔ اس بار شدت زیادہ تھی۔ وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا اور ٹہلنے لگا۔ وہ آج کی رات جاگ کر عبادت میں گذارنا چاہتا تھا لیکن اس درد نے اسے ایک دوسری عبادت میں لگادیا ۔ وہ پیٹ کے اوپری حصے کو سہلاتے ہوئے صبر سے اپنی آہ وبکا برداشت کرنے لگا۔صبر حوصلے کے ساتھ حق پر جم جانے کا نام ہے خواہ یہ میدان جنگ میں ہو یا کسی تکلیف و بیماری پر ۔ اس قسم کی شدید تکلیف میں انسان اکثر خدا سے شکایت کرنے لگ جاتا ہے۔ لیکن وصی نے اس شکایتی رویے سے بچنے کے لئے اللہ کی پاکی بیان کرنا شروع کردی جو اس بات کا اظہار تھی کہ اللہ ہر عیب سے پاک ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے بندے کے ساتھ ظلم پر مبنی رویہ اختیا ر کریں۔ چنانچہ وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے لگا تاکہ خود کو کسی منفی رویے سے بچا سکے۔
یہ درد بھی ختم ہوگیا۔صبح اٹھ کو وہ دفتر تو چلا گیا لیکن اس کے ذہن میں وہی درد نفسیاتی خلجان پیدا کرنے لگا۔ایک جنرل ڈاکٹر کو دکھا یا تو اس نے زین ٹیک اور تیزابیت کو ختم کرنے والی دیگر گولیاں دے دیں۔ لیکن درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
یہ درد اکثر آدھی رات کو اٹھتا اور سحری تک جاری رہتا ۔کبھی اس کا مرکز پیٹ ہوتا اور کبھی کھانے کی نالی کا درمیانہ حصہ میں۔ ایک دن درد اتنا شدید اٹھا کہ اسے روزہ بھی چھوڑنا پڑا۔ اس کا اسے بہت افسوس ہوا۔اب ڈاکٹر تبدیل کرنا ناگزیر ہوچلا تھا۔ نئے ڈاکٹر نے اپنی دوائیاں شروع کردیں جس سے درد کی شدت اور تعدد میں کمی واقع ہوئی لیکن چھٹکارا پھر بھی نہ ملا۔ اس نے انٹرنیٹ پر تیزابیت کے اسباب اور بچاؤ کے طریقوں پر پوری ریسرچ کرڈالی۔ کہیں لکھا تھا کہ تکیہ اونچا لگاکر سوؤ اور کہیں تھا کہ پانی کم پینا چاہئے۔ سب کچھ کرلیا لیکن اسباب و علل کی دنیا میں اس جواب نہ ملا۔ اس نے اپنے رب سے دعائیں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ یہ دعا ایک مجبور، بے بس اور لاچار بندے کی پکار تھی اپنے کریم ، حلیم اور اور پناہ دینے والے رب کی جانب۔جب سارے اسباب ناکام ہوجاتے ہیں تو اسباب کا مالک ہی مدد کرسکتا ہے۔وہ اکثر تراویح پڑھتے وقت روتا اور اپنے رب سے رات میں عبادت نہ کرپانے کی معذرت کرتا، کبھی ماضی کے رمضانوں کی شب بیداری یاد کرتا اور قرآن کے مطالعے کو مس کرتا ۔
اسی اثناء میں عید آگئی اور یوں لگا کہ معاملات قابومیں آتے جارہے ہیں۔عید کا چوتھا روز تھا۔ وہ آج بہت خوش تھا کیونکہ ابھی تک تیزابیت حملہ آور نہیں ہوئی تھی جبکہ اس نے کافی بد پرہیزی بھی کرلی تھی۔وہ ابر آلود شام اسکی مسرت میں اضافہ کررہی تھی۔ آج اس کے گھر والے بھی جمع تھے ۔ وہ اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا باتیں کررہا تھا کہ دوبارہ اسی درد کے آثا ر محسوس ہوئے۔ اس نے اسے وہم سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن درد اپنی جگہ جما رہا۔ دوست بھی چلا گیا اور گھر والے بھی رخصت ہوئے لیکن اس نے اپنے تاثرات سے درد کا اظہار نہ ہونے دیا۔ اس نے سوچا کہ یہ درد ایک گھنٹے میں دور ہوجائے گا تو دوسروں کو پریشان کرنے کی کیا ضرورت؟ ۔ لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔ شام پانچ بجے سے اٹھا ہوا درد رات دس بجے شدت اختیا ر کرگیا۔ ساری دوائیاں پی لیں اور ساری دعائیں مانگ لیں لیکن اللہ کی حکمت کچھ اور تھی۔اگر ہر دعا پوری ہونے لگ جائے تویہ دنیا آزمائش کی جگہ نہ رہے بلکہ جنت بن جائے۔ لیکن اللہ انسان کو آزمانے، اسے صبرکی تربیت دینے اور اس کے درجات بلند کرنے کے لئے کچھ دعاؤں کی قبولیت مؤخر کردیتے اور کچھ کو قیامت تک موقوف کردیتے ہیں کیونکہ وہ بہتر جانتے ہیں کہ اس دارالامتحان میں انسان کے لئے کیا چیز ملنا مناسب اور کیا چیز نہ ملنا موزوں ہے۔
بہر حال وہ رات کو تڑپتا رہا۔ اسکی بیوی اس کے آگے پیچھے ہورہی تھی لیکن اس کے بس میں کچھ نہ تھا۔ درد سینے تک آچکا تھا۔اس کے بدن میں سوئیاں سی چبھنے لگی تھیں جو کمزوری اور لو بلڈ پریشر کی علامات تھیں۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے پیروں کا دم نکل رہا ہو اور دماغ تاریکیوں میں ڈوب رہا ہو۔ وہ چکرا کر بستر پر گر گیا۔ اسکی بیوی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اس نے اپنے ساس سسر کو فون گھمادیا ۔ وصی نے نحیف سی آواز میں کہا کہ مجھے گلوکوز لادو۔ گلوکوز کے دو گلاس پینے سے کچھ توانائی بحال ہوئی۔ لیکن درد اپنی جگہ موجود تھا۔ اسی اثنا ء میں اسکی بیوی نے پڑوس سے کچھ لوگوں کو بھی بلالیا۔ ان سب کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ہسپتال جایا جائے۔ وصی کا رنگ پیلا ، ہونٹ خشک، پیشانی عرق آلود اور اعضاء نحیف ہو چکے تھے ۔ اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا یاد آئی کہ ” میں جب بیمار پڑتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے”۔ وہ اپنے رب سے التجا کرنے لگا کہ یہ آزمائش کی گھڑی ساتھ خیریت سے گذر جائے اور وہ یہ دعا بھی کرنےلگا کہ اس کی حالت بہتر ہوجائے۔ اللہ نے گویا اس کی سن لی۔ اس کے بھائی اور والد آگئے اور اسے ہسپتال میں لے گئے۔ ہسپتال والوں نے اسے رائزک کی ڈرپ چڑھادی اور پین کلر کا انجکشن لگادیا ۔ اس سے کچھ افاقہ ہوا۔ بہر حال وہ گھر آگیا اور کچھ دیر بعد اسے نیند آگئی۔
اب معاملات خطرناک حد کو پہنچ چکے تھے اور یہ کیس کسی جنرل فزیشن کے بس کی بات نہ تھا۔ چنانچہ اس نے اسپیشلسٹ کو دکھانے کا فیصلہ کیا۔ آغا خان ہسپتال میں ہفتے کے روز ایک گسٹرواینٹرولوجسٹ سے اپائنٹمنٹ لیا۔ جب ہفتے کو روانگی ہوئی تو شدید بارش ہوگئی اور راستے ہی سے واپس آنا پڑگیا۔
شاید اسکی قسمت میں کچھ اور بے یقینی لکھی تھی۔ لیکن دوسرے دن دوبارہ اس کے پیٹ اور سینے میں درد اٹھا۔چنانچہ اس نے پیر کو ایک اور ہسپتال میں چیک اپ کروانے کا فیصلہ کرلیا۔لیکن اس روز بھی شدید بارش شروع ہوگئی۔ بہرحال جانا تو تھا۔ اتفاق سے ڈاکٹر بھی آرہا تھا چنانچہ وہ رکشا میں بیٹھ کر ڈاکٹر کے پاس پہنچ ہی گیا۔ دو گھنٹے بعد نمبر آیا تو ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد دوائیاں استعمال کرنے کے ساتھ الٹرا ساؤنڈ کر وانےکی ہدایت کردی ۔
دوائیوں کے استعمال سے طبیعت کافی بہتر ہوئی لیکن جب الٹرا ساؤنڈ کروایا تو علم ہو ا کہ پتّے میں پتھری ہے۔ یہ سن کر وصی کو ایک شاک سا لگا۔ لیکن پھر اسے قرآن کی ایک آیت یاد آگئی کہ” بے شک میری نماز اورمیری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العٰلمین کے لئے ہے”۔ یہ سوچ کر اسے کافی اطمینان ہوا اور شرم بھی آئی کہ معمولی سے پتّے کے امتحان میں اس کے قدم ڈگمگا گئے۔ بہت سے امتحان کتابوں سے نکل کر جب حقیقت کی شکل میں سامنے آتے ہیں اور اسی وقت پتا چلتا ہے کہ انسان کتنے پانی میں ہے۔
—————–
دوسر ے دن وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور اسے رپورٹ دکھائی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آپ بہتر ہے کہ اینڈو اسکوپی کروالیں کیونکہ پتّے میں پتھری تو ہے لیکن اس میں سوجن نہیں۔ چنانچہ ممکن ہے کہ یہ درد پتھری کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی اور بنا پر ہو۔ لیکن وصی نے کہا کہ اینڈوسکوپی تو بعد میں ہوتی رہے گی، پتّہ تو ویسے بھی نکلوانا ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر نے سرجن کو ریفر کردیا۔
اگلے دن جمعہ تھا اور وہ آفس کی چھٹی کرکے سرجن کے پاس پہنچ گیا۔ سرجن نے اسے اسی دن ایڈمٹ ہوجانے کے لئے کہہ دیا۔ چونکہ وہ پینل پر تھا چنانچہ ایک دن منظوری لینے میں نکل گیا۔ پھر وہ اتوار کی شام کو ایڈمٹ ہوا۔
ہسپتال کی انتظامیہ نے روایتی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور منظوری لینے کے باوجود کافی دیر بعد پرائیوٹ روم الاٹ کیا۔ یہ وصی کا کسی بھی اسپتال میں داخل ہونے کا پہلا تجربہ تھا۔ کمرے میں دائیں جانب ٹی وی رکھا تھا، اور بائیں جانب ایک اونچے سے مچان پر پنج سورہ اور جائے نماز۔ اسے یہ دیکھ کر ہنسی آگئی کہ دین اور دنیا کا کیا حسین امتزاج ہے۔ انسان جب خوش اور تندرست ہوتا ہے تو مخلوق میں کھوجاتا ہے اور جب وہ پریشان اور مصیبت زدہ ہوتا ہے تو خالق کی جانب بھاگتا ہے۔ستم یہ کہ جب خالق اسے چنگا بھلا کردیتا ہے تو دوبارہ یہ انسان اپنی خر مستیوں میں کھو جاتا ہے۔
نرسوں نے آنا شروع کردیا۔ رومانوی ادب میں نرسوں کے بڑے چرچے ہیں لیکن وصی کسی بھی ایسی نگاہ کا قائل نہ تھا جو اسے رب سے دور کرکے نفس کے قریب کردے۔ پھر اس کی قسمت اچھی تھی کہ کوئی نرس اس جھانسہ دینے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی تھی۔
بہرحال دائیں ہاتھ میں کنولہ لگایا جاچکا تھا جو اس بات کی علامت تھا کہ یہ مریض ہے۔رات کو اس نے نماز پڑھی اور اپنے رب سے استقامت کی دعا کی۔ وہ خاصا مطمئین تھا اور اسے سرجری کا کوئی خوف بھی محسوس نہیں ہورہا تھاکیونکہ اس نے تو خدا کی رضا کے لئے جان تک قربان کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا یہاں تو بات معمولی سے پتّے کی تھی۔ویسے بھی یہ جدید طرز پر ہونے والی لیپرواسکاپک سرجری تھی جس میں پورا پیٹ کاٹے بغیر دو یا تین سوراخ کے ذریعے پتّہ باہر نکال
لیا جاتا ہے۔ اسے لیٹے لیٹے ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ یاد آنے لگا۔

ابرہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لئے چند لوگوں کے ہمراہ قربان گاہ روانہ ہوئے۔ جب وہ ایک مقام پر پہنچے تو انہوں نے اپنے ساتھ لوگوں سے کہا کہ تم لوگ یہاں ٹہرو، میں اور میرا بیٹا ابھی اس پہاڑ سے ہوکر آتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ اس قربا ن گاہ کی جانب بڑھنے لگے تو شیطان نے انہیں ورغلایا کہ اپنے پہلوٹھی کے بچے کو ذبح کردوگے۔ انہوں نے اس پر تبرا بھیجا اور خدا کے حکم کی تکمیل کے لئے تیزی سے قربان گاہ کی جانب بڑھے اور اپنےبیٹے کو گویا ذبح کی کرڈالا۔

وہ سوچنے لگا کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور یہاں ہر ایک کو قربانی دینی ہے۔ کیس کو چھوٹی تو کسی کو بڑی۔
اسے اسٹاف نے ہدایت کی کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے کیونکہ ابھی الٹرا ساؤنڈ ہونے والا ہے۔ چنانچہ دو بجے تک وہ جاگتا رہا ۔لیکن بعد میں اسے بتایا گیا کہ الٹرا ساؤنڈ اب صبح کو ہوگا۔ اس لاپرواہ رویے پر وصی کو کافی غصہ آیا لیکن وہ ضبط کرگیا ۔ رات کو لیبارٹری والے کافی خون لے گئے تھے۔ اب اسے سرجری کا گاؤن پہنادیا گیا۔ وہ کھانا کھا کر لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ اسکی بیوی اسے مسلسل ایس ایم ایس کرکے اسکی خیریت دریافت کرہی تھی اور وہ اسے یہ حدیث سنا کرتسلی دے رہا تھا کہ جب بندہ مومن کو کوئی تکلیف پیش آتی ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اللہ اس کے گنا ہ جھاڑ دیتا ہے۔
صبح کو الٹرا ساؤنڈ ہوا تو اسے بتایا گیا کہ آپ نے رات کو نو بجے ہی کھانا پینا چھوڑ دینا تھا۔ وصی ایک اورلا پرواہ روئےا پر افسوس کے سوا کچھ نہ کرسکا۔الٹرا ساؤنڈ والوں نے بے زاری سے رپورٹ تیار کرکے جان چھڑالی۔ حالانکہ کراچی شہر کا ایک پرائیوٹ اور اچھا ہسپتال تھا لیکن یہاں بھی مریض کے ساتھ ہمدردی کی بجائے اپنے مطلب پر نگاہ تھی۔ وصی سوچنے لگا کہ لوگ بلاوجہ حکومت اور اداروں کو برا بھلا بولتے ہیں حالانکہ اصل بگاڑ تو عوام میں موجود ہے جو ڈاکٹر، انجینئر، استاد ، افسر اور دیگر صورتوں میں اداروں سے منسلک ہیں ۔
صبح کو اس نے فجر کی نماز پڑھی ۔ دس بجے اس کا آپریشن تھا۔وہ بالکل تیار بیٹھا تھا کہ اچانک ایک ڈاکٹر داخل ہوئی
"آپ کی بلڈ کی رپورٹ خراب آئی ہے ۔ آپ کے پلیٹ لیٹس کی تعدا د صرف 41،000 ہے جو کہ کم از کم 150،000 کی تعدا د میں ہونے چاِہئیں۔ "۔ ڈاکٹر نے یہ روح فرسا خبر سنائی۔
ایک لمحے کے لئے تو اسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ ڈاکٹر کیا کہہ رہی ہے۔ اس نے پلیٹ لیٹس کے بارے میں سنا تو تھا کہ ڈنگی اگر کاٹے تو یہ کم ہوجاتے ہیں لیکن اس سے زیادہ کوئی بات نہ پتا تھی۔
کچھ دیر بعد سرجن آیا جس نے آپریشن کرنا تھا۔ اس نے کہا
"جناب آپ کی قسمت اچھی ہے کہ ہم نے ٹیسٹ کرواکے پلیٹ لیٹس چیک کرلئے ورنہ اگر سرجری کردی جاتی تو خون کا بہاؤ نہ رکتا اور آپ اس وقت یا تو آسی یو میں ہوتے یا کہیں اور”۔
وصی بھونچکا رہ گیا۔ اسے تو خبر بھی نہ تھی کہ اس کے خون میں یہ کمی ہے۔ وہ تو آپریشن کروانے آیا تھا کہ یہ ہوگیا۔
"ڈاکٹر صاحب ! اب کیا ہوگا؟”۔
"اب تو جب تک پلیٹ لیٹس بہتر نہیں ہوجاتے اس وقت تک آپریشن نہیں ہوسکتا۔ ہم آپ کاکیس جنرل فزیشن کو ریفر کررہے ہیں”۔ یہ کہہ کر سرجن چلتا بنا۔
اس کے بعد جنرل فزیشن وصی کو دیکھنے آئے اور انہوں نے بے شمار ٹیسٹ لکھ دئیے جن میں ڈنگی کا ٹیسٹ بھی شامل تھا۔ وصی کو قوی امید تھی کہ ڈنگی ٹیسٹ پازیٹو آئے گا کیونکہ اور کوئی وجہ پلیٹ لیٹس کم ہونے کی معلوم نہیں ہوتی تھی۔
اسکی طبیعت بالکل ٹھیک تھی ، نہ کوئی بخار نہ کمزوری۔ بس اسپتال میں ایک دن گذارلینے کے بعد کچھ کسل مندی سی پیدا ہوگئی تھی۔بہرحال اب معاملہ صرف انتظار کا تھا کیونکہ ٹیسٹ کا رزلٹ آئے بنا ٹریٹمنٹ شروع نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ موجودہ دور کا طریقہ علاج ہے کہ جب تک تمام ٹیسٹ کرواکے وجہ نہ دریافت کرلی جائے تب تک علاج شروع نہیں کرتے۔ جبکہ پرانے طریقہ علاج میں علامات کی بنیاد پر ہی علاج ٹرائل اینڈ ایرر بنیادوں پر شروع کردیا جاتا تھا۔ دونوں کے اپنے فائدے اور نقائص ہیں۔
اس دریافت کے بعد انتظا ر کی گھڑیاں شروع ہوچکی تھیں۔ ہسپتال کا کمرہ بظاہر تو بڑا آرام دہ تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ کبھی کوئی صفائی کرنے والا آتا تو کبھی کوئی بلڈ پریشر چیک کرنےکے لئے آتا۔ وصی کا وقت نہیں کٹ رہا تھا۔ وہ کبھی ٹی وی میں حرم کی قرات لگاکر وقت پاس کرنے کی کوشش کرتا ، کبھی نمازیں ادا کرتا اور خدا سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتا ، صحتیابی کی درخواست کرتا اور اس آزمائش میں سرخرو ہونے کی سعی کرتا۔ پھر اسے یہ خیال آیا کہ کہیں یہ سب کچھ اسکے گناہوں کی سزا تو نہیں۔ وہ جانتا تھا کہ مصیبتیں صرف گناہوں کی وجہ سے نہیں آتی ہیں بلکہ اللہ اپنے بندوں پر مصیبتیں اور بیماریاں بھیجتے ہیں تاکہ ان کا تزکیہ و تربیت ہو، ان کے گناہ جھڑ جائیں، وہ اللہ کا قرب حاصل کرلیں، ایک روٹین لائف سے آزاد ہوکر ان نعمتون کا ادراک کریں جن کی جانب وہ زندگی کی دوڑ میں نظر اٹھا بھی نہیں دیکھتے تھے۔ چنانچہ وصی کو اندازہ ہوا کہ گھر کتنی بڑی نعمت ہے۔ اسے اپنے بیوی بچے یاد آئے ، وہ لمحات بھی یاد آئے جب وہ ان کے ساتھ گھر پر کھانا کھاتا، آؤٹنگ کرتا اور زندگی سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ اسے سورج کی دھوپ یاد آنے لگی ، کھلی فضا کا خیال آیا، اڑتے ہوئے پرندوں کی چہچہاہٹ یاد آئی، تاروں کی جھلملاہٹ بھلی لگنے لگی۔ اسے علم ہوا کہ یہ وہ ساری نعمتیں جنہیں وہ فار گرانٹڈ لے رہا تھا ، کتنی قیمتی ہیں کہ ان کا کوئی نعم البدل نہیں۔
رپورٹس آتی چلی گئیں اور پلیٹ لیٹس کم ہونے کی ساری وجوہات ایک ایک کرکے مائنس ہوتی چلی گئیں۔ نہ ڈنگی تھا، نہ ہیپٹاٹس بی، سی ،نہ فولک ایسڈ کی کمی تھی اور نہ ہی کوئی اور وجہ۔ دوسری جانب پلٹ لیٹس کم ہوکر ۳۳ہزار پر آچکے تھے۔دوا تو کوئی خاص نہیں استعمال ہورہی تھی البتہ ٹوٹکے جاری تھے۔ کوئی پپیتے کے پتوں کا جوس پلا رہا تھا تو کوئی سیب کے جوس میں لیموں نچوڑ کر دے رہا تھا۔دوسری جانب وصی سارا دن ڈاکٹروں سے مغز ماری کرتا رہتا لیکن کوئی اسے تسلی بخش جواب نہ دیتا۔جنرل فزیشن دو منٹ کے لئے چیک اپ کے لئے آتا اور ہوا کی مانند چلا جاتا۔جب اس سے چھٹی کے متعلق کہا جاتا تو وہ یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ ابھی چھٹی نہیں ہوسکتی۔ وہ شاید جانتا تھا کہ یہ پینل کا مریض ہے اور اس سے خاصی رقم اینٹھی جاسکتی ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ پلیٹ لیٹس کی کمی کسی کی وجہ کوئی دوا کا اثر بھی ہوسکتا ہے ، کوئی وائرل انفیکشن بھی اور کوئی اور وجہ بھی۔ بالآخر اس جنرل فزیشن نے بون میرو کروانے کا کہہ دیا۔ بون میرو کا سن کر وصی کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے سن رکھا تھا کہ بون میرو کروانے سے آدمی معذور ہوجاتا ہے یا اس کی ریڑھ کی ہڈی میں کوئی خرابی ہوجاتی ہے۔ چنانچہ اس نےسختی سے ڈاکٹر کو اس عمل سے روک دیا۔ چنانچہ ڈاکٹر نے بھی کہہ دیا پھر انتظار کرنا پڑے گا۔
بہر حال جب وصی کو وہاں قیام کئے ہوئے پانچ دن ہوگئے اور نتیجہ کچھ برآْمد نہ ہوا تو اس نے اپنے دوست فیضان سے رابطہ قائم کیا اور مدد کی درخواست کی۔ فیضان نے ڈاکٹروں اور ہسپتال کی انتظامیہ سے بات کی اور بالآخر چھٹی حاصل کرہی لی۔ درحقیقت وصی اور اسکے گھر والوں کو ہسپتال کی انتظامیہ پر اعتماد نہ تھا ۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید یہ غلط رپورٹیں دے کر بل بنارہے ہیں۔جس دن ڈسچارج ہونا تھا اس دن اسکے پلیٹ لیٹس ۲۰ ہزار تک گر چکے تھے۔بہر حال ڈسچارج کا پراسیس شروع ہوگیا۔ وصی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ اس کے دیگر ساتھیوں نے آغا خان جانے کا مشورہ دیا۔ لیکن وہ خود کو بالکل فٹ محسوس کررہا تھا۔
ہسپتال میں رہ کر وہ بھول چکا تھا کہ باہر کا موسم کیسا ہوتا ہے۔ پانچ دن بعد جب رہائی ملی تو آسمان کو دیکھ کر وہ خدا کا شکر بجا لایا۔ اس وقت شام ہورہی تھی اور خوشگوار ہوا ہولے ہولے جسم سے مس ہورہی تھی۔ یہ سب کچھ اسے اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ بیان سے باہر تھا۔
آخر کار وہ گھر والوں کے ساتھ واپس گھر پہنچ گیا۔اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب وہ آغا خان یاکسی اور ہسپتال نہیں جائے گا بلکہ کچھ دن اطمینان سے فیملی کے ساتھ گذارے گا۔ اس نے احتیاطاََ ایک پلیٹ لیٹس کاؤنٹ اور ایک ڈنگی کاٹیسٹ آغا خان لیبارٹری سے کروالیا۔ ابھی وہ عصر اور مغرب کی نمازیں ادا کرکے لیٹا ہی تھا کہ جسم میں درد ہونا شروع ہو گیا۔ وہ سمجھا کہ شاید تھکن ہے لیکن درد بڑھتا گیا۔ جب تھرمامیٹر سے چیک کیا تو علم ہوا کہ بخار ہورہا ہے۔ اب گھر والے پھر سے پریشان ہوگئے۔ اور ایک دم اسے آغا خان لے کر بھاگے۔آغا خان میں ایمرجنسی میں پہنچے تو وہاں وہ صرف ان کیسز کو لے رہے تھے جن کی زندگی کو خطرہ تھا۔ چونکہ اس کے پلیٹ لیٹس ۲۰ ہزار تک آچکے تھے لہٰذا اس کو بھی ایمرجنسی میں داخل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ لیکن ابھی ایمرجنسی میں کوئی بیڈ خالی نہ تھا چنانچہ اسے باہر اسٹریچر پر لٹا دیا گیا۔
وہ اس بخار اور کمزوری کے باوجود کافی مطمئین تھا کیونکہ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ اب ڈنگی کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور یہ ڈنگی ہی ہے۔ کہاں تو لوگ ڈنگی سے پناہ مانگتے ہیں اور کہاں وہ ڈنگی کا رزلٹ پازیٹیو ہونے کی تمنا کررہا تھا۔ وہ اللہ کا شکر ادا کرنے لگا کہ اس جگہ اس نے پہنچادیا۔ وہ اسٹریچر پر لیٹے ہوئے سوچ رہا تھا کہ انسان کتنا بے بس ہے گھڑی میں دوسروں کے رحم و کرم پر۔ لیکن اللہ نے بھی ایسا نظام بنایا ہوا ہے کہ لوگ اس کی مدد کے لئے مستعد رہتے ہیں۔
اس نے دیکھا کہ ایک نوجوان کو اسٹریچر پر تیزی سے اندر لے کر گئے اور کچھ ہی دیر بعد باہر لے آئے کیونکہ اس کا انتقال ہوچکا تھا۔ شاید وہ اسکوٹر کے حادثے میں ہلاک ہوا تھا۔ ایک اور نوجوان اس کے برابر اسٹریچر پر لٹادیا گیا جس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا اور وہ بھی ایمرجنسی میں اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔
خدا خدا کرکے قریب ڈھائی گھنٹے بعد اس کا نمبر آیا اور وہ ایمرجنسی میں منتقل کردیا گیا۔ ایمرجنسی میں اس کے ساتھ اس کا دوست فیضان تھا اور باقی گھر والوں کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔رات کا ایک بج رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ایک ڈاکٹر آیا اور اس سے ہسٹری لینے لگا۔ اس نے گذشتہ پانچ دنوں کی داستان سنادی۔ پھر ڈاکٹر نے ایڈمیشن کا پراسیس شروع کرنے کے لئے کہا۔ اس کا دوست فیضان ایڈمیشن کروانے چلا گیا۔ اس دوران اس نے کھانا کھا یا اور عشا کی نماز پڑھ لی۔ کچھ دیر بعد ایک نرس آئی اور اس کے ہاتھ میں ایک موٹا سا کنولہ لگاکر چلی گئی۔ یہ کنولہ خاصہ تکلیف دہ تھا۔
کچھ دیر بعد وہ غنودگی مین چلا گیا۔ اچانک برابر والے بیڈ پر ایک پیشنٹ آیا اور اسکی باتوں سے اسکی آنکھ کھل گئی۔ اس نے سنا کہ وہ ڈاکٹر کو بتا رہا ہے کہ اس کا جسم نشے کے انجکشن لگا لگا کر چھلنی ہوچکا ہے یہاں تک کہ کہ ان نے شرمگاہ کی نسوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ یہ سن کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔انسان لذت کے حصول کے لئے اس پستی تک بھی گر سکتا ہے، یہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
————————–
صبح کو الٹرا ساؤنڈ کے لئے لے جایا گیا اور پھر وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔ چونکہ یہاں وہ پینل پر نہیں تھا بلکہ پرائیوٹ پیشنٹ کے طور پر تھا اس لئے جنرل وارڈ منتخب کیا۔ اس جنرل وارڈ میں دائیں جانب ایک ۷۰ سالہ بوڑھا لیٹا ہوا تھا جس کے منہ میں کھانے کی نلکی لگی تھی اور ان کا جسم مسلسل لرز رہا تھا۔ یہ پارکنسن نامی ایک بیماری کا شکار تھا۔ سامنے ایک ۴۰ سالہ شخص لیٹا ہوا تھا۔ اس کے بھائی نے بعد میں بتایا کہ وہ کوئٹہ سے آیا ہے اسکے بھائی کو وہاں ایک قبائلی جھگڑے میں گولیاں لگی ہیں وہ ایک غریب آدمی ہے اسکے قبیلے والوں نے پیسے جمع کرکے اسے علاج کے لئے یہاں بھیجا ہے۔ بائیں جانب ایک اور ضعیف صاحب تھے ان کے پیٹ میں نلکی لگی ہوئی تھی۔ انہیں پھیپڑوں کی کوئی بیماری تھی اور کینسر کا شبہ تھا۔ ایک اور بیڈ پر ایک درمیانی عمر کے صاحب موجود تھے۔
اس وارڈ میں وصی وہ اکیلا شخص تھا جو اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا چل کر باتھ روم جاسکتا تھا ۔ باقی تمام مریضوں کے پیشاب کی نلکی لگی ہوئی تھی۔ صبح ہوچکی تھی۔اس نے ناشتہ کیا اور اپنےدوست فیضان سے معذرت کی کہ وہ اس کو تکلیف دینے کا سبب بن رہا ہے۔فیضان نے غصے کا اظہار کیا کہ وہ ایسی باتیں کیوں کررہا ہے۔ کچھ دیر بعد پھر ڈاکٹروں کا تانتا بندھ گیا۔یہ ڈاکٹر زیادہ تر ٹریننگ حاصل کرنے والے اسٹوڈینٹ یا ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹرز تھے۔
صبح اسپیشلسٹ ڈاکٹرز آئے اور انہوں نے رپورٹ دیکھنے کے بعد کھل کر بتادیا کہ معاملہ کوئی آسان نہیں بلکہ بون میرو کرنا پڑے گا۔گویا قسمت کا چکر اسے دوبارہ اسی مقام پر لے آیا تھا جہاں سے وہ چلا تھا۔
—————
اس نے زندگی میں ہفتے کے بے شمار خوشگوار دن ویک اینڈ کے طور پر گذارے تھے لیکن ویک اینڈ بڑا ہی عجیب تھا ۔ ملاقاتی جاچکے تھے۔ کھڑکی اس پار ڈھلتی ہوئی دھوپ آنے والے رات کی نوید دے رہی تھی۔ اور اپنے بستر پر پڑا بے یارو مدد گار سوچ رہا تھا کہ اب کیا ہوگا؟ کس طرح بون میرو ہوگا اور کیسے سوئی ہڈی میں گھسے گی اور کس طرح گودا نکالا جائے گا؟ اسے پہلی مرتبہ اپنی لاچارگی اک احساس ہوا۔ لیکن پھر شرم بھی آئی کہ وہ معمولی سی تکلیف پر آہ و بکا کرنے لگ گیا تھا۔ اس نے تو خدا کی رضا کے لئے جان تک دینے کا دعوٰی کیا تھا اور یہاں تو بات صرف ایک بون میرو کی تھی۔

اسے بے اختیا ر حضرت ایوب علیہ السلام یاد آگئے۔ وہ اپنے علاقے کہ سب سے مالدار اور خوشحال فرد تھے۔ چنانچہ شیطان نے خدا سے کہا کہ ایوب ؑ تو اپنے رب کا شکر ادا کریں گے ہی کیونکہ ان پاس مال اور اولاد کی کثرت ہے۔ چنانچہ خدا نے شیطان کو چیلنج کیا کہ جا تو اس کے مال کو برباد کرکے دیکھ لے وہ پھر بھی میرا شکر گذار ہی رہے گا۔چنانچہ حضرت ایوب ؑ کے مویشی مر گئے، فصل اجڑ گئی اور اولاد مرگئی ۔ یہ دیکھ کر وہ بول اٹھے۔
"خدا نے دیا خدا نے لیا، خدا کا نام مبارک ہو”۔
جب شیطان کو اس میں ناکامی ہوئی تو اس نے پھر چیلنج کیا کہ اگر ایوب ؑ کی صحت بگڑ جائے تو یہ اپنی شکر گذاری چھوڑ دیں گے۔ چنانچہ حضرت ایوب کو جلد کی بیماری ہوگئی اور اور وہ کئی برس اس میں مبتلا رہے یہاں تک کہ ان کی بیوی کے سوا باقی سب نے ان سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔لیکن آپ نے شکایتی رویئے سے بچتے ہوئے خدا کی شکر گذاری، حمد و ثنا جاری رکھی۔ جب شیطان ادھر بھی شکست کھاگیا تو اللہ نے حضرت ایوب ؑ کو پہلے سے زیادہ بہتر صحت، مال اور اولاد عطا فرمائی۔
وصی سوچنے لگا کہ کتنے عظیم تھے یہ لوگ کہ کبھی ایک لفظ بھی شکایت کا زبان پر نہیں لائے ۔ چنانچہ اس نے صبر و استقامت سے اس پریشانی کو جھیلنے کی ٹھان لی۔
—————-
تمام ٹیسٹ کے رزلٹس آچکی تھے اور نتیجہ وہی تھا ڈھاک کے تین پات۔ یعنی پلیٹ لیٹس کم ہونے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی تھی ۔اب بون میرو کروانا ناگذیر ہوچلا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ آیا پلیٹ لیٹس بن بھی رہے ہیں یا نہیں ۔ اگر ان کی پروڈکشن نہیں ہوتی تو بلڈ کینسر کا شبہ ہو سکتا تھا۔
تمام گھر والے شام کو مل کر جاچکے تھے۔سب نے بون میرو کروانے کی اجازت دے دی تھی۔اس نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ بون میرو کے لئے تیار ہے۔ڈاکٹر نے پہلے تو کہا کہ بون میرو صبح ہی ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ وصی بون میرو کے لئے خود کو تیار کرنے لگا۔
اچانک رات آٹھ بجے ڈاکٹر دوبارہ آدھمکا اور کہا کہ وہ ابھی بون میرو ٹیسٹ کرنے والا ہے۔ پہلے تو وصی کو یقین نہیں آیا لیکن ڈاکٹر کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر اس نے ہتھیار ڈال دئیے۔اس نے ڈاکٹر سے نماز پڑھنے کی اجازت مانگی ۔ نماز میں اس نے خدا سے اسکی رحمت، سلامتی اور نگہبانی کی درخواست کی۔
نماز کے بعد وہ بستر پر لیٹ گیا اور ڈاکٹر کا انتظار کرنے لگا۔ وہ رات کچھ عجیب سی لگ رہی تھی۔ برابر لیٹے ہوئے بزرگ پارکنسن کی بنا پر آج معمول سے زیادہ حرکت کررہے تھے۔سامنے آئی سی یو وارڈ میں بھی رش لگا ہوا تھا۔شاید کوئی مریض آخری سانسیں لے رہا تھا اور باہر اس کے لواحقین آہ و بکا میں مصروف تھے۔ اسے یوں لگا کہ اس کہ اس بھی آخری وقت ہو۔اس نے سوچا کہ صبر کی تلقین کرنا بہت آسان ہے لیکن اسے جھیلنا بہت مشکل۔ یہ خدا ہی ہے جو انسان کو تکلیف میں دیکھ کر اپنا سہارا دیتا ، اسے سنبھالتا اور مشکل سے نکال لیتا ہے وگرنہ کسی انسان کے پاس وہ وسائل اور صلاحیت نہیں کہ اپنا مورال بلند کرسکے۔
وہ بستر پر پڑا اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اچانک اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا یاد آگئی۔ جب حضرت موسیٰ سے ایک آدمی کا غلطی سے قتل ہوگیا تو وہ مصر سے فرعون کے ظلم و ستم سے بچنے کے لئے مدین کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں دیکھا تو دو عورتیں ایک کنویں کے پاس کھڑی ہیں اور وہ اپنے جانوروں کو رش کی بنا پر پانی پلانے سے قاصر ہیں۔ حضرت موسیٰ ان کے جانوروں کو پانی پلادیتے ہیں اور پھر سائڈ میں بیٹھ اپنی بے سرو سامانی کا جائزہ لیتے ہیں۔ نہ کوئی مال نہ دولت، نہ کوئی جان پہچان اور نہ کوئی آسرا۔ اس بے سرو سامانی میں ایک اللہ ہی کا سہارا تھا۔ چنانچہ آپ اللہ سے بڑی دلسوزی کے ساتھ دعا مانگتے ہیں ۔” اے اللہ میں محتاج ہوں اس خیر کا جو تیری طرف سے نازل ہوتا ہے”۔
وصی ابھی یہ دعا مانگ کر چکا ہی تھا کہ ڈاکٹرز آگئے انہوں پہلے تو اسے ایک نیند کا انجکشن دیا پھر کمر کی جانب سن کرنے کا لوشن لگایا۔کچھ دیر بعد ایک سوئی اسے چبھتی ہوئی محسوس ہوئی۔ نیند اور سن کے اثر کے باوجود خاصی تکلیف دہ عمل تھا۔کیونکہ سرنج کے ذریعے ہپ کی ہڈی سے گودا نکالنا تھا۔بہرحال جب سرنج ہڈی میں گھسی تو اس کی چیخیں نکل گئیں۔ لیکن اس ساتھ ہی اسے یوں محسوس ہوا کہ کسی ہستی نے اسے تھا م لیا ہو اور اس کے درد کی شدت کو مساج کرکے کم کردیا ہو۔ سرنج دوبارہ ڈالی گئی اور یوں ڈاکٹرون نے گودا نکال لیا۔ دس منٹ کے بعد اسے سیدھا لٹادیا گیا۔ ابھی وہ سیدھا ہوکر اپنے درد کو محسوس ہی کررہا تھا کہ ایک اور افتاد آن پڑی۔ وہ یہ کہ اس کے پلیٹ لیٹس ۹۰۰۰ تک گر چکے تھے اور اس سطح پر پلیٹ لیٹس کو چڑھانا ناگزیر ہوچلا تھا۔بہرحال پلیٹ لیٹس چڑھادئیے گئے اور وہ سوگیا۔صبح جب اٹھا تو اتوار کا دن تھا۔اسے یہی خوف دامن گیر رہا کہ کہیں بون میرو کا زخم خراب نہ ہوجائے۔ شام کو پلیٹ لیٹس کی رپورٹ آئی تو وہ بائس ہزار ہوچکے تھے۔اس نے سکون کا سانس لیا۔
اتوار کی صبح اس کی آنکھ کھلی تو خوف کی بنا پر وہ باتھ روم تک جانے سے کترانے لگا کہ کہیں بون میرو کا زخم ہرا نہ ہوجائے۔ بون میرو کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہ معلوم کی جائے کہ پلیٹ لیٹس کم ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اس کا ایک سبب کینسر بھی ہوسکتا تھا جس میں پلیٹ لیٹس بننے کا عمل ختم ہوجاتا ہے۔ پلیٹ لیٹس کم ہونے کی دیگر وجوہات ہیپاٹائٹس سی، فولک ایسڈ کی کمی، ڈنگی، ملیریا، ایڈز اور دیگر وجوہات تھیں جو اس کے کیس میں رول آؤٹ ہوچکی تھیں۔اب دو ہی آپشن باقی تھے ۔ یا تو یہ کینسر تھا اور یا پھر ایک مرض آئی ٹی پی تھا۔
وصی کو ہسپتال میں کئی دن ہوچکے تھے۔ وہ شام کے وقت کھڑکی سے باہر ڈھلتی ہوئی دھوپ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ یہی سوچ رہا تھا کہ زندگی اور صحت کتنی بڑی نعمت ہے ۔ صحت ایک بادشاہ کے سر پر سجنے والا ایک تاج ہے لیکن یہ تاج صرف بیماروں ہی کو نظر آتا ہے۔ وصی کو یہ تاج بخوبی نظر آرہا تھا۔ اس بیماری کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ وہ اس آزمائش میں بری طرح ہل چکا تھا۔ وہ جب اپنے پتے کا آپریشن کروانے گیا تھا تو ذہنی طور پر تیار تھا اور صبرو استقامت کا پیکر بنا ہوا تھا۔ لیکن جب معاملات توقعات کے برعکس ہونے لگے اور مصیبت نے اپنا رنگ بدل لیا تو اس کے صبر و استقامت کی کیلکولیشن بھی بگڑنے لگی۔اسے حضرت یوسف علیہ السلام یاد آنے لگے جنہیں ابتدائی عمر ہی سے آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیا گیا تھا۔ ان کے بچپن ہی میں بھائیوں نے انہی کنویں میں دھکیل دیا اور پھر قافلے والے انہیں اپنے ساتھ مصر لے گئے اور غلام بنا کر بیچ دیا۔ وہاں آقا نے بہت اچھا سلوک روا رکھا لیکن اس کی بیوی حضرت یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہوگئی۔ اس کے ظلم سے بچنے کے لئے آپ نے قید خانے کو ترجیح دی جہاں آپ کئی سال تک مقید رہے۔ پھر خواب کی تعبیر بتانے کے باعث آپ کو قید سے باعزت رہائی ملی اور مصر کے خزانوں پر حاکم بنے۔ لیکن اس پورے عمل میں آپ پر پے درپے آزمائیشیں آئیں اور وہ ساری آزمائشیں ایسی تھی جنکے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاسکتی تھی۔
اب وصی ایک عام آدمی کی مانند بستر پر لیٹا اپنے مستقبل سے بے خبر تھا۔ اس کے دل میں طرح طرح کے وسوسے آرہے تھے لیکن وہ ان کو جھٹک کر اللہ پر توکل کی کوشش کررہا تھا۔ اس نے ابھی تک زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکالی تھی جس کی بنا پر اسے بے صبرا قرار دیا جاسکتا ہو۔ اس کے دوست احباب اور رشتے دار جب بھی اس سے ملتے تو وہ انہتائی صبر کا مظاہرہ کرتا ۔لیکن دل میں خوف اپنی جگہ موجود تھا۔ خوف اور وسوسوں کا آنا غیر اختیاری تھا اس لئے اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ اس کا اصل کام زبان کو قابو رکھنا اور اختیاری امور میں اللہ کے احکامات کے آگے سر تسلیم خم کردینا تھا۔ چنانچہ اس دوران اس نے نماز سے روگردانی نہیں کی۔ لوگ نماز کو ایک بوجھ سمجھتے اور اسے چھوڑنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ جبکہ نماز ایک نعمت ہے۔ یہ اللہ سے تعلق کا اظہار اور اسکی مدد کی علامت ہے۔ قرآن میں بھی واضح طور یہ آتا ہے کہ صبر اور نماز سے مدد لو۔
پیر کو بون میرو کی ابتدائی رپورٹ آگئی۔خدا کا شکر تھا کہ کینسر نہیں تھا۔ چنانچہ ڈاکٹروں نے یہی تشخیص کیا کہ یہ آئی ٹی پی (ITP) کا مرض تھا جس کا مطلب ہے ۔ Immune Thrombocytopenic Purpura
اس مرض میں انسان کا دفاعی نظام پلیٹ لیٹس کو دشمن سیل سمجھ کر کر ختم کرنا شروع ہوجاتا ہے ۔ انسان کا دفاعی نظام ایک بڑی نعمت ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان ایک معمولی سے بیکٹیریا کا حملہ بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔ لیکن وصی کے کیس میں اس نظام کی بنا پر خون کا ایک اہم جز کم ہورہا تھا۔ اس مر ض کا علاج یہی تھا کہ اسٹیرائڈز دے کر دفاعی نظام کو مفلوج کردیا جائے۔
وصی کو ڈاکٹروں نے یہ بات بتا دی لیکن اس طرح نہ بتائی کہ تشفی ہوجاتی۔ہمارے ہاں پرائیوٹ اسپتالوں میں بھی مریض کو مطمئین اورایجوکیٹ کرنے کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا جس سے اس کا اعتماد بھی بحال نہیں ہوتا اور وہ آگے کے اقدامات لینے سے قاصر رہتا ہے۔
بہرحال پلیٹ لیٹس میں بہتری آنی شروع ہوگئی تھی۔وہ پیر کو ۳۳ ہزار جبکہ منگل کو ۴۱ ہزار کے قریب ہوچکے تھے۔صبح کو ڈاکٹروں نے یہ بتایا کہ اسے چھٹی دی جارہی ہے۔ وصی کو خوشی اور خوف کی ملی جلی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا۔ خوشی تو دوبارہ زندگی میں واپسی کی تھی جبکہ خوف اس بات کا کہ پلیٹ لیٹس اگر کم ہوگئے تو کیا ہوگا۔ اسے ایک اسپیشلسٹ کو ریفر کردیا گیا تھا۔
جب وہ دوپہر کو اسپتال سے گھر واپس ہونے لگا تو زندگی کی نعمت بہت اچھی لگنے لگی۔ جب وہ گھر واپس آیا تو اس نے انٹرنیٹ پر آئی ٹی پی کے بارے میں پڑھا۔ اسے علم ہوا کہ اس کا آئی ٹی پی خطرناک نہیں۔ اس مرض میں لوگوں کے منہ ، ناک اور دیگر نازک مقامات سے خون آنا شروع ہوسکتا ہے اور جسم پر ریڈ اسپاٹ پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اس میں اس قسم کی کوئی علامت نہین تھی۔البتہ اس کے پیٹ کا درد اپنی جگہ پر قائم تھا۔ اس کے لئے اس نے گیسٹرو انٹرالوجسٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے امید تھی کہ جس رب نے پلیٹ لیٹس کے مسئلے کو حل کیا وہ اس درد کو بھی حل کردے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔
اس نےبیماری کے فلسفے کو جب اس نے سمجھنے کی کوشش کی تو علم ہوا کہ اللہ ان آزمائشوں سے کس طرح بندے کے درجات بلند کرتے ہیں۔ ان مشکلات سے انسان اس دنیا میں بھی مصائب سے لڑنے کی ٹریننگ حاصل کرتا ہے اور پھر تزکیہ نفس کے ذریعے وہ مزید صبر، توکل اور استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اسے علم ہوتا ہے کہ کیوں خدا کا شکر کرنا ضروری ہے کہ اگر خدا چاہے تو انسان کو مصیبت میں مبتلا ہی رہنے دے۔ نیز انہی مواقع پر یہ پتا چلتا ہے کہ کو ن خدا کا بندہ ہے اور کس کا دعوہ بندگی جھوٹا ہے۔

از پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com

Advertisements

6 responses to this post.

  1. Posted by نصراللہ on 10/07/2014 at 3:25 شام

    ماشاءاللہ

    جواب

  2. Posted by نصراللہ on 10/07/2014 at 3:23 شام

    السلام علیکم.
    آج کل میں بھی بہت بیمار ہوں. آپ کی تحریر پڑھ کر مجھے بہت بڑا سبق حاصل ہوا ہے. وہ یہ کہ اللہ سے اپنا ناطہ جوڑے رکھنا ہے. اس کا شکر ادا کرتے رہنا ہے.
    جزاک اللہ..

    جواب

  3. Posted by گمنام on 22/10/2012 at 12:58 شام

    professor Shb Allah ap ko jaza e khair day men iak intehai gunehgar aur kazoor insan hon liaken is tehreer ko prhnay k bad pur umeed hon keh Allah kareem humain aisi aazmishon se bachaey ya humian wasi jaisa hosla musbat soch aur khod se usi trah attachment aur mohabbat paida kary berhal mazmoon taveel liaken intehai pur asar aur soch pe grit rkhnay wala tha

    جواب

    • محترم گمنام صاحب
      السلام علیکم
      امید ہے کہ آپ خیریر سے ہونگے۔ مضمو پسند کرنے کا شکریہ۔ امید ہے کہ آئیندہ بھی اپنے قیمتی فیڈ بیک اور مشوروں سے نوازتے رہیں گے

      جواب

  4. جناب عقیل صاحب،
    اس تحریر کا جواب نہیں ہے، کاش ہمارے یہاں اس قسم کا ادب تحریر ہوتا۔ ہماری سب سے بڑی مصیبت ہی یہی ہے کہ ہمارا اپنے ہی رب سے تعلق کمزور ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے جگہ جگہ ہم ضعف کا شکار ہیں۔ اور یہی اس افسانہ کی خوبی ہے کہ اس میں تعلق باللہ کو مصائب اور تکالیف کے حوالے سے مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
    میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث وہ ریسرچ ہے جو آپ نے طبی اصطلاحات اور تشخیص کے ضمن میں کی ہے۔ یورپ میں تو ان موضوعات پر لکھتے ہوئے احتیاط اور تحقیق کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے لیکن اردو ادب اس سے بالکل خالی ہے۔ تحریر اگر تھوڑی مختصر ہوتی تو اس میں چار چاند لگ جاتے۔ لیکن باوجود طوالت کے اس تحریر کی قاری پر گرفت قابل داد ہے۔

    جواب

    • محترم ڈاکٹر جواد صاحب
      السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
      امید ہے آپ خیریت سے ہونگے۔ آپ کے تبصرے کا بہت بہت شکریہ۔ آپ کے تبصرے میرے لئے ہمت افزائی کا سبب ہیں۔ ہمارے ہاں فیڈ بیک دینے کا کوئی رحجان نہیں۔ جس کی بنا پر لکھنے والے کو علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کی تحریر کا کیا ہوا ہے۔ آپ کا فوری رسپانس یقنی
      طور پر اس خاموش ماحول میں ایک خوشگوار آواز معلوم ہوتی ہے۔


      Professor Muhammad Aqil

      جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s