محبت

رات کے دو بج رہے تھے۔ ایک ماہ کا بچہ ماں کے پہلو میں لیٹا ہو ا تھا۔ وہ نا معلوم وجوہات کی بنا پر مسلسل رورہا تھا۔ ماں ہر دس پندرہ منٹ بعد اٹھتی اور اس کا ٹمپریچر چیک کرتی۔ کبھی وہ اسے سینے سے لگاتی، کبھی کھڑی ہوکر ہلاتی تو کبھی لوریا ں دے کر تسلی دینے کی کوشش کرتی۔ ان سب کوششوں کے باوجود بچہ تھا کہ چپ ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ جب اس کیفیت میں دو گھنٹے مزید گذر گئے تو ماں کی ہمت جواب دے گئی۔ اس نے بچے کو سائڈ میں لٹایا اور غنودگی کے عالم میں نڈھال ہوکر لیٹ گئی۔ بچہ روتا رہا لیکن ماں تھکن کے باعث اپنے بچے کی جانب توجہ نہ کرپائی۔ماں کی پوری کوشش تھی کہ بچہ اس تکلیف سے نجات پاجائے اور چپ ہوجائے ۔ لیکن اسے خبر نہ تھی کہ بچے کو تکلیف کیا ہے اور اسے کس طرح دور کیا جاسکتا ہے۔ نیز وہ اپنی نیند ، تھکاوٹ اور دیگر بشری تقاضوں کی بنا پر اپنی خواہش پوری کرنے سے قاصر تھی ۔
کہتے ہیں کہ اللہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ یہ با ت شاید سمجھانے کے لئے کہی گئی ہے ورنہ اللہ کی محبت کا موازنہ کسی دوسرے کی محبت حتیٰ کہ ماں کی محبت سے بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ماں ایک مجبور ہستی جبکہ خدا خود مختار ذات، ماں ایک مخلوق جبکہ خدا خالق، ماں زمان و مکاں میں محدود جبکہ خدا اس سے ماوراء۔غرض ہر پہلو سے ماں کی ذات خدا کی ہستی سے کمتر اور محدود ہے ۔ چنانچہ جب خدا کے لطف و کرم کو ماں کی محبت سے تشبیہ دی جاتی ہے تو یہ موازنہ صرف تفہیم مدعا ہی کے لئے ہوتا ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اللہ اپنے بندوں پر بے انتہا مہربان، شفیق، نرمی کرنے والے اور لطف و کرم کرنے والے ہیں۔ وہ ہمیں بھوک لگنے پر لذت کام دہن کا بندوبست کرتے، پیاس لگنے پر ان گنت مشروبات مہیا کرتے، تھکن ہونے پر نیند کے ذریعے سکون فراہم کرتے اور کام کرنے کے لئے تازہ دم کرکے بیدار کرتے ہیں ۔ اسی طرح جنسی تقاضوں کی تکمیل کے لئے ہماری ہی جنس سے جوڑے بناکر تسکین مہیا کرتے، اس سے تخلیق کا عمل جاری کرتے اور نومولود بچوں کو ماں اور باپ کا سہارا فراہم کرتے ہیں۔ دوسری جانب نفسیاتی ضرورتوں کی تسکین کے لئے بھائی بہن، رشتے دار اور دوست احباب کے رشتوں سے زندگی کی محرومیوں کو دور کرتے ہیں۔ وہ یہ ساری نعمتیں بلا کسی محدودیت، تکان اور انقطاع کے کرتے رہتے ہیں۔
خدا کی محبت پر اگر لکھنا شروع کیا جائے تو سارے سمندر وں کی سیاہی خشک ہوجائے، سارے درخت قلم بن کر ختم ہو جائیں لیکن اس کی باتیں ختم نہ ہونگیں۔ ان سب احسانات کے باوجود اللہ اس دنیا کی سب سے زیادہ نظر انداز ہستی ہے۔ آج ہر جگہ ما ل و دولت کی باتیں ہیں، چمچماتی گاڑیوں کے تذکرے ہیں، عالیشان مکانات کے چرچے ہیں ، سیاسی برتری کی باتیں ہیں، اولاد کے تذکرے ہیں لیکن خدا کی باتیں کہیں نہیں، یہاں تک کہ مذہبی مجلسوں میں بھی انسانی شخصیات کی بڑائیاں تو موجود ہیں لیکن خدا کی ذکر اگر ہے بھی تو ایک رسم کے طور پر۔
اس نظر اندازی کے باوجود خدا اتنا عالی ظرف ہے کہ سب کو عطا کئے جارہا ہے کہ شاید انسان اپنے رب کی معرفت حاصل کرلے۔ لیکن یہ موقع ایک مخصوص مدت تک ہے۔ اس کے بعد یہ مہلت ختم ہوجائے گی اور پھر جو لوگ رب کو پہچاننے میں ناکام ہوگئے وہ چھانٹ کر الگ کرلئے جائیں گے اور انصاف کے ساتھ فیصلہ سنادیا جائے گا۔
از پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

2 responses to this post.

  1. اسی لئے تو وہ اللہ ہے
    رب العالمین ہیں
    ہم تو اللہ کی صرف وہ ہی صفات جانتے ہیں جنہیں ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے
    مزید پوشیدگی میں کیا کچھ پنہاں ہے اللہ ہی جانتا ہے

    اس کی عبادت ہمارا فرض ہے اس لئے نہیں کہ وہ ہمارا رب ہے
    اس لئے کے عبادت اس کا ھق ہے

    جواب

  2. May Allah bless you. According to the Book of Wisdom(Quran) men n women cannot wait for results therefore they do believe in the Hereafter but not in reality n only by tongue. To follow the Prophet (p.b.u.h.) one is to be constantly in touch with the meaning of the Book of Wisdom then only then he will lead a straight path.

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s