شب قدر اور فرشتے سے مکالمہ


سلیم کی آنکھ نماز پڑھتے پڑھتےآنکھ لگ گئی۔ اچانک اس نے خواب میں دیکھا کہ آسمان چاروں طرف سے فرشتوں سے بھرا ہے۔ جو ق درجوق فرشتے آسمان سے اترتے چلے جارہے ہیں۔ کچھ فرشتے نیچے اترنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ۔ دو فرشتے اس کے قریب سے گذرے تو اس نے سوچا کہ ان کی باتیں سنی جائیں۔ چنانچہ وہ ان کے ساتھ ہولیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ آج کی رات پرورردگار عالم نے اہم فیصلے کرنے ہیں اور لوگ ہیں کہ انہیں اندازہ ہی نہیں یہ

کتنی اہم رات ہے۔
اچانک سلیم کا جی چاہا ہے ان کے بات چیت کرے۔ وہ ان کے قریب گیا اور سلام عرض کیا۔ فرشتوں نے مسکراکر جواب دیا۔
"کیا میں آپ سے بات چیت کرسکتا ہوں؟ ” سلیم نے پوچھا۔
” جی ضرور! فرمائیے!”
” مجھے یہ پوچھنا ہے کہ پاکستان کے لوگ اتنی عبادتیں کرتے ، اتنی دعائیں مانگتے، اتنے روزے رکھتے اور اتنی زکوٰۃ دیتے ہیں لیکن پھر بھی اس ملک کا برا حال ہے۔ عوام چکی میں پس رہے ہیں،غربت، افلاس ، بھوک، دہشت گردی، قتل و گردی لگتا سے سب مسائل نے اسی ملک میں ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ کیا خدا نے نہیں کہا کہ دعا کرو میں سنوں گا؟ پھر خدا ہماری سنتا کیوں نہیں؟ کیا وہ رحمان و رحیم نہیں ہے؟”
فرشتوں نے بغور اس بات کو سنا اور پھر ان میں سے ایک فرشتہ گویا ہوا:
” کیا دل میں درد کا علاج سردرد کی گولی سے کیا جاسکتا ہے؟”
سلیم اس سوال پر سٹپٹایا گیا اور کہنے لگا ۔” نہیں ، ہر مرض کی اپنی ایک دوا ہوتی ہے۔”
” اچھا یہ بتاؤ اگر خدا حکم سے روزے کا تو کیا کوئی شخص ایک ہزار نمازیں پڑھ کر یہ کہے کہ میں روزہ تو نہیں رکھ سکتا ، یہ قبول کرلیں؟ یا کوئی زکوٰۃ کی جگہ حج کرنے چلا جائے اور زکوٰۃ نہ دے ؟ تو کیا اس کا یہ عمل قبول کیا جاسکتا ہے؟ نہیں نا۔ اگر حکم نماز کا ہے تو نماز پڑھنی ہے، زکوٰۃ کا ہے تو زکوٰۃ ہی دینی ہے۔ اگر کوئی یہ نہیں کرے گا تو اس کا خمیازہ بھگتے گا۔”
فرشتے نے طویل خطاب کیا ۔ سلیم اس کی بات غور سے سن رہا تھا۔فرشتہ پھر گویا ہوا:
” تم لوگوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ تم اب تک مرض کی غلط تشخیص کرتے رہے ہو ۔ پوری قوم کو اخلاقیات کا کینسر ہوچکا ہے اور تم اس کا علاج پونسٹان سے کررہے ہو۔ ہر میدان میں اخلاقی طور پر انہتائی زوال کا شکار ہو اور اس کی اصلاح تو درکنار اسے مسئلہ ہی نہیں سمجھتے۔ تمہارے کاروبارجھوٹ، بددیانتی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، ملاوٹ ، دھوکا دہی اور استحصال سے عبارت ہیں ۔ تمہارے ادارے کرپشن ، لوٹ مار، بددیانتی، صارف پر ظلم و ستم اور بدتمیزی کی اعلی مثالیں ہیں۔ تمہاری معاشرت چغلی، بہتان ، بدگمانی، غیبت اور اسراف میں سب سے آگے ہے۔ اس کے باوجود تم کہتے ہو کہ پاکستان کے حالات کیوں نہیں بدلتے؟”
” لیکن یہ سب کچھ تو حکمرانوں کی بنا پر ہورہا ہے۔ عوام الناس تو بے قصور ہے۔” سلیم نے صفائی دینے کی کوشش کی تو فرشتے نے اس کی بات بیچ میں سے کاٹ دی اور بولا:
” یہی تو المیہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص خود کو بے قصور بلکہ فرشتہ سمجھتا اور اپنے علاوہ ہر ایک کو قصور وارٹہراتا ہے۔ چونکہ عوا م اکثریت میں ہے اس لئے ٹی وی ،اخبارات، فیس بک سب کے سب دوسروں کو برا بھلاکہتے رہتے ا ور عوام کو بے قصور دکھاتے ہیں۔ کوئی آئنہ دیکھنے کے لئے تیار نہیں۔ حکمران بے شک برے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام بری ہے۔ وہ سارے جرائم جو حکمرانوں میں تم لوگ گنواتے ہو کیا تم میں خود موجود نہیں؟ کیا تم کرپشن نہیں کرتے، کیا بجلی نہیں چراتے، کیا جائداد کے لئے ماں باپ کو تم گھر سے نہیں نکالتے، کیا ملاوٹ تم نہیں کرتے، کیا جھوٹ تم نہیں بولتے؟ تو تم لوگوں کے سردار ایسے لوگ نہیں ہونگے تو کون ہوگا؟”
” لیکن یہ سب کچھ تو غریب لوگ نہیں کرتے امیر کرتے ہیں۔” سلیم نے صفائی دینے کی کوشش کی۔
” یہ بھی غلط کہا تم نے۔ جس کا جو داؤ لگتا ہے وہ اپنا کام کرتا ہے۔ ایک ٹھیلے والا کیا رمضان میں مہنگا نہیں بیچتا؟ کیا رکشے والا سی این جی بند ہونے کا بہانہ کرکے ناجائز منافع نہیں کماتا رہتا۔ کیا ایک دودھ والا پٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود دودھ کی قیمت زیادہ نہیں رکھتا؟”
اب سلیم کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ یہاں وہ آسانی سے بہانے بنا کر نہیں نکل سکتا۔ اسے بھی یا د آرہا تھا کہ وہ اپنے دفتر میں کس طرح کام چوری کرتا، کسٹمرز کو بے وقوف بناتا، فائلیں ادھر ادھر کرکے پیسہ بٹورتا تھا اور یہ سب وہ اس وجہ سے کرتا تھا کہ ” سب چلتا ہے۔” آخر اس نے فرشتے سے پوچھا ۔” اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟”
” کرنا کیا ہے۔ اپنی اخلاقی حالت درست کرو۔ دوسروں کے عیوب ٹٹولنے کی بجائے اپنے عیوب ٹٹولو۔ دوسروں کا احتساب کرنے کی بجائے اپنا احتساب کرو، دوسروں کو خدا کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بجائے خود کو اس جگہ پر لے جاؤ۔ ” فرشتے نے خشک سا جواب دیا۔
” یہ تو بہت مشکل کام ہے۔ یہ کس طرح ہوگا۔” سلیم نے گھبرا کر پوچھا
” کوئی مشکل کام نہیں۔ شب قدر میں جب عبادت کرتے ہو تو نمازوں کے ساتھ ساتھ کچھ دیر تم میں سے ہر شخص تنہائی میں بیٹھ جائے اور اپنا احتساب کرے کہ اس میں کیا کیا برائیاں ہیں۔ وہ دیکھے کہ اس نے کتنے لوگوں کا مال غصب کیا، کتنوں اپنی زبان سے تکلیف دی، کتنوں کو دھوکا دے کر فائدہ اٹھایا۔ اگلے مرحلے میں وہ خامیوں کو دور کرنے کا لائحہ عمل طے کرے۔ اللہ سے سچی توبہ کرے ، جو گناہ کیا اگر اس کی تلافی ممکن ہو تو ضرور کرے اور آئیندہ کے لئے وہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرلے۔ یہی دنیا کی فلاح ہے اور یہی آخرت کی بھلائی۔”
” لیکن ہم تو کمزو ر انسان ہیں ، دوبارہ شیطان اور نفس کے چنگل میں گرفتا ر ہوجاتے ہیں۔” سلیم نے کہا۔
” تو اللہ کی رحمت کس لئے ہے؟ ہم فرشتے اسی مدد کے لئے تو زمین پر اترتے ہیں کہ تمہارے دلوں پر سکینت نازل کریں، تم پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل کریں۔ کوشش کرنے والوں کی اللہ تعالی خود مدد کرتے ہیں۔”
” لیکن یاد رکھو۔ اگر تم نے یہ نہیں کیا تو پھر جو ہورہا ہے اس سے زیادہ سخت ہوگا۔ بارشیں مزید رک جائیں گی، پانی اور کم ہوجائے گا، بجلی غائب ہوجائے گی ، گرمی کی شدت سے مزید ہلاکتیں ہونگیں، ڈاکو گھروں میں دندناتے پھریں گے، خون کی ندیاں بہیں گی، دھماکے بڑھ جائیں گے، اور زیادہ نااہل حکمران مسلط ہوجائیں گے یہاں تک کہ سب کچھ ایک سیلاب میں بہہ جائے گا ۔ ”
” تو کیا پاکستان ٹوٹ جائے گا؟”
” بے وقوف! پاکستان ٹوٹے نہ ٹوٹے ، تم ٹوٹ جاؤ گے۔ تمہیں علم ہی نہیں یہ سارا عذاب تمہارے اپنے گھر کے لئے ہے، تمہاری بیوی بچے ، ماں باپ بہن بھائی کے لئے ہے، یہ سب تمہارے اپنے لئے ہے۔ اور تمہیں پاکستان کی فکر لگی ہوئی ہے۔ اپنے آپ کو بچاسکتے ہو تو بچالو۔” فرشتہ نے یہ اونچی آواز میں کہا اور اس کے بعد وہ دونوں اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوگئے۔
سلیم کی آنکھ کھل گئی۔ رات کے دو بج رہےتھے۔ اسے یوں لگا کہ اس کی آنکھیں نم ہوں ۔ وہ اٹھا اور اس نیت سے اٹھا کہ آج اس نے اپنی اخلاقی حالت سدھارنے کی جدوجہد کرنی ہے تاکہ اس کے حصے کی غلاظت سوسائٹی سے صاف ہوجائے۔
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Fatma khan on 13/07/2015 at 5:23 شام

    ماشا اللہ

    مرض کی تشخیص و علاج کا لاجواب انداذ

    عوام کی اکثریت، کی حالت کی طرف بہت اچھے اصلوب سے آپ نے توجّہ دلائی ہے. قوم کا اصل مرض یہی ہے جو آپ نے پیش کیا ہے کہ جب تک عوام کی اکثریت اپنے آپکو نہ بدلے گی حالات نہ صرف جوں کے توں رہیں گے بلکہ اُس "فرشتے” کے بقول حالات مزید بگڑ سکتے ہیں.

    اسی بات کی طرف ہر عالم ہر مولانا ہر امام و معلم توجّہ دلاتے رہتے ہیں مگر حالات ہیں کہ بگڑے ہوئے ہیں بہتری کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی. اللہ خیر کرے.

    فاطمہ خان

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s