یوم سبت کا واقعہ


(الاعراف ۔ ۷: ۱۶۶-۱۶۳ )
ترجمہ
اور ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھئے جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ وہ لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے۔ ہفتہ کے دن تو مچھلیاں بلند ہوہو کر پانی پر ظاہر ہوتی تھیں اور ہفتہ کے علاوہ باقی دنوں میں غائب رہتی تھیں۔ اسی طرح ہم نے انہیں ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے آزمائش میں ڈال رکھا تھا۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ان میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا : ”تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے؟” تو انہوں نے جواب دیا: اس لیے کہ ہم تمہارے پروردگار کے ہاں معذرت کرسکیں اور اس لئے بھی کہ شاید وہ نافرمانی سے پرہیز کریں۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو (بالکل ہی) فراموش کر دیا جو انہیں کی جارہی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان لوگوں کو جو ظالم تھے، ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے بہت برے عذاب میں پکڑ لیا۔ پھر جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرتے رہے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں حکم دیا کہ: ”ذلیل و خوار بندر بن جاؤ”۔
تفصیل و وضاحت
یہود کو ہفتے والے دن شکار کی ممانعت تھی۔ اب ان کی آزمائش یہ ہوئی کہ ہفتے والے دن ہی مچھلیاں زیادہ تر نمودا ر ہوتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک چور راستہ یہ نکالا کہ ساحل پر چھوٹی چھوٹی نالیاں بنادیں اور ان نالیوں کو ایک تالاب میں گرا دیا۔ اب ہفتے کو جب مچھلی زیادہ تعداد میں نمودار ہوتیں تو ان نالیوں میں پھنس کر تالاب میں گرجاتیں ۔ پھر لوگ انہیں اتوار کی صبح پکڑ لیتے تھے۔ یہ چونکہ قانون کی خفیہ خلاف ورزی تھی بلکہ ایک طرح سے اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش تھی اس لئے اس پر سخت سزا دی گئی۔ رہی یہ بات کہ ان کی شکلیں فی الواقع بندروں جیسی بن گئی تھیں یا نہیں تو اگرچہ بعض لوگوں نے اس کا انکار کیا تھا تاہم راجح قول یہی ہے کہ وہ فی الواقع بندر بنا دیئے گئے جو ایک دوسرے کو پہچانتے، چیخیں مارتے اور روتے تھے پھر اسی حالت میں تین دن کے بعد مر گئے اور بعض کہتے ہیں کہ ان کے چہروں میں اس قسم کا ورم پیدا ہوا جس سے ان کے چہرے بالکل بندروں جیسے معلوم ہوتے تھے۔ آخر اسی حالت میں تین روز بعد مر گئے اور یہ واقعہ سیدنا داؤد علیہ السلام کے زمانہ میں پیش آیا تھا۔
یہ وہ لوگ تھے جو خود تو مچھلیاں پکڑنے کے جرم کے مرتکب نہیں تھے مگر پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے۔ جب اللہ کا عذاب آیا تو صرف وہ لوگ بچائے گئے جو خود بھی مچھلیاں نہیں پکڑتے تھے اور پکڑنے والوں کو منع بھی کرتے رہے اور اس درمیانی گروہ کو محض اس لیے سزا ملی کہ وہ اس گناہ کے کام سے منع کیوں نہ کرتے تھے۔ گویا جیسے کوئی برائی کرنا جرم ہے ویسے ہی برائی سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جیساکہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔
تذکیری و اخلاقی پہلو
۱۔نہی عن المنکرکا فریضہ:۔ ١۔ ایک حدیث میں بیان ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والوں اور خلاف ورزی دیکھ کر خاموش رہنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے ان لوگوں کی جنہوں نے کسی جہاز میں بیٹھنے کے لیے قرعہ اندازی کی۔ کچھ لوگوں کے حصے میں نچلی منزل آئی اور دوسروں کے حصہ میں اوپر کی منزل۔ اب نچلی منزل والے جب پانی لے کر بالائی منزل والوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں اس سے تکلیف پہنچتی۔ یہ دیکھ کر نچلی منزل والوں میں سے ایک نے کلہاڑی لی اور جہاز کے پیندے میں سوراخ کرنے لگا۔ بالائی منزل والے اس کے پاس آئے اور کہا تمہیں یہ کیا ہو گیا ہے۔ اس نے جواب دیا تمہیں ہماری وجہ سے تکلیف پہنچی اور ہمارا پانی کے بغیر گزارا نہیں۔ اب اگر اوپر والوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو اسے بھی بچا لیا اور خود بھی بچ گئے اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اسے بھی ہلاک کیا اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کیا۔” (بخاری۔ ۔ کتاب الشرکۃ ہل یقرع فی القسمۃ۔ نیز کتاب الشہادات۔ باب القرعۃ فی المشکلات۔)
٢۔ایک اور روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص تم میں سے کوئی(اپنے دائرہ اختیار میں) برائی دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے روکے یہ بھی نہ کر سکے تو دل میں ہی برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔” (مسلم، کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکر من الایمان)
۲۔اصحاب السّبت پر عذاب کی نوعیت:۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ قرآن میں ان تینوں گروہوں میں سے ایک کے متعلق فرمایا کہ ہم نے برائی سے منع کرنے والوں کو بچا لیا اور جو نافرمانی کرنے والے تھے انہیں عذاب میں پکڑ لیا۔ رہا درمیان میں تیسرا گروہ جو خود نافرمانی نہیں کرتا تھا اور منع بھی نہ کرتا تھا اس کے لئے قرآن نے سکوت اختیار کیا ہے تو ہمیں بھی سکوت اختیار کرنا چاہیے۔ ایک تیسرا قول یہ ہے کہ عذاب دو طرح کے آئے تھے۔ ایک بڑا عذاب جس میں دونوں گروہ ماخوذ ہوئے نافرمانی کرنے والے بھی اور برائی سے منع نہ کرنے والے بھی اور دوسرا عذاب بندر بنا دینے کا تھا اور وہ حد سے گزرنے والوں کے لیے تھا اس عذاب میں صرف وہی لوگ ماخوذ ہوئے جو نافرمان تھے۔
۳۔حیلہ سازی:
یوم سبت سے ایک سبق یہ ملتا ہے کہ اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش نافرمانی سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ سبت یعنی ہفتے کے دن ان لوگوں نے مچھلی کا براہ راست شکار تو نہ کیا اس کے لئے ایک ناجائز حیلہ اختیار کیا۔ اس پر عام نافرمانی کے مقابلے میں بڑا عذاب نازل ہوا۔
تحریر و ترتیب: پروفیسر محمد عقیل
نوٹ: اس تحریر کی تفصیل و وضاحت مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کی تفسیر تیسیر القرآن سے کاپی کی گئی ہے۔

Advertisements

One response to this post.

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s